بلاگ

کورونا کی عالمی وبا اور ہمارے رویہ جات

میں تقریباً بارہ سال سے سائنس کے مختلف موضوعات پر بات چیت کرنے کا کام کر رہا ہوں۔ میں آپکو یقین دلاتا ہوں کہ یہ نہایت بدترین صورتِ حال ہے جہاں شکوک و شُبہات اور سازشی نظریات کو کم علمی اور سوشل میڈیا تک آسان رسائی کے ذریعے خطرناک حد تک بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت تنقیدی سوچ کی ضرورت بھی سب سے زیادہ ہے۔ لاکھوں کروڑوں لوگوں کی زندگیاں خطرات سے دوچار ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ لوگ باہمی تعاون کے لئے ایک دوسرے کے قریب آئیں تاکہ اس عالمی خطرے کا حل نکال سکیں جسے اگر روکا نہ گیا تو یہ ہماری نوع کا ایک بڑا حصہ ختم کر دینے کی پوری اہلیت رکھتا ہے لیکن اکثر لوگ اس کے برعکس جھگڑے، سازشی نظریات اور ایسی باتوں کے متعلق غلط معلومات پھیلا رہے ہیں جن کے بارے میں وہ بلکل بھی نہیں جانتے۔

ایک خاص حد تک تشکیک کا ہونا اچھی بات ہے اس کا حد سے زیادہ وجود خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ سچائی اور آپ کے بیچ حائل ہو کر نئے آئیڈیاز تک آپکی رسائی میں مشکل پیدا کر سکتی ہے۔ اس ضمن میں اعتدال اور توازن بہت ضروری ہے۔اکثر جب سائنسی شواہد لوگوں کی ذاتی آراء اور نظریات کے خلاف آتے ہیں تو میں نے ایسے افراد کو سائنسی شواہد پر اعتراض کرتے ہوئے "خوف و ہراس پھیلانا”، "جعلی خبر” اور "بلاوجہ کی اشتہار بازی” جیسی اصطلاحات استعمال کرتے دیکھا ہے۔ کوئی ایسی سائنسی تحقیق جو ان کے نظریات سے مماثلت رکھے اسے یہ بغیر اس کے سورس اور سائنسی شواہد کو پرکھے من و عن تسلیم کریں گے اور اسے مزید آگے بھی پھیلائیں گے۔

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر ساری دنیا کووڈ-١٩ کو نظرانداز کر دیتی تو کیا ہوتا؟ ہم ایک پُراسرار بیماری سے مرنے والوں کی لاشیں اپنی گلیوں میں پڑی دیکھتے۔ ہم مجبور ہوتے اور اس کے خلاف کچھ نہ کر پاتے۔ آخر یہ ایک نزلہ زکام اور فلو سا ہی تو ہونا تھا۔ شاید اس وقت حالت سنہ 1347 کی طاعون کی عالمی وبا (Black Death Pandemic) جیسی ہوتی جس سے 200 ملین لوگ لُقمہ اجل بن گئے جبکہ اس وقت دنیا کی آبادی 450 ملین سے زیادہ نہیں تھی۔ ہم قرونِ وسطی کی اس قدیم آبادی کی طرح رہتے جنہیں جراثیموں، وائرسز، بیکٹیریاز وغیرہ کے متعلق کچھ علم نہیں تھا کہ یہ کیسے انسانوں کو بیمار کرتے ہیں۔ اس قدر ٹیکنالوجی اور سائنسی انقلاب کے بعد بھی اگر کچھ افراد کووڈ-١٩ کی صورتِ حال پر لیے جانے والے عالمی اقدامات کو محض "خوف و ہراس” اور "جعلی خبریں” کہہ کر ہوا میں اڑا رہے ہیں تو یہ دراصل ہمیں اسی قرونِ وسطی کے دور میں دھکیل رہے ہیں جہاں انسان ان وائرسز اور دیگر جراثیموں کے متعلق کچھ نہیں جانتا تھا۔

میں خود ذاتی طور پر ایسے افراد کو جانتا ہوں جنہوں نے کووڈ-١٩ کو نظر انداز کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر کو پسِ پشت ڈالا اور اپنے عزیزوں کو پھر موت کے منہ میں جاتا دیکھ کر اس عالمی وبا پر سنجیدگی دکھانا شروع کی۔ تب انہیں احساس ہوا کہ جو اعداد و شمار ہم روز خبروں میں دیکھ رہے ہیں وہ حقیقی افراد ہی تھے جن سے پیار کرنے والے بھی بہت تھے، جنہوں نے زندگی کے ناجانے کتنے منصوبے بنائے تھے جنہیں وہ اپنے لئے یادگار بنانا چاہتے تھے۔ لیکن موت نے انہیں مہلت نہیں دی۔

کیا آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ کسی عزیز کسی پیارے کو کھو دینا کیسا احساس ہے؟ یہ یقیناً کسی بھیانک احساس سے کم نہیں۔ ایک شخص جس سے آپ کی ایک لمبے عرصے سے وابستگی ہو اور ایک پلک جھپکنے میں وہ آپ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دُور ہو جائے۔اس دوران لاکھوں لوگ اگر اسے "خوف و ہراس پھیلانا” یا ” فیک نیوز” وغیرہ کہیں تو یقیناً یہ اس عالمی وبا کا شکار ہونے والے افراد کا تمسخر ہے۔ یہ ان سائنسی شواہد اور ان سائنسی علوم کی توہین اور تمسخر ہے جسے اکٹھا کرتے ہمیں کئی دہائیاں لگی ہیں۔ یہ نوعِ انسانی کی اجتماعی ذہانت کی توہین ہے۔

اس عالمی وبا کے دوران میں شروع سے سائنس کی طرف رہا ہوں جس کی ایک قیمت مجھے یہ چُکانا پڑی کہ مجھے کبھی چین کی طرف سے پیسے دئیے جانے کا الزام سہنا پڑا تو کبھی عالمی ادارہ صحت (WHO) کی طرف سے، کبھی فری میسن کی طرف سے مجھے فنانس کئے جانے کا لکھا گیا تو کہیں بل گیٹس اور دیگر دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے۔میں نے ایسے الزامات کو نظر انداز کرنا ہی بہتر سمجھا۔ نظرانداز اس لئے نہیں کیا کہ میرے پاس اپنے دفاع کے لئے کچھ نہیں تھا بلکہ اس لئے کہ اس وقت میرے پاس توجہ دینے اور اپنی توانائیاں صَرف کرنے کے لئے ان مسائل سے بڑا مسئلہ کووڈ-١٩ کی عالمی وبا کی شکل میں موجود ہے۔

آپ سب کی طرح میں بھی اس عالمی وبا کا جلد سے جلد خاتمہ چاہتا ہوں۔ تاکہ ہم جلدی اپنی زندگیوں میں واپس جا سکیں۔ اس ضمن میں اس وائرس کے متعلق نئے حقائق جاننا اور جانتے رہنا بہت ضروری ہے چاہے وہ ہماری خواہشات کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔ وائرس کا ہم انسانوں کے خلاف رویہ جاننا اور سیکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ ہم خود کو اور اپنے پیاروں کو بہتر طریقے سے محفوظ رکھ کر اس عالمی وبا کے دوران انسانی زندگی کے نقصانات کو کم سے کم سطح تک لے جا سکیں۔

براہ کرم! آئیے اور اس وبا کے دوران نہ صرف سماجی فاصلے (Social Distancing) کی احتیاطی تدبیر پر سختی سے عمل کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیں بلکہ حقائق کو بھی صرف مُستند ذرائع سے ہی حاصل کریں۔ یہ بلاوجہ کا خوف و ہراس نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقی خطرہ ہے اور اگر ہم محتاط نہ ہوئے تو آج نہیں تو کل یہ آپ تک یا مجھ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ ہم نے اس سے ضرورت سے زیادہ خوفزدہ بھی نہیں ہونا۔ اس عارضی مشکل وقت میں مضبوط اور محتاط رہنا ہے۔ یہ کٹھن وقت گزر جائے گا۔ کوووڈ-١٩ سے ہماری جنگ میں ہم فاتح بن کر ابھریں گے کیونکہ آخر یہ دنیا کا اختتام تو نہیں ہے۔محفوظ رہیں۔