بلاگ

کزن میرج کی شرعی حیثیت

سوال:کزن میرج کی شرعی حیثیت کیا ہے، جدید طب کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ کزن میرج کی وجہ سے پیدا ہونے والی اولاد موروثی بیماریوں سے محفوظ نہیں رہتی، اس لئے اپنے رشتہ داروں سے باہر شادی کرنا چاہیے، وضاحت کریں؟

جواب:ہم مسلمان ہیں، ہمیں زندگی گزارنے کیلئے ہر قسم کی راہنمائی کتاب و سنت سے لینا چاہیے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ مغربی تہذیب جو بات کہے وہ حدیث بن جائے اور جس کی وہ مخالفت کرے ہم بھی سوچے سمجھے بغیر اس کی مخالفت شروع کر دیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ کی بعض ریاستوں میں کزن میرج پر قانونی پابندی عائد ہے کیونکہ ان کے نزدیک ایسا کرنا بیماریوں کو دعوت دینا ہے۔ ہم لوگ بھی ان کی دیکھا دیکھی اس طرح کا ذہن رکھتے ہیں کہ کزن میرج بیماریوں کا پیش خیمہ ہے اور ہمارے زرخرید میڈیا نے بھی اس قسم کا شور مچا رکھا ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے جو چیزیں حلال کی ہیں وہ ہر گز انسانوں کیلئے نقصان دہ نہیں اور جو چیزیں اسلام نے حرام کی ہیں وہ کسی صورت میں ہمارے لیے فائدہ مند نہیں بن سکتیں۔چنانچہ اس سلسلہ میں ہمیں قرآن و حدیث سے راہنمائی لینی چاہیے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:”اے نبی! ہم نے تمہارے لئے حلال کر دیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کئے ہیں اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں اور تمہاری وہ چچا زاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے۔ (الاحزاب: ۵۰)

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کزن میرج کی زد میں جتنے بھی رشتے آتے ہیں، ان کا نام لے کر وضاحت کی ہے کہ وہ تمہارے لئے حلال ہیں۔ اگر طبی نقطہ نظر سے ان میں کوئی خرابی ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے نبیﷺ کو اس سے منع کر دیتے اور آپ کی امت پر بھی پابندی لگا دیتے۔ لیکن اسلام نے ایسا کرنے کے بجائے ان رشتوں کی ترغیب دی ہے اور جن میں کوئی اخلاقی یا روحانی قسم کا خطرہ تھا ان پر پابندی لگائی ہے، مثلاً رسول اللہﷺ نے پھوپھی اور بھتیجی نیز خالہ اور بھانجی اس کے علاوہ دو حقیقی بہنوں کو بیک وقت اپنے نکاح میں رکھنے کو حرام کہا ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :اوریہ کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو النساء ( 23 ) ۔اوراسی طرح بیوی اوراس کی پھوپھی یا پھر بیوی اور اس کی خالہ کو ایک ہی نکاح میں جمع کرنا بھی حرام ہے ۔اس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ( تم عورت اوراس کی پھوپھو کے مابین جمع نہ کرو اور نہ ہی عورت اوراس کی خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرو ) متفق علیہ ۔اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اس طرح فرمایا ( اگر تم نے ایسا کیا تو تم قطع رحمی کروگے ) ۔کیونکہ سوکنوں کے مابین غیرت اوررقابت پائي جاتی ہے ، توجب ایک دوسری کی قریبی رشتہ دار ہوگي تو ان دونوں کے مابین قطع رحمی پیدا ہوجائے گی ، لیکن جب خاونداپنی بیوی کو طلاق دے دے اوراس کی طلاق ختم ہوجائے تو پھر اس کے لیے سالی اوربیوی کی پھوپھی اور خالہ سے نکاح کرنا حلال ہوگا کیونکہ اس وقت کوئی ممانعت نہيں رہی ۔

چنانچہ حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔ کزن میرج کی وجہ سے جو خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں ان کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ بعض موروثی امراض والدین سے اولاد میں منتقل ہو جائیں لیکن یہ بھی ضروری نہیں۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ایک نسل کسی مرض میں مبتلا رہی ہے تو اسی گھرانے کی کئی نسلیں بالکل اس مرض سے محفوظ رہتی ہیں۔بہرحال یہ لازمی نہیں کہ کزن میرج ہی بیماریوں کا سبب ہے بلکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ بیماریاں اللہ کی طرف سے ہیں وہ جس کو چاہتا ہے بیماری میں مبتلا کر دیتا ہے، کبھی بیماری کا کوئی سبب ہوتا ہے اور کبھی بغیر سبب کے بھی بیماری لگ جاتی ہے۔ ہمارے رجحان کے مطابق کزن میرج بالکل درست ہے اور ایسا کرنے سے بیمار اولاد کا پیدا ہونا ضروری نہیں۔(واللہ اعلم بالصواب)