ادب

کرسٹوفر مارلو (1564-1593) ایک ادیب یا جاسوس

جب بھی ہم انگلستان کے نامور ڈرامہ نگار کرسٹوفر مارلو کا مطالعہ کرتے ہیں، تو یہ سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ کیا وہ ایک اچھے ادیب تھے یا اچھے جاسوس۔ اگر دیکھا جائے تو مارلو کو دو باتوں کی وجہ سے شہرت ملی۔ اول یہ کہ وہ تخلیقی دنیا کے ایک جینیس تھے اور ان کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اگر وہ بے وقت نہ مرتے ، تو شیکسپیر کی بجائے وہ ڈرامے کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہوتے۔ دویم یہ کہ وہ انتہائی خوفناک اور پراسرار انداز میں قتل ہوئے، انہیں ملکہ برطانیہ کے ایک جاسوس انگرام فرائزر نے اپنے خنجر سے دائیں آنکھ پر ایسا مارا کہ ان کا بیجہ نکل آیا اور فوری طور پر ان کی موت واقع ہوئی۔ افسوس کی بات یہ کہ مارلو جیسے اہم اور شاندار فن کار کو قتل کرنے پر انگرام فرائزر کو کوئی سزا بھی نہیں ملی، بلکہ قتل کے ایک ماہ بعد ہی انہیں ملکہ نے اس بات پر جرم سے بری الذمہ قرار دیا کہ انہوں نے یہ سب کچھ اپنی دفاع میں کیا، کیونکہ ان پر خنجر کا پہلا وار مارلو ہی نے کیا تھا اور یہ انگرام فرائزر کی خوش قسمتی تھی کہ وہ خود قتل ہونے سے بال بال بچ گئے۔

اگر دیکھا جائے، تو مارلو نے اپنی اکتیس سال کی مختصر زندگی میں صرف چار ہی ڈرامے لکھے، ڈاکٹر فاسٹس، تیمورلنگ، مالٹا کا یہودی اور ایڈورڈ دوم، جو انتہائی شاندار ثابت ہوئے اور جنہیں بہت زیادہ سراہا گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ مارلو کے ڈراموں کی دنیا ایک بے چین دنیا ہے اور ان کے چاروں ڈراموں کے مرکزی کردار ہمیں ہر وقت انتہائی بے چین دکھائی دیتے ہیں، وہ سب دنیائی آسائشیں اور مسرتیں چاہتے ہیں اور انہیں شاہانہ زندگی اور دنیا جہاں کے حسن سے پیار ہے، جس کا اظہار ڈاکٹر فاسٹس تو مسلسل کرتا ہے اور ٹرائے کی دیوی ایلن پر ایسا فدا ہوتا ہے کہ جب شیطان ایلن کو اس کے سامنے پیش کرتا ہے تو وہ بے اختیار چیخ اٹھتا ہے کہ یہی ہے وہ حسین ماہ رخ جس کے لیئے ہزاروں جہاز جلے اور لاتعداد انسان مرے۔ مارلو کے کرداروں کا دنیائی پن اور حسن پرست ہونا اپنی جگہ لیکن ان کے متعلق سب سے تشویشناک بات یہ سامنے آتی ہے کہ وہ طاقت ور بننے اور زیادہ کامیابی حاصل کرنے کے لیئے شیطان کی دوستی کوبہت ضروری سمجھتے ہیں اور اس بات کا اظہار فاسٹس اور تیمورلنگ بار بار کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مارلو کے ڈراموں کے مرکزی کردار ان کی اپنی شخصیت کا عکس تو نہیں، کیا فاسٹس اور تیمور لنگ کی بے چینی ان کی اپنی بے چینی تو نہیں اور کیا یہ مارلو کا ہی خیال تو نہیں تھا کہ زیادہ کامیابی پانے کے لیئے شیطان کی دوستی ضروری ہے اور اسی لیئے وہ ڈرامہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ جاسوس بھی بن گئے۔

مارلو کا قتل ایک معمہ ہے اور اس سلسلے میں ادبی ناقد اور محقق اب تک تحقیقات کررہے ہیں اور مختلف کتابیں لکھ رہے ہیں۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ مارلو کو ملکہ برطانیہ نے ہی قتل کروایا، کیونکہ ان کے متعلق یہ بات ملکہ کے سامنے تھی کہ وہ ڈبل ایجنٹ ہیں، وہ ملکہ کے راز اس کے دشمنوں کو دے جاتے ہیں اور پھر وہ اپنے ادبی دوستوں اور دوسرے شرفاء کو بھی ان کی رازداریوں اور کمزوریوں کی بنا پر بلیک میل کرتے ہیں۔ اب یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ مارلو کیوں جاسوس بنے اور ملکہ برطانیہ کو ان کی جاسوسی کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

درحقیقت مارلو نے ایک بہت ہی غریب گھرانے میں آنکھ کھولی اور ان کے والد ایک معمولی سے موچی تھے، لیکن مارلو شروع ہی سے غضب کے ذہین تھے، اس لیئے وہ تعلیمی میدان میں تیزی سے آگے کی طرف بڑھے اورکیمبریج جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے تک پہنچ گئے، جہاں سے انہوں نے اعلیٰ تعلیم کی شاندار ڈگریاں بھی حاصل کیں۔ مارلو کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ عقیدے کے لحاظ سے کیتھولک تھے، جبکہ اس زمانے میں کیتھولک عقیدے کے پیروکاروں پر انگلستان میں سخت پابندی تھی اور پروٹسٹنٹ کے نام سے ملکہ کا اپنا ایک نیا فرقہ سامنے آرہا تھا۔ ملکہ کے اس نے فرقے کی بنا پر پاپائے روم اس سے سخت ناراض تھا اور سپین کا بادشاہ صلیبی جنگ کے حوالے سے انگلستان پر حملے کی تیاریاں کررہا تھا، تاکہ اقتدار ملکہ سے لے کر دوبارہ کسی نے کیتھولک بادشاہ کو سونپا جائے، اسی لیئے ملکہ اور اس کا جاسوس ادارہ دونوں اس بارے میں سخت حساس تھے۔ اس زمانے میں یہ بات مسلسل ملکہ کے علم میں لائی جارہی تھی کہ انگلستان میں اب بھی کیتھولک عقیدے کے پیروکار خفیہ طور پر اکھٹے ہوتے ہیں، اپنی عبادت کرتے ہیں اور اس بات پر غور و فکر بھی کہ ملکہ سے اقتدار چھیننے کے حوالے سے وہ پاپائے روم کی کیا مدد کرسکتے ہیں۔ اسی لیئے کرسٹوفر مارلو کا نام ملکہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ کیونکہ مارلو ہر رات کالج کے ہاسٹل سے غائب ہوتے اور ان کے متعلق یہ کہا جاتا کہ وہ کیتھولک عبادات میں شریک ہونے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اب مارلو کو ڈرایا اور دھمکایا گیا اور انہیں دھمکی، دھونس اور لالچ کی بنا پر یہ فریضہ سونپا گیا کہ وہ کیتھولک عقیدے کے لوگوں کے تمام راز ملکہ تک پہنچائے۔ کہتے ہیں کہ مارلو کو بھی اپنے مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور وہ تشکیک کا شکار تھے، اسی لیئے انہوں نے یہ کام بہت بہتر انداز میں کیا، لیکن چونکہ اپنے ہیروز کی طرح انہیں دولت اور شاہانہ پن سے پیار تھا، اسی لیئے انہوں نے ملکہ کے راز بھی ان کے دشمنوں کو دینے شروع کر دیئے، کیونکہ اپنے مضبوط نیٹ ورک اور جاسوس ساتھیوں کی مدد سے انہیں ملکہ کے راز بھی آسانی سے ہاتھ لگ جاتے۔

یہ حقیقت ہے کہ مارلو کو اپنے وقت میں ایک برا شخص گردانا گیا اور انہیں گمراہ کہا گیا، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب بھی ہم ان کے ڈراموں کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ان کی شاندار خصوصیات پر انہیں بے اختیار داد دے جاتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی آرٹ کے ایک شاندار فن پارے کو سامنے لایا جاتا ہے، تو تب فن کار کی نجی زندگی اس سے منفی ہوجاتی ہے اور ہم اس فن پارے کی خوبیوں پر ہی اس کے قیمتی ہونے کا اندازہ لگاتے ہیں۔ اسی لیئے جب بھی کرسٹوفر مارلو کا نام ہمارے سامنے آتا ہے، تو ہمیں کہیں بھی یہ نطر نہیں آتا کہ وہ ایک جاسوس تھے ، بلکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ شاندار پائے کے ایک ادیب اور تخلیق کار تھے اور اسی بناء پر اہل ادب ان کی قدر کرتے رہیں گے۔ بہرحال مارلو کی موت جن حالات میں بھی ہوئی، اسے ہمیشہ پوشکن کی موت کی طرح ادبی دنیا کے لیئے ایک بڑا سانحہ ہی سمجھا جائے گا۔

فاروق سرور