بلاگ

کو ایجوکیشن

کورٹ شپ ڈسپلے (courtship display) جانوروں کی جبلت میں پایا جانے والا ایک بہت دلچسپ عمل/رویہ ہے۔ نر (اور کچھ اسپی شیز میں مادہ) اپنی کسی مخصوص خوبی یا مہارت کا کھلے عام مظاہرہ کر کے جنسِ مخالف کو اٹریکٹ کرتے ہیں۔ مور اپنے حسین پنکھ کھول کر رقص کرتا ہے، دیگر اسپی شیز بھی اپنے اپنے رنگ، خوشبو، طاقت، فَن وغیرہ کو اجاگر کر کے مادہ کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی کبھار شدید جنگ ہوتی ہے نروں کے درمیان، ہر کوئی چاہتا ہے مادہ اسی کی نسل آگے بڑھائے۔ ان جانداروں کی “فتح و شکست” کا مکمل دارومدار ان کی مادہ (چند معدودے اسپی شیز میں نر) کے فیصلے پر ہوتا ہے۔

اگر ایک منٹ کے لیے انسان بن کر سوچیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس رقص، تحفے تحائف، حسن و زینت کی نمائش وغیرہ پر توانائی خرچ کرنے کی بجائے اگر یہ کوئی معاہدہ وغیرہ آپس میں کر لیں اور نر مادہ آپس میں باریاں لگا لیں تو ان سب کے وقت اور انرجی کی کرنی بچت ہو جائے۔ مگر پھر میں انسانی زاویہ نگاہ سے بھی اوپر اٹھ کر انسانوں کو ہی دیکھتا ہوں تو کورٹ شپ ڈسپلے کے چونچلے یہاں بھی پورے زور کے ساتھ نافذ العمل نظر آتے ہیں۔ میں نے میڈیکل کالج میں پانچ سال گزارے، میں نے دیکھا کہ زیادہ تر “نر” اور “مادہ” ابلتے ہوئے ہارمونز کا سیلاب اندر سمیٹے ہوئے پہلی دفعہ ایک کمرے میں “اکٹھے” کیے گئے تو ہر کسی نے اپنی طرز کا کورٹ شپ ڈسپلے مظاہرہ کیا۔ جسے کھیلنا آتا تھا اس نے میدان میں اپنی توانائی لگائی، جسے بولنا آتا تھا اس نے تقریر کر کے خود کو نمایاں کرنے کی سعی کی، جسے لکھنا آتا تھا اس نے ادھر جان لگائی، جس کی آواز اچھی تھی وہ گا کر نمایاں ہوا، جس کی شکل اچھی تھی اس نے اسے مزید سنوارا، جس کے پاس کچھ نہیں تھا اس نے پڑھائی کو اوڑھنا بچھونا بنا کے اس میدان میں کامیاب ہو کے اپنی “فِٹنس” دکھانا چاہی۔ مور کے پنکھ کھول کے ناچنے میں، پرندوں کے رقص، مکڑی کے لطیف جال بُننے اور دیگر اسپی شیز کے نروں کی ایک دوسرے سے ہاتھا پائی کر کے مادہ کو جیتنے کی کوشش اور اوپر بیان کردہ حکمت عملی میں بنیادی فرق کیا ہے؟ محرکات وہی، اہداف وہی، رویہ وہی، ہارمون وہی، فطرت وہی۔۔۔

ایک پل کے لیے سوچیں تو شاید فائدہ مند ہی ہے، صلاحیتوں میں نکھار آتا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ آپ جو کرنے آئے ہیں اگر وہ کرنے کی بجائے فقط اسی میں تمام توانائ صرف ہو جائے تو؟ مور سارا دن ناچ کر یار مناتا رہے، نہ کھانے کی فکر کرے نہ بچاؤ کی۔ یا بھوک سے مرے گا یا درندے کی خوراک بنے گا۔ یعنی جبلی افعال پے جبلت ہی کنٹرول یا چیک نافذ کرتی ہے۔ مگر انسان کے معاملے میں یہ “چیک/کنٹرول” کوئی فوری نتائج کی صورت نظر نہیں آتے۔ فضول کاموں میں وقت ضائع کرنے کے نتائج چند سالوں بعد سامنے آتے ہیں۔ نتائج ظاہر ہونے میں اس تاخیر کی وجہ سے غفلت میں پڑے رہ کر اسی کورٹ شپ ڈسپلے میں لگے رہنے کے امکانات وسیع ہیں۔ انسانوں میں اس پر “کنٹرول رکھنے” کا صرف ایک طریقہ ہے۔ کورٹ شِپ ڈسپلے کا اختتام جس عمل پر ہوتا ہے (یعنی سیکس) اس کو اتنا عام اور آسان کر دیں کہ یہ عمل اپنے منطقی انجام کو پہنچے اور لوگ یہاں سے فراغت پا کر اپنے اصل مقاصد (تعلیمی و تعمیری) کی طرف یکسُو ہوں۔ یہی کام گورے نے کیا ہے۔ مرد و زن کو ہر جگہ اکٹھا کیا ہے، کورٹ شِپ ڈسپلے چلتے ہیں، فن کار نر فن کار مادہ کے ساتھ وقت گزار کے منطقی انجام تک پہنچتا ہے، صبح کام پے لگا ہوتا ہے۔

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ co education کے بغیر مرد و زن اختلاط و برتاؤ کے آداب سیکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں، ان سے عرض ہے کہ جس عمر میں آپ لڑکے لڑکیوں کو کالج بھیجتے ہیں، اس عمر میں ویسے ہی ہارمون آپے سے باہر ہوتے ہیں۔ اس پر مستزاد جو چہار سُو جنسی ہیجان اور ننگ دھڑنگ کا طوفان ہے، نوجوان ویسے ہی ٹائم بمب بنے ہوئے ہیں۔ پھر آپ کے معاشرے کی منافقت یہ ہے کہ نہ یہ پورا تیتر ہے نہ پورا بٹیر۔ کورٹ شِپ ڈسپلے کے بعد جو “منطقی انجام” کے راستے ہیں ادھر آپ نے پہرے دار بِٹھا رکھے ہیں۔ اب ہوتا کیا ہے؟ ساری توانائی جنس مخالف کو امپریس کرنے میں، آگے راستہ بند ملنے پے اسی مرحلے پے اڑے رہنے کے بعد مسلسل دیوار پے سر مار مار کے نکھٹو ہوتے، جنسی گھٹن کا شکار “نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم” کی تصویر بنے نوجوان! آداب “کٹّا” سیکھیں، یہاں تو ناکاروں کی ایک فوج پیدا ہو رہی ہے بس۔ اور فوج بھی ایسی اخلاق باختہ اور تربیت سے عاری کہ خدا کی پناہ۔ اگر گورے کی رِیس کرنی ہی ہے تو پوری کرو بھائی۔ ورنہ کوئی اپنا سسٹم لاؤ۔ یہ ہائبرڈ طریقہ تو ابھی تک فیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اختلاط کے آداب سکھانے ہیں تو اس کے لیے کوئی متبادل لائیں۔ مرد و زن کو اکٹھا کریں، مگر ان کی جنسی توانائیوں کو کسی مثبت سمت میں چینل کرنے کا بھی بندوبست کریں۔ یا جلدی شادیوں کو عام کریں، یا متعہ کو رواج دیں، یا پھر غوری پورا آن دیو گوروں کی جنسی آزادی کا!

تحریر : عزیر سرویہ