اُردو صفحہ فیس بُک پیج

صحت معلومات

کورونا سے زیادہ خطرناک وائرس!

آج کل ہر سو کورونا وائرس کی باتیں ہیں۔ پرنٹ، الیکٹرانک، سوشل میڈیا ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ کوئی اس کے پھیلنے کی وجوہات بیان کررہا ہے، تو کوئی اس سے بچنے کی حفاظتی تدابیر کو دوسروں تک پہنچا کر اپنے تئیں انسانیت کی خدمت میں مصروف ہے۔ ہر طرف معلومات کی بھرمار ہے۔ یہ معلومات حقیقت پر مبنی ہیں یا ان میں مبالغہ آرائی ہے اس بات کی تحقیق کرنے کا کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔ ایسے میں چند ایک سرپھرے بھی ہیں جو لوگوں تک حقیقت حال پہنچا کر اپنے اوپر چائنا کے تنخواہ دار ہونے کا لیبل لگوا چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کو وطن واپس لانا چاہیے؟

کورونا وائرس کی وجہ سے تادمِ تحریر 362 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر عالمی ادارہِ صحت ڈبلیو ایچ او نے اسے ایک عالمی ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔ پوری دنیا بالعموم اور چائنا بالخصوص اس وائرس کا جس احسن طریقے سے مقابلہ کررہی ہے اس کی جس قدر تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ اگر اسی طریقے سے منشیات جیسے انسانیت کش وائرس کا مقابلہ بھی کیا جاتا تو یہ انسانیت کی عظیم خدمت ہوتی۔ عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا میں نشے کے شکار افراد کی تعداد تین کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ 2017 میں منشیات کے استعمال کی وجہ سے 5 لاکھ 85 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی۔ دنیا میں ایک کروڑ 80 لاکھ افراد کوکین کا استعمال کرتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ پاکستان میں دہشت گردی کے باعث 70 ہزار سے زائد افراد نے اپنی جانیں قربان کیں، لیکن ہر سال پاکستان میں اس سے تین گنا زیادہ ہلاکتیں منشیات کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

کاش دنیا میں منشیات کے خلاف بھی اسی طرح آواز بلند کی جائے جس طرح کورونا وائرس کے خلاف پوری دنیا ہم آواز ہے۔ کاش دنیا بھر کا میڈیا کورونا وائرس کی طرح منشیات نامی وائرس کے بارے میں بھی لوگوں کو اسی طرح آگہی فراہم کرے۔ کاش عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او منشیات کے خلاف بھی عالمی ایمرجنسی لگا دے۔ اگر ایسا ہوجائے تو نجانے کتنے گھر اجڑنے سے بچ جائیں گے، کتنے ہی لعل مٹی میں ملنے سے بچ جائیں۔ ایک اور خطرناک وائرس جس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ خودکشی کا وائرس ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال ایک ملین افراد خودکشی کرتے ہیں۔ یعنی آپ یوں کہہ لیں کہ ہر چالیس سیکنڈ میں ایک فرد اور ہر روز تین ہزار افراد خودکشی کرتے ہیں۔

مندرجہ بالا اعداد و شمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ ’’منشیات‘‘ اور ’’خودکشی‘‘ کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک ہیں۔ جن کے خلاف پوری دنیا کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سلسلے میں عالمی سطح پر کورونا وائرس کی طرز پر آگہی مہم چلائی جائے۔ وہ عوامل جو لوگوں کو خودکشی اور منشیات کی طرف راغب کرتے ہیں، ان کی وجوہات تلاش کرکے ان کا تدارک کیا جائے۔ بصورت دیگر دنیا کورونا وائرس سے تو بچ جائے گی، لیکن ’’منشیات‘‘ اور ’’خودکشی‘‘ جیسے خطرناک وائرس ہماری آنے والی نسلوں کو نگل لیں گے۔