بلاگ

معذرت کے ساتھ (سینما لیکس)

لاہور کے ایک سینما گھر نے نائٹ ویژن کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کی گئی ویڈیو کلپ ریلیز کی ہے جس میں سینما میں بیٹھے مختلف جوڑے فحش حرکات میں مصروف دکھائی دے رہے تھے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ہوٹل کے کمرے سے سینما کی دو ٹکٹیں کہیں زیادہ سستی پڑتی ہیں، ائیرکنڈیشنڈ ماحول، اندھیرا اور نسبتاً کم تعداد میں شائقین کیونکہ یہ والے جوڑے عام طور پر وہی فلمیں دیکھنے جاتے ہیں جو یا تو پِٹ چکی ہوتی ہیں یا پھر کم رش لے رہی ہوتی ہیں۔ یقینناً یہ بے راہ روی ہے، بے حیائی ہے جس کی اجازت دنیا کا کوئی بھی مہذب معاشرہ نہیں دیتا – مغرب کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں لیکن وہاں بھی لڑکی کے والدین حتی الامکان اس پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان جیسے اسلامی، روایتی مشرقی معاشرے میں نوجوان جوڑوں کو اتنی آفت کیوں چڑھ گئی کہ اب وہ سینما میں دوسرے لوگوں کی موجودگی میں بھی بے حیائی والے کام کرنے پر مجبور ہوگئے؟ کیا ان لوگوں کو جوانی زیادہ چڑھ گئی جو آج سے صرف ایک نسل پہلے کے لوگوں کو نہیں چڑھتی تھی یا ان لوگوں نے جنسی جذبے میں اضافے کی گولیاں کھانا شروع کردیں؟ جواب یقینناً ناں میں ہوگا۔ اگلا سوال پھر یہ بنتا ہے کہ کیا نوجوانوں کے والدین، بالخصوص لڑکیوں کے والدین نے اپنے لڑکیوں کی نگرانی کرنا بند کردی جس کی وجہ سے وہ اب سرعام سنیماؤں میں اپنے عاشقوں کے ساتھ گلچھرے منانا شروع ہوگئیں؟

اگر ایسا ہے تو ایسا کیوں ہوا؟ کیا موجودہ نسل کے والدین اپنی تربیت اور ماحول بھول گئے جب ان کے والدین محض اس وجہ سے ان کی چھترول کردیا کرتے تھے کہ لڑکا آجکل بال وغیرہ سجا کر باہر کیوں نکلتا ہے اور لڑکی ہر وقت کونے کھدرے میں بیٹھی کچھ لکھتی کیوں رہتی ہے۔ یا پھر اس کی وجہ یہ ہوئی کہ اب لڑکیوں نے تعلیم اور نوکری کی وجہ سے گھر سے باہر نکلنا شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے ان پر نظر رکھنا مشکل ہوگئی۔ لیکن اس کے باوجود میں یہ بات نہیں مان سکتا کہ لڑکی کا باہر چکر چل رہا ہو اور اس کے ماں باپ یا بھائی وغیرہ کو اس کے بدلے ہوئے رویئے پر شک نہ گزرے۔

ظاہر سی بات ہے کہ یہ ایک چین ری ایکشن یعنی زنجیری ردعمل ہے، جب ایک لڑکا کسی دوسرے خاندان کی لڑکی کو خراب کرتا ہے تو بدلے میں اس کی اپنی بہن کو کوئی دوسرا لڑکا خراب کرتا ہے۔ رہی بات والدین کی، تو لڑکیوں کی شادیوں کی وجہ سے وہ پہلے ہی انڈر پریشر آچکے ہیں، اب اندر ہی اندر وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان کی لڑکی خود ہی اپنے لئے کوئی لڑکا تلاش کرلے تاکہ ان کے سر سے بوجھ ہٹ سکے۔ اس ساری برائی کی جڑ شادی کی فضول رسومات ہیں۔ شادی کو اتنا مشکل بنا دیا گیا کہ پہلے غریب گھرانوں کیلئے مشکل ہوتی گئی اور اب مڈل کلاس تک بھی اس کے اثرات پہنچ چکے ہیں۔ جب قرآن میں اللہ تعالی نے واضح الفاظ میں فرما دیا کہ مسلمانو! تمہارے لئے نبی ﷺ کی ذات بہترین اسوہ ہے، تو پھر اس سے آگے اور مزید کیا کہا جاتا؟

کیا ہمیں نہیں پتہ کہ نبی ﷺ نے اپنی بیٹی کی شادی کس طرح کی؟ دور صحابہ میں شادیاں کتنی سادگی سے ہوا کرتی تھیں؟ یہ انتہائی خطرناک رحجان شروع ہوچکا ہے اور اگر بطور معاشرہ ہم سب نے اس کا سدباب نہ کیا تو آئیندہ چند برسوں میں گھر والوں کے سامنے لڑکی اپنے عاشق کے ساتھ موٹرسائکل پر بیٹھ کر فلم دیکھنے جایا کرے گی اور وہ اس کا کچھ نہیں کرپائیں گے۔ سدباب صرف ایک ہی ہے: پوری قوت سے جہیز کو لعنت قرار دے کر اس کا تبادلہ مکمل طور پر بند کردیا جائے۔ نکاح محلے کی مساجد میں ہو، جس میں دونوں اطراف سے دس، دس افراد شریک ہوں۔ بارات لے کر جانے کا رواج ختم کیا جائے، لڑکی والے بارات کو کھانا تو دور، سادہ پانی بھی پیش مت کریں – صرف نکاح میں شریک افراد کو کھجوریں اور پانی دیا جائے۔

رخصتی سے اگلے دن لڑکا ولیمہ رکھے – اگر اس کی جیب اجازت دے تو ون ڈش کرلے، اگر یہ بھی اجازت نہیں دیتی تو بے شک لڑکی کے والدین اور قریبی عزیزواقارب کو گھر بلا کر دال روٹی کھلائے اور اپنی زندگی شروع کردے۔ لڑکی کو بغیر کسی زیور کے رخصت کیا جائے۔ یہ اس کے شوہر کی ذمے داری ہو کہ وہ اپنی حلال کی کمائی سے اسے چاہے سونے کا زیور بنا کر دے، یا ہیرے کا۔ اگر وہ یہ نہیں کرسکتا تو کانچ کی چوڑیاں خرید کردے اور اس کی بیوی اس پر بھی اللہ اور اپنے شوہر کا شکر ادا کرے۔ یہ کوئی انوکھی تجاویز نہیں – یہ آج سے چند دہائیاں قبل ہمارے معاشرے کا حصہ ہوا کرتی تھیں۔ بدقسمتی سے ہندوانہ رسوم رواج کو ہم اپناتے گئے اور اپنا بیڑہ غرق کرتے گئے۔ اگر آپ کو اپنی عزت پیاری ہے تو شادی کو آسان بنائیں – اپنے بچوں کی 25 سال کی عمر سے قبل شادی کریں تاکہ معاشرے میں ہیجان ختم ہو اور برکت آسکے ۔۔۔۔ اور اگر خدانخواستہ ایسا نہیں ہوتا تو ۔ اس سے آگے کچھ لکھتے ہاتھ کانپ جاتے ہیں!!! بقلم خود: بابا کوڈا