اُردو صفحہ فیس بُک پیج

بلاگ معلومات

کورونا وائرس..!

آپ ایک سپر مارکیٹ میں شاپنگ کر رہے ہیں۔ آپ کے ساتھ آپ کی خوبرو اہلیہ ہے۔ اس نے اپنا بازو آپ کی کہنی کے گرد حائل کیا ہوا ہے۔ آپ دونوں نے ہاتھوں میں گرم کافی کے ڈسپوزایبل مَگ اٹھائے ہوئے ہیں۔ آپ ایک ہاتھ سے شاپنگ ٹرالی کو دھکیل رہے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے میٹھا دھواں ہوا میں پھونک دیتے ہیں۔ چلتے چلتے آپ مِیٹ مارکیٹ میں آجاتے ہیں۔ آپ کی شادی کو بمشکل دو سال ہوئے ہیں۔ آپ کا ایک سال کا بیٹا ہے جس کی ایک ہفتہ بعد پہلی سال گرہ ہونے والی ہے۔ آپ اور آپکی بیوی سال گرہ منانے کے لیے پرجوش ہیں۔آپ نے اعلی نسل کی مچھلی خریدی ہے۔ آپ کی بیوی نے سرخ گوشت کا ایک بڑا سالم ٹکڑا خریدا ہے۔ اسے اسٹِیکس بنانے میں خصوصی مہارت ہے۔ آپ نے بچے کے من پسند کارٹونوں کی تصاویر والا کیک خریدا ہے، کھلونے اور غبارے خریدے ہیں اور خوشی خوشی گھر چلے آتے ہیں۔

آپ شاپنگ سے واپس آ کر لیٹے ہیں کہ اسی رات آپ کو گلے میں خراش محسوس ہوتے ہے اور ساتھ ہی کھانسی بھی شروع ہو جاتی ہے۔ آپ کی بیوی آپ کو پانی پلاتی ہے اور گلا صاف کرنے کی گولی کھلاتی ہے۔ آپ قدرے بہتر محسوس کرنے لگتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ رات کے پچھلے پہر آپ شدید کھانسی کی آواز سے جاگ جاتے ہیں۔ آپ کی بیوی کو بھی کھانسی کا دورہ پڑا ہے۔ آپ اس کی مدد کرتے ہیں اور سونے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کو سردی لگتی ہے اور آپ پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے ۔ آپ کو دم گھٹتا ہوا محسوس ہو جاتا ہے۔

آپ اپنے فیملی ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے ہیں وہ آپ کو کھانسی اور بخار کے سیرپ تجویز کرتا ہےاس وقت آپ کی حالت کچھ سنبھلتی ہے لیکن اگلی رات پھر سے وپی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ ایک رات آپ نڈھال ہو کر گِر جاتے ہیں آپ کی بیوی کچھ دیر ہمت سے کام لیتی ہے اور پھر دَم گُھٹنے سے وہ بھی گر جاتی ہے ۔شدت کی کھانسی سے آپ کے پھیپھڑے پھٹتے محسوس ہوتے ہیں۔ گلے میں کانٹے اُگ جاتے ہیں اور بخار سے آپ کی جان نکلی جاتی ہے۔آپ سنبھلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کی بیوی بھی ایسا ہی کرتی ہے ۔مگر آپ بے بس ہو جاتے ہیں۔ آپ کو جان نکلتی محسوس ہوتی ہے اور آپ بے جان ہو جاتے ہیں۔ آپ کا بیٹا جس کی آج سال گرہ منائی جانی تھی، پھٹی پھٹی آنکھوں سے آپ کو دیکھ رہا ہے۔ وہ آپ کو ٹٹول ٹٹول کر پکار رہا ہے اور جگانے کی کوشش کر رہا ہے ۔مگر آپ بے جان ہو چکے ہوتے ہیں جبکہ آپ کی بیوی کا جسم بھی ٹھنڈا ہو رہا ہے۔

کورونا وائرس پہلی بار 1965 میں سامنے آیا۔سائنسدانوں کو اس کے ماخذ کا معلوم نہیں ہو سکا ۔ اسے اسکی مخصوص تاج (کراون) نما شباہت کی وجہ سے اسے کورونا وائرس کا نام دیا گیا۔ اس کی بہت سی اقسام ہیں مگر جنوری 2020 میں جو قسم سامنے آئی وہ مہلک ترین تھی۔ اس خوفناک وائرس کا شکار پہلا کیس دسمبر 2019 میں چین کے صوبے وہان میں سامنے آیا۔ کچھ لوگ عام نزلے،بخار اور سر درد کی دوا کے کیے ڈاکٹرز کے پاس آئے۔ ان کو روائتی دوا دے دی گئی مگر اس سے افاقہ نہیں ہوا بلکہ مرض بڑھتا گیا۔ رفتہ رفتہ ان کی صحت بگڑتی چلی گئی اور کچھ ہی دنوں میں ان کی موت ہو گئی۔ ایسا بہت سے دوسرے لوگوں کے ساتھ ہوا۔ سائنسدانوں نے اس بے وجہ موت کی وجہ جاننے کی کوشش کی اور مردہ جسموں سے ایک وائرس الگ کیا۔ 7 جنوری 2020 کو اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ کورونا وائرس کی ایک قسم ہے جو اس قسم کی اموات کا باعث بنا ہے۔اسے نوول (Novel)کورونا وائرس 2019 کا نام دیا گیا۔جب تک اس وائرس کی نشاندہی ہوتی تب تک صوبہ وہان کے باسی سارے چین اور کچھ دوسری ممالک میں بھی پھیل چکے تھے۔

کورونا وائرس آتشِ بَن کی طرح پھیل رہا ہے۔ابھی تک دنیا کے نو سے زائد ممالک جن میں امریکا،تھائی لینڈ،کوریا جاپان، ویت نام، سنگاپور وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چین کے چالیس صوبوں میں آٹھ سو سے زائد اور چین کے زیر انتظام ہانگ کانگ اور تائیوان میں بھی کچھ کیس سامنے آچکے ہیں۔ چین کو اس وقت طبی ایمرجنسی کا سامنا ہے۔پاکستان کے دو شہروں ملتان اور لاہور میں مبینہ طور پر کورونا وائرس سے متاثر چار افراد کی نشاندہی ہوئی ہے۔ یہ مرض متعدی ہے۔ یعنی یہ ایک جاندار سے دوسرے تک پھیلتا ہے۔ یہ جانوروں اور انسانوں دونوں کو متاثر کرتا ہے۔ انسانوں میں یہ عام نزلے کی طرح ہوا میں پھوار کی صورت میں پھیلتا ہے۔ اس کے علاوہ منہ کے راستے دخول کے بھی شواہد ہیں۔ چھینکنے، کھانسنے، متاثرہ شخص سے ہاتھ ملانے، معانقہ کرنے، لباس اور تولیہ وغیرہ استعمال کرنے حتی کے متاثرہ شخص کے دروازہ کھولنے کے بعد اگر آپ ننگے ہاتھوں اسی دروازے کو پکڑ لیں تو آپ پر بھی یہ وائرس حملہ آوور ہو سکتا ہے۔

کورونا وائرس گلے کی اوپری جِھلی پر اپنا نشیمن بناتا ہے۔ اگر گلہ تر ہو تو اس کے قدم اچھے سے جم نہیں پاتے۔ یہ اس کے سوکھنے کا انتظار کرتا ہے۔ یہ آپ کے نظام تنفس یعنی ناک،حلق اور پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے اور خاص قسم کا نمونیا کرواتا ہے۔ پہلے پہل آپ کو بخار، گلے میں درد، ناک بہنے، شدید کھانسی اور سانس لینے میں دشواری کی شکایت ہوتی ہے۔ اگر تین سے پانچ دنوں میں یہ ٹھیک نہ ہوں تو وائرس نظام تنفس کے نچلے حصوں یعنی پھیپیڑوں میں پھیل کر نمونیا کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کا زیادہ شکار کمزور قوت مدافعت والے اور عمر رسیدہ لوگ بنتے ہیں۔ یہ آپ کے گردوں میں بھی جا سکتا ہے اور اگر علاج نہ کیا جائے تو گردے ناکارہ کرنے میں دیر نہیں لگاتا۔ اس ہولناک بیماری کا ابھی تک کوئی علاج یا ویکسین مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے۔ چین اور آسٹریلیا میں سائسدانوں کو اس کی ویکسین بنانے میں کسی حد تک کامیابی ہوئی ہے مگر یہ ابھی تجرباتی عمل سے گزر رہی ہیں لہذا اس سے بچاو ہی واحد راستہ ہے۔ کھانسنے چھینکنے کے لیے ماسک(N95 زیادہ بہتر ہے)کا استعمال۔ ہاتھوں کو اچھے سے صابن سے دھونا، رش والی جگہ سے پرہیز،خوراک کو اچھے سے تیز حرارت پر پکا کر کھانا، غیر ضروری سفر سے پرہیز اور کورونا وائرس سے متاثر شخص سے کسی قسم کے جسمانی لمس یا اس کی استعمال شدہ چیزوں کے استعمال میں احتیاط سے اس بیماری سے بچنا ممکن ہے۔

مزید پڑھیں: یہ ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے!

چین نے اس طبی آفت کے ساتھ نمٹنے کے لیے صحت کی بہترین سہولیات کے ساتھ ساتھ اعلی ترین انتظامی اقدامات کیے ہیں۔ ادھر ہمارے وطن عزیز میں خوشی کی لہر چلی ہوئی ہے جس میں اس وائرس کو خدائی نُصرت اور کافروں سے مسلمانوں کے انتقام جیسے بیوقوفانہ تبصرے ہو رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ چینی عورتیں نقاب نہیں کرتی تھی لہذا اب سزا کے طور پر ان کے مردوں کو بھی نقاب کروا دیا گیا ہے ۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ چینی ناشتے میں اڑتی چمگادڑیں پکڑ کر انکا خون پی لیتے ہیں اور لنچ میں چوہے، بچھو ،سانپ وغیرہ بُھون بُھون کے کھاتے ہیں جبکہ ہم اصلی حلال مرغ مسلم کو شہید کر کے مرغے کی شہادت کا ثواب اور ٹانگ کا گوشت دونوں حاصل کرتے ہیں لہزا یہ وائرس جانے اور چینی جانیں۔ مریں سڑیں ہمیں کیا لینا دینا۔ ہم مسلمانوں کا کسی نے کیا بگاڑ لینا ہے۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وائرس کے ہاں کسی مزہب کی کوئی تمیز ہے نہ رنگ و نسل کی۔ اور اگر اللہ نے ایسا ہی عذاب دینا ہے تو چین میں اوسط عمر 76 سال ہے اور پاکستان میں 66 برس ہے ۔ یعنی یہ لوگ ہم سے دس سال زیادہ اللہ کی نعمتوں کا لطف اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح جاپان میں 84 برس،سویٹزر لینڈ اور اسپین 83 برس،آسٹریلیا،سنگاپور،اٹلی، کینیڈا اور فرانس میں 82 برس جبکہ امارات اسلامیہ افغانستان میں 62 برس ہے۔ اول الذکر تمام ممالک حرام چیزیں کھاتے ہیں، بے حیا ہیں، لہو و لعب میں پڑے ہیں، شراب پیتے لیکن کیا وجہ ہے کہ ان سے بدلہ نہیں لیا جاتا ہے۔ اگر قدرت کورونا وائرس کے ذریعے کافروں سے انتقام لے رہی ہے تو ہر سال گرمیوں میں ڈینگی، برسات میں سیلاب، جاڑے میں برفانی تودے، بارشوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور زلزلے یہ سب ہم مسلمانوں پر ہی کیوں آتے ہیں ہم تو خود کو قدرت کے چہیتے سمجھتے ہیں۔

ہمیں بجائے خوشیاں منانے کے اجتماعی طور پر اس بیماری سے اپنے لیے اور چینیوں کے لیے بھی پناہ مانگنی چاہیے۔ یہ مسائل انسانوں کی صلاحیتوں کہ آزمائش ہوتے ہیں۔ ان سے مل جل کر مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ وگرنہ 1720 کا چکن پاکس اور طاعون ،1820 کا ہیضہ اور ٹائیفائیڈ 1920 کے طاعون (پلیگ) کی طرح 2020 کا کورونا وائرس چھ کروڑ سے زائد لوگوں کو مار کر تاریخ میں موٹے حرفوں درج ہو جائے گا۔