خبریں معلومات

سانحہ ساہیوال کے مکمل حقائق

سانحہ ساہیوال کاپسِ منظر سمجھے بغیر اس پہ گفتگو کرنا بہت سی غلط فہمیوں کو جنم دے رہا ہے۔ افغانستان میں موجود داعش کی مدد سے پنجاب میں پنپنے والے دہشت گردوں کے نئے نیٹ ورک کا صفایا کرنے کےلیے آپریشن ذوالفقار سنہ 2017 میں شروع کیا گیا۔ اس نیٹ ورک نے دہشت گردی کی کئی وارداتیں کیں جن میں ویرن وائن سٹائن نامی امریکی کے اغواء کے بعد قتل، انسپکٹر عمر مبین کے قتل،سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کے بھتیجے کا اغواءاور سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کے ملتان سے اغواء جیسی گھناؤنی وارداتیں شامل ہیں۔ آٹھ افراد پہ مشتمل اس گروہ کا امیر عبدالرحمان اور نائب امیر عدیل حفیظ تھا جب کہ باقی چھ افراد میں عثمان ہارون، کاشف چھوٹو، ذیشان بہ طورِ سہولت کار، رضوان اکرم، عمران ساقی، زبیر، اور شاہد جبار شامل تھے۔

اپریل 2017 میں ملتان کینٹ میں جب انسپکٹر عمر اور انسپکٹر یاسر سمیت دیگر سکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا گیا تو قتل کی واردات سے پہلے اور بعد میں سکیورٹی کیمروں پر ایک ہنڈا سٹی کار کی نشاندہی ہوئی جس کا نمبر ایل ای 7039 تھا۔ اس واقعہ کے بعد دوبارہ یہ کار فیصل آباد میں سکیورٹی اہلکاروں کی نظر میں آ ئی اور اس کے نتیجے میں عدیل حفیظ اور عثمان ہارون نامی دو دہشت گرد پہچان لیے گئے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں دہشت گرد ریڈ بک میں شامل تھے اور سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی نے بھی اپنی بازیابی کے بعد دورانِ تفتیش ان دہشت گردوں کی تصاویر شناخت کیں تھی۔ گاڑی کے دیکھے جانے کے بعد خاموشی سے اس کی نگرانی کی گئی اور چودہ جنوری کی شام فیصل آباد میں موجود دونوں دہشت گردوں کا خفیہ ٹھکانہ بھی نظر میں آگیا۔ چودہ اور پندرہ جنوری کی درمیانی رات کو دہشت گردوں کے اس ٹھکانے پہ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے اپنی جان پہ کھیل کر کامیاب خفیہ آپریشن کیا ۔ فائرنگ کے تبادلے میں دونوں دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد عدیل حفیظ کے سامان سے ملنے والی یو ایس بی کو چیک کیا گیا تو اس میں اسی گروہ کے رکن دہشت گرد رضوان اکرم کے ہاتھوں انسپکٹر عمر مبین کی شہادت کے وقت کی تصویر بھی ملی اور شہادت سے قبل دیا گیا بیان بھی اسی یو ایس بی سے ملا۔ پکڑی جانے والی ہنڈا سٹی سے 6 خود کُش جیکٹس، 24 گرنیڈز، 2 کلاشنکوفس، آدھا کلو دھماکہ خیز مواد اور بڑی تعداد میں گولیاں اور ڈیٹو نیٹرز برآمد ہوئے۔

کاروائی کامیاب تھی مگر اس نیٹ ورک کے کچھ دہشت گرد اب بھی باقی تھے۔ لہٰذا فیصلہ ہوا کہ اسی ہنڈا سٹی کی نقل و حرکت کو پچھلی تاریخوں میں شہر بھر کے سکیورٹی کیمروں میں چیک کیا جائے تا کہ مزید شواہد سامنے آئیں۔ ٹال پلازہ پہ لگے سیکورٹی کیمروں کی مدد سے پتہ چلا کہ کار لاہور سے آئی تھی۔ سیف سٹی کیمروں کے زریعے جانچ پڑتال کرنے پر پتہ لگا کہ 13 جنوری کو یہی کار کچا جیل روڈ کوٹ لکھپت پہ گھوم رہی تھی جب کہ اسی کار کے ساتھ ساتھ ایک سوزوکی آلٹو نمبر ایل ای اے 6683 بھی دکھائی دے رہی تھی۔ اسی شام کو چار بجے وہی ہنڈا سٹی اسی سوزوکی آلٹو گاڑی کے ساتھ دوبارہ دکھائی دی۔ریکارڈ پر پہلے سے آنے والی ہنڈا سٹی کے ساتھ اس سوزوکی آلٹو کی مشکوک نقل و حرکت نے سکیورٹی اہلکاروں کے کان کھڑے کر دیے جو لاہور سے ساہیوال کے درمیان بار باراکھٹی نظر آ رہی تھی۔ سترہ جنوری کو یہ گاڑی چنگی امر سدھوکی ایک تنگ گلی میں دکھائی دی۔ چودہ جنوری کی رات مارے جانے والے دہشت گرد عدیل حفیظ کی سم کا سنگل کیچنگ ریکارڈ چیک کیا گیا تو پتہ چلا کہ بارہ جنوری کوعدیل حفیظ کی موبائل سم بھی اسی علاقے میں چل رہی تھی اور وہ اسی لوکیشن پہ موجود تھا۔اس گاڑی کا ریکارڈ نکلوانے پر پتہ چلا کہ یہ گاڑی عدیل حفیظ کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ ریڈار پہ آنے کے بعد یہ آلٹو کار انیس جنوری کو بھاری سازو سامان کے ساتھ مانگا منڈی سے جنوب کی جانب سفر کرتی ہوئی سکیورٹی کیمروں پہ دکھائی دی ۔ سکیورٹی کیمروں سے حاصل ہونےو الی فوٹیجز میں فرنٹ سیٹ پر دو شخص بیٹھے دکھائی دیے جبکہ پچھلا حصہ سامان سے لدا ہوا تھا۔اپنے پچھلے ریکارڈ کی بنا پر کار کی نقل و حرکت سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ بچ جانے والے دہشت گرد اس کار میں کہیں اور منتقل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہنگامی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس گاڑی کے متعلق تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا کہ جہاں کہیں بھی نظر آئے یہ گاڑی روکی جائے۔ اس سے پہلے جو ہنڈا سٹی گاڑی پکڑی گئی تھی اس میں بھاری تعداد میں اسلحہ و بارود تھا لہٰذا اس گاڑی کے متعلق بھی خبردار کیا گیا کہ اس میں اسلحہ و بارود موجود ہو گا۔ یہ گاڑی ساہیوال جاتے ہوئے سی ٹی ڈی ساہیوال کے ریڈار میں آ ئی جس کے نتیجے میں سانحہ ساہیوال کا بدقسمت واقعہ پیش آیا۔ ذیشان کی موت کی خبر میڈیا پر عام ہوئی تو اسی شام کو اس گروہ کے دو دہشت عبدالرحمان اور کاشف جو گوجرانوالہ میں چھپے تھے فرار ہونے کےلیے نکلے۔

پنجاب بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہونے کی وجہ سے وہ گوجرانوالہ میں شیرانوالہ گیٹ کے مقام پر نظروں میں آ گئے۔ آتشیں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کے شبہ پر آبادی سے باہر نکلنے تک ان کا تعاقب کیا گیا اور شہر سے باہر آتے ہی ان کا خاتمہ کر دیا گیا۔ یہ دونوں دہشت گرد بھی ریڈ بک میں شامل تھے اور ان کے قبضے سے خود جیکٹس برآمد ہوئیں۔ ذیشان سے ملنے والے موبائل فون کو چیک کرنے پر فیصل آباد میں مارے جانے والے دہشت گرد عثمان کے ساتھ سیلفی اور انسپکٹر عمر مبین کے قاتل رضوان کی تصویر ملی، اس کے علاوہ میسجز اور وائس میسجز ملے جن میں دہشت گردوں کےلیے خود کُش بمبار مہیا کرنے کی بات چیت ہوئی تھی۔ ذیشان ساہیوال تک اس فیملی کی آڑ لے کر پہنچنا چاہتا تھا اور گاڑی میں موجود ہتھیار چھپانے کےلیے اس فیملی کو ساتھ لے کر بہ طورِ ڈرائیور جا رہا تھا جو وہ بدقسمتی سے ذیشان کے ساتھ ہونے کی بنا پر ماری گئی۔بلا شبہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کی عفریت سے چھٹکارے کےلیے قوم نے ہمیشہ حوصلے اور صبر کا مظاہرہ کیا۔ یہ قوم اور مسلح اداروں کی مشترکہ قربانیاں ہی ہیں جن کی وجہ سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوا۔ دہشت گرد دم توڑ چکے ہیں، بیرونی قوتوں اور اندر موجود سہولت کاروں کی وجہ سے تھریٹس آتے ہیں اور ان کا خاتمہ ہوتا رہتا ہے۔ قوم کاساتھ رہا تو ان شاء اللہ تھریٹس کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔

تحریر: سنگین علی زادہ۔