ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

کریڈٹ کارڈ فراڈ

عصر حاضر میں جتنی بھی محیر العقول ایجادات دکھائی دیتی ہیں، اسی عقل و علم اور ہنرمندی کے شہکار ہیں، جو اللہ نے انسان کو ودیعت کی۔تاہم اس سے بھی مفر ممکن نہیں کہ اسی عقل کا پیرایۂ اہرمن میں استعمال کا چلن بھی عام ہے۔ تازہ مثال پاکستان میں کریڈٹ کارڈ کا فراڈ ہے، جو دنیا بھر میں تو عام ہے پاکستان میں اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، جو سامنے آیا ہے۔

جیب میں رقم لے کر گھومنا چونکہ پرخطر ہے چنانچہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اے ٹی ایم اور کریڈٹ کارڈ کا استعمال شروع ہو گیا اور بڑھتا ہی چلا گیا۔ جس کی افادیت یہ ہے کہ آپ کو فوری طور پر مطلوبہ رقم بطور قرض مل جاتی ہے جو آپ بعد ازاں آسان قسطوں میں بھی ادا کر سکتے ہیں، علاوہ ازیں یہ کارڈ دنیا بھر میں کہیں بھی قابلِ قبول ہوتا ہے لیکن یہ سارا نظام کمپیوٹر سے منسلک ہوتا ہے اور ہیکرز کی دسترس میں، لہٰذا مغرب میں ایسے فراڈ سب سے زیادہ ہیں۔ کریڈٹ کارڈ سے خریداری کے لئے تین چیزیں لازم ہیں، کارڈ کا نمبر، اس کی تاریخ تنسیخ اور سی وی وی یعنی کارڈ ویریفکیشن ویلیو، بسا اوقات نام اور پتہ بھی۔ ان تمام چیزوں میں تین ہندسوں پر مشتمل سی وی وی کوڈ اہم ترین ہے جو کسی کے ہاتھ لگ گیا تو وہ ان تینوں تفصیلات کی مدد سے آپ کا کارڈ استعمال کر سکتا ہے۔

بینک کی اس حوالے سے ہدایت اہم ہے، کہ یہ تین ہندسے یاد کر کے ان کو کارڈ سے کھرچ ڈالیں۔ پاکستان میں اس حوالے سے غالباً سب سے زیادہ بے احتیاطی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، کسی بھی خریداری کے لئے بے پروائی سے کارڈ تھما دیا جاتا ہے، جس میں کارڈ مشین کے ساتھ ایک الیکٹرانک آلہ سکیم بھی لگا ہو سکتا ہے جو کارڈ کی ساری معلومات ریکارڈ کر لیتا ہے، بعض سٹورز پر تو دو مشینیں رکھی بھی اسی لئے جاتی ہیں۔ ایف آئی اے لاہور میں ایسے فراڈ کے دو ملزموں کی وسیع پیمانے پر تفتیش تو جاری ہے اور امید ہے کہ اس کا کوئی مستقل حل نکالنے کی کامیاب سعی کی جائے گی۔ البتہ کارڈ استعمال کرنے والوں کو بہرصورت احتیاط سے کام لینا چاہئے تاکہ وہ لٹنے سے بچ سکیں۔

تبصرے
Loading...