بلاگ کالمز

چھٹی کی بجائے آج علامہ اقبال سے ایک ملاقات کیجئے

اقبال ڈے پر چھٹی مانگنے سے زیادہ اہم اس اقبال سے ملاقات کرنا ضروری ہے جس کی عزتمند قبا آج کے بالشیتے قلمکار نوچنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ آئیے اس اقبال سے ایک ملاقات کرتے ہیں جو دورِ جدید کی بے بنیاد فکرِ نو کیلئے ایک خوف کی علامت ہے، وہ اقبال جو صرف نوجوانوں سے کلام کرتا ہے اور انہیں مقصد حیات اور اپنے رب کے روبرو اس طرح سے کھڑے کر دیتا ہے کہ درمیان میں کسی واہمے کا گزر بھی باقی نہیں رہتا۔

اقبال اور والدہ؛ علامہ صاحب کی والدہ محترمہ امام بی بی کا انتقال 9 نومبر 1914 کو ہوا تھا، مولانا عبدالمجید سالک تعزیت کیلئے گئے تو علامہ صاحب دیر تک ان کی خوبیاں بیان کرتے اور روتے رہے، اس موقع پر بتایا کہ جب میں سیالکوٹ جاتا تو والدہ شگفتہ دِلی سے فرماتیں، "میرا بالی آگیا”، یہ سن کر میں ان کے سامنے خود کو ایک ننھا منا سا بچہ محسوس کرنے لگتا تھا۔

والدہ مرحومہ کی یاد میں بانگ درا میں شامل ایک مرثیے سے دو اشعار؛  عمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہی،  میں تیری خدمت کے قابل جب ہوا، تو چل بسی،  آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے،  سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

اقبال اور والد صاحب:  حضرت میاں جی انہیں اکثر تلاوت کرتے دیکھ کر کہتے کہ تلاوت کیلئے کبھی تمہیں ایک خاص بات بتاؤں گا، پھر کچھ عرصہ بعد ایکدن تلاوت کرتے دیکھ کر قریب آئے اور کہا، بیٹا کہنا یہ تھا کہ جب تم قرآن پڑھو تو یہ سمجھ کے پڑھو کہ یہ کلام تمہارے ہی لئے اترا ہے یعنی جیسے اللہ تعالیٰ خود تم سے ہمکلام ہوں، تب اس کلام کے معنی تمہارے اوپر ظاہر ہوں گے۔

اقبال اور مولانا میرحسن؛  علامہ اقبال اکثر ان کے گھر کا سودا سلف لاکے دیتے تھے، ایکدن انہیں سودا لاتے ہوئے دیکھا تو کہا، میں تمہیں کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ یہ کام نہ کیا کرو، تم میرے شاگرد ہو نوکر نہیں، یہ سن کر علامہ اقبال نے کہا، میں آپ کا شاگرد نوکر ہوں۔

اقبال اور داغ دہلوی؛  میرزا داغ دہلوی دربار حیدآباد دکن سے منسلک تھے، علامہ نے بذریعہ خطوط اپنی چند نظمیں اصلاح کیلئے بھیجیں جن میں معمولی اصلاح کر دی پھر صاف الفاظ میں فرمایا کہ اقبال میاں تمہارا کلام اصولی طور پر اصلاح کی ہر ضرورت سے مبرا ہے۔

اقبال اور شبلی نعمانی؛  اندرون بھاٹی گیٹ انجمن مشاعرہ اتحاد کے زیراہتمام چوٹی کے شعراء اکرام کی موجودگی میں مشاعرے ہوا کرتے تھے، جہاں اقبال نے پہلی بار اپنا کلام پڑھا، اس میں یہ شعر سن کر بڑے بڑے اہل قلم ششدر رہ گئے۔۔۔موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لئے    قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے

ایک مشاعرے میں علامہ کا کلام سن کے مولانا شبلی نعمانی نے کہا کہ جب مولانا حالی اور محمد حسین آزاد کی کرسیاں خالی ہوں گی تو لوگ اقبال کو ڈھونڈا کریں گے۔

اقبال اور انسان؛ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ؛ رات کے تارے جو اپنی چمک دمک کیلئے تاریکی کے محتاج ہیں اور جو محض روشنی کی چنگاریاں ہیں، ان کی عمر اس قدر لمبی ہے کہ انسانی عقل اس کا اندازہ کرنے سے قاصر ہے، پھر انسان جو قدرت کا روشن ترین ستارہ ہے، کیا ایک عارضی زندگی رکھتا ہے اور روشنی کی آسمانی چنگاری سے بھی گیا گزرا ہے؟ نہیں اس کی عمر ستاروں کی عمر سے بدرجہا زیادہ ہے، یہ ایک نہ بجنے والا چراغ ہے۔ ۔روزگارِ فقیر،141۔

اقبال اور نوجوان نسل؛ علامہ فرماتے ہیں، سن رسیدہ نسل نے نوجوانوں کو اپنی جانشینی کیلئے تیار کرنے کا کام جیسے کرنا چاہئے تھا ہرگز نہیں کیا، لہذا میں نوجوانوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ قرآن پاک کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھیں۔ ۔دہلی صوبہ مسلم کانفرنس، 9 ستمبر 1931۔

اسلام کے اندرونی دشمن: اسلام کے سوا دنیا کی کوئی طاقت اس الحاد اور مادیت کا مقابلہ کامیابی سے نہیں کرسکتی جو یورپ سے نشر و اشاعت حاصل کر رہا ہے، مجھے اسلام کے خارجی دشمنوں سے کوئی خطرہ نہیں، میرے خیال میں اگر کوئی خطرہ ہے تو وہ اندرونی دشمنوں سے ہے۔ ۔مؤتمر عالم اسلامی، یروشلم، 14 دسمبر 1931۔

اقبال اور مسولینی؛ اٹلی میں ملاقات کے دوران مسولینی نے کئی امور پر علامہ اقبال سے گفتگو کی، اس دوران اس نے چند مشورے بھی مانگے، ان میں سے ایک یہاں بیان کرتا ہوں، مسولینی نے کہا مجھے ایک اچھوتا مشورہ دیجئے جو اٹلی کیلئے خاص طور پہ موزوں ہو۔

علامہ صاحب نے کہا، ہر شہر کی ایک آبادی مقرر کرکے اسے ایک خاص حد سے آگے بڑھنے نہ دو، مقررہ تعداد سے جو آبادی زیادہ ہو اس کیلئے نئی بستیاں بسائی جائیں، کسی شہر کی آبادی جس قدر بڑھتی ہے اسی قدر اس کی تہذیبی و اقتصادی توانائی کم ہو جاتی ہے اور ثقافتی توانائی کی جگہ محرکاتِ شر لے لیتے ہیں، مزید کہا کہ یہ میرا خیال نہیں بلکہ میرے رسول ‍ﷺ کا فرمان ہے۔

یہ حدیث سن کر مسولینی اپنی کرسی سے اٹھا اور دونوں ہاتھ میز پر مار کے کہا، واہ کتنا عمدہ خیال ہے۔ علامہ اقبال نے مسولینی کے نام سے اس کی تعریف پر مبنی ایک نظم لکھی پھر جب اس نے حبشہ پر چڑھائی کی تو ابن سینا کے نام سے اس کی مزمت بھی لکھ ڈالی، کسی نے خط لکھ کے پوچھا کہ مسولینی پر آپ کی دونوں نظمیں ایکدوسرے کے الٹ ہیں تو علامہ صاحب نے جواب دیا اس بندہ خدا میں رحمانی اور شیطانی دونوں صفات موجود ہیں تو اس کا میرے پاس کیا علاج ہے؟۔

اقبال اور مصری نوجوان؛ قاہرہ میں قیام کے موقع پر اخبار نویسوں نے درخواست کی آپ مصری نوجوانوں کی تنظیم "شبان مصر” کے نام اپنا کوئی مختصر پیغام ضرور دیں، اس پر علامہ صاحب نے ایک کاغذ پر یہ جملہ لکھ کے دیا، "مصر کے نوجوانوں سے میری درخواست ہے کہ وہ جناب رسولِ کریم ﷺ کے وفادار رہیں”۔

اقبال اور عشق الہٰی؛ اقبال کا عشق ایک پیہم کوشش کا آئینہ دار ہے، یعنی جو ربِ کریم کی طرف سے ضابطہ حیات انسان کو دیا گیا ہے اس پر خلوص دل سے قائم و دائم رہنے کا نام عشق ہے۔۔۔۔۔  گرچہ تو زندانی اسباب ہے، قلب کو لیکن زرا آزاد رکھ، عقل کو تنقید سے فرصت نہیں، عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

اقبال اور قرآن؛ نادر شاہ والی افغانستان کو قرآن پاک کا ایک نسخہ ہدیہ کرتے ہوئے علامہ صاحب نے فرمایا، اہل حق کی یہی دولت ہے، اسی کے باطن میں حیات مطلق کے چشمے بہتے ہیں، یہ ہر ابتدا کی انتہا اور ہر آغاز کی تکمیل ہے، اسی کی بدولت مومن خیبر شکن بنتا ہے، میرے کلام میں تاثیر اور میرے دل کا سوزوگداز سب اسی کتاب کا فیضان ہے۔

اقبال نے والد صاحب کی ہدایت کے مطابق جب قرآن کو سمجھ کر پڑھنا شروع کیا تو ان کے بقول قرآن ان کے دل پر اترتا گیا، انہوں نے ساری زندگی تدبرِ قرآن میں گزاری اور اپنی قوم کے نام یہ پیغام چھوڑ گئے کہ "میں اس گھر کو لائق صد تحسین سمجھتا ہوں جس گھر میں علی الصبح تلاوتِ قرآن مجید کی آواز آئے یعنی تلاوت ہو اور آواز کے ساتھ ہو”۔

ہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہے،    تم مسلماں ہو؟ یہ انداز مسلمانی ہے؟،    حیدریؓ فقر ہے، نے دولت عثمانیؓ ہے،    تم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہے؟،    وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر،    اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

اقبال اور عشق رسولؐ: محبت رسول ﷺ کے بغیر دارین میں بقا کا کوئی ذریعہ اور جواز نہیں، جو تن اس محبت سے خالی ہے اس کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے، انسان کا دل اگر کسی چیز سے ایسا زندہ ہوسکتا ہے کہ وہ آفاقی سچائیوں کو پالے تو وہ عشق رسول کے علاوہ کچھ اور نہیں۔

علامہ اقبال سفر انگلستان میں جب عدن کی پورٹ سعید پر پہنچے تو عرب کی سرزمین دیکھ کر ایک عجیب جذباتی کیفیت طاری ہو گئی، اس موقع پر کہا: اے عرب کی مقدس سر زمین، تجھ کو مبارک ہو، تو ایک پتھر تھی جس کو دنیا کے معماروں نے رد کر دیا تھا، مگر ایک مقدس ہستی نے تجھ پر وہ کرم کیا ہے کہ موجودہ دنیا کی تہذیب و تمدن کی بنیاد ہی تجھ پر رکھ دی گئی ہے۔

تیرے ریگستانوں نے ہزاروں مقدس نقشِ قدم دیکھے ہیں، کاش میرے بد کردار جسم کی خاک بھی تیرے ریت کے ذروں میں مل کر تیرے بیابانوں میں اُڑتی پھرے اور یہی آوارگی میری زندگی کے تاریک دنوں کا کفارہ ہو، کاش میں تیرے صحراؤں میں لُٹ جاؤں اور دنیا کے تمام سامانوں سے آزاد ہو کر تیری تیز دھوپ میں جلتا ہوا اور پاؤں کے آبلوں کی پروا نہ کر تا ہوا اس پاک سر زمین میں جا سکوں، جس کی گلیوں میں اذانِ بلالؓ کی عاشقانہ آواز گونجتی تھی۔    سالارِ کارواں ہے میرِ حجازؐ اپنا    اس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا

علامہ اقبال اور عشق رسول ﷺ کا باب بہت وسیع ہے لیکن میری کوشش ہے کہ اس مضمون میں صرف وہی باتیں اور اشعار پیش کروں جو پہلے آپ کی نظر سے نہ گزرے ہوں۔ اس ضمن میں یہ ایک واقعہ بھی ہے کہ 13 اپریل 1936 کو علامہ اقبال بھوپال کے شیش محل میں سو رہے تھے کہ رات تین بجے خواب میں سرسید نے ان سے پوچھا، اقبال، تم کب سے بیمار ہو؟ علامہ صاحب نے جواب دیا "دو سال سے”، سرسید نے فرمایا، حضور رسالت مآب ﷺ کی بارگاہ میں کیوں نہیں التجا کرتے، اس پر ان کی آنکھ کھل گئی اور انہوں نے عرض داشت کے طور پر چند اشعار کہے جو بعد میں مثنوی پس چہ باید کرد کا باعث بنے۔

اقبال اور مساجد؛ اسپین میں مسلمانوں کے سات سو سالہ دور کی عظیم الشان یادگار مسجد قرطبہ کو گرجا گھر میں بدل دیا گیا ہے جہاں اذان اور نماز پر پابندی ہے، علامہ صاحب کو مسجد دیکھنے کی شدید آرزو تھی، پروفیسر آرنلڈ کی کوششوں سے اس شرط کیساتھ اجازت ملی کہ اندر جا کے دروازہ بند کرلیں۔

علامہ صاحب نے اندر جا کے پوری قوت کیساتھ اذان دی اور دو رکعت نوافل اس حالت میں پڑھے کہ روتے روتے بیہوش ہوگئے، پھر جب ہوش آیا تو قدرے سکون محسوس کیا اور اسی دوران مسجد قرطبہ پر اپنی وہ شہرہ آفاق نظم بھی لکھی جو ان کے نظریۂ حیات اور فن شعر کا شاہکار ہے، پچھلے آٹھ سو سال میں یہ واحد اذان و نماز ہے جو علامہ اقبال نے وہاں ادا کی۔

اٹلی میں مولانا غلام رسول مہر اور علامہ اقبال کولو سیم کے آثار قدیمہ دیکھنے گئے تو گائیڈ نے بتایا کہ ان اکھاڑوں میں بیک وقت پچاس ہزار آدمی بیٹھنے کی گنجائش تھی، اس پر علامہ صاحب نے کہا، ایک طرف قدیم رومی شہنشاہ تھے جنہوں نے ایک عظیم الشان عمارت اس غرض کیلئے بنائی کہ پچاس ہزار انسان بیٹھ کر انسانوں اور درندوں کی لڑائی کا تماشا دیکھ سکیں اور دوسری طرف لاہور کی بادشاہی مسجد ہے جو اس غرض سے تعمیر کی گئی ہے کہ ایک لاکھ بندگانِ خدا جمع ہوکر مساوات، اخوت اور محبت کے مخلصانہ جذبات کا مظاہرہ کر سکیں، اس ایک مثال کو سامنے رکھ کے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام کتنی برکات کا سرچشمہ ہے۔

اقبال اور خودی؛ اقبال کی وجہ شہرت میں پیامِ خودی کا بہت دخل ہے، ان کی شاعری کو سمجھنے کیلئے بھی خودی کو سمجھنا ازحد ضروری ہے مگر عوام الناس تک اس بات کا مفہوم کبھی بھی سادہ الفاظ میں نہیں پہنچایا گیا۔

خودی بالکل انہی الفاظ کا مترادف لفظ ہے جنہیں اردو میں مَیں، اردو والی انا، عربی میں انا، فارسی میں من اور انگریزی میں ایگو کہا جاتا ہے، یہ تمام الفاظ انسان کا ایک پروٹوکول واضع کرتے ہیں جو ہر انسان میں اس کی طبع کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے، اگر ہم اس کا معنی اکڑ، انا یا ایگو بھی لے لیں تو یہ ہر انسان میں نہ تو یکساں ہوتی ہے اور نہ ہی ہر انسان میں ایک جیسے امور پر سامنے آتی ہے۔

خودی کا مطلب یہ ہے کہ وہی انا جو ہرانسان کے پاس خود ساختہ طرز کی ہے، جسے آجکل ایٹیٹیوڈ دکھانا بھی کہا جاتا ہے، اس خودشناسی کو خدا کی منشا کے قالب میں ڈھال لیا جائے، یعنی اپنی خواہشات کیمطابق ردعمل دینے کی بجائے دنیا و مافیہا کو وہ ردعمل دیا جائے جو خدا کا پسندیدہ ہو، اس میں پرورش و رحمدلی سے لیکر بوقت جہاد حرب و ضرب و تخریب تک انسان اپنی مرضی کی بجائے جب منشائے الہی کا پابند ہو جائے تو وہ خودی کے پیکر میں ڈھل جاتا ہے، یعنی مجھے غصہ اس بات پر نہیں دکھانا جو مجھے ناپسند ہو بلکہ میری ناپسندیدہ چیز وہ ہونی چاہئے جسے خدا نے ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔

مختصر الفاظ میں خودی دراصل فہم و شعور کا وہ جوہر ہے جو اپنی ذاتی انا کو خدا کی مرضی کے تابع لے آتا ہے، جہاں خودی کی تلاش کا ذکر ہوگا وہاں دراصل اس سیلف کنٹرول والے وصف کو پانے کی بات ہے اور جہاں خودی کو پہچاننے کی بات ہو وہاں دراصل اس مدار کو پہچاننے کی بات ہے جس میں مختلف مواقع کیلئے خدائے تعالیٰ نے پہلے ہی مختلف رویئے مقرر کر رکھے ہیں، یعنی ایک بھوکے کو دیکھ کر ایک چور کو دیکھ کر ایک بے آسرا اور ایک بدمعاش کو دیکھ کر آپ نے اپنی ذاتی پسند ناپسند کی بجائے دینی نکتہ نگاہ سے کیا رویہ رکھنا ہے وہی آپ کی خودی کا آئینہ دار ہے۔

اس پیغام کی خوبصورتی یہ ہے کہ جب ہر انسان اپنی انا کا پروٹوکول چھوڑ کر خدا کا مقرر کردہ رویہ اپنا لے گا تو معاشرہ قول و فعل میں یک زبان ہو جاتا ہے، تب اس میں نہ برائی پھیل سکتی ہے نہ وہ کسی اندرونی و بیرونی طاقت سے مفتوح ہو سکتا ہے، موجودہ نفسا نفسی کا دور دراصل خودی کے الٹ رویہ ہے جبھی ہرطرف کرپشن اور منافقت چھائی ہوئی ہے۔

اقبال اور مغربی اہل علم؛ علامہ صاحب کی اسرارِ خودی جب برطانیہ پہنچی تو پروفیسر نکلسن نے اسے انگلش میں ترجمہ کرنے کیلئے بذریعہ خط اجازت چاہی، یہ پڑھ کے علامہ اختیار بے اختیار رو پڑے، فقیر وحیدالدین صاحب نے کہا اس میں ایسی کیا بات ہے تو علامہ نے فرمایا، دیکھو میری عوام جن کیلئے میں نے لکھی ہے وہ نہ تو اس کی قدر وقیمت پہچانتے ہیں نہ اس کی طرف خاطر خواہ متوجہ ہیں اور انگریز جس کیلئے یہ ہے ہی نہیں وہ اسے اپنی قوم کو سمجھانا چاہتے ہیں۔

نکلسن کے ترجمے کیساتھ ہی 1920 میں یورپ کے ادبی حلقوں میں ایک تہلکہ مچ گیا، امریکہ کے ڈاکٹر ہربرٹ ریڈ نے اگست 1921 میں ایک جامع تبصرہ لکھا کہ میرے ذہن میں اگر کسی زندہ شاعر کا نام آسکتا ہے تو وہ ایک ہی ہے جو ہماری قوم و مذہب کا بھی نہیں لیکن اس کی تصنیف حیرت انگیز ہے، میری مراد ڈاکٹر اقبال سے ہے، جس دور میں ہمارے ہموطن شاعر بلیوں اور بٹیروں پر تُک بندی کرکے اپنے دوستوں کی ضیافت طبع کر رہے تھے یا کِیٹس کے انداز میں پیش پا افتادہ مضامین پر طبع آزمائی کر رہے تھے عین اس وقت لاہور کے اس شاعر نے ہندوستانی نوجوانوں کے خیالات میں ایک محشر بپا کر دیا ہے۔

یہ وہ اقبال ہے جسے آج کے علمی بردہ فروش ہماری نوجوان نسل کی نگاہ میں ہر ممکن طور پر مشکوک اور گمراہ کردار مشہور کرنے پر مصر ہیں تاکہ اس نوجوان نسل کو یورپ کی نیوڈ بیچوں پر پڑی ہوئی بےحیا انسانیت کیساتھ کسٹومائز کرکے اس امت کی روح نکال لی جائے۔

اقبال سے یہ ملاقات کیوں ضروری تھی: قیام مصر کے دوران مصر کی ایک بزرگ شخصیت سید محمد قاضی ابوالعزائم اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ علامہ صاحب سے ملنے کیلئے تشریف لائے تو علامہ نے کہا: آپ نے کیوں زحمت کی، میں خود آپ کی زیارت کے لیے آپ کے پاس چل کر آ جاتا۔

بزرگ فرمانے لگے: "خواجہ دو جہاں آنحضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ، جس نے دین سے فیض حاصل کیا ہو، اُس کی زیارت کو جاؤ گے تو مجھے خوشی ہو گی”۔ یہ بات سن کر علامہ آبدیدہ ہوگئے اور اُن کے رخصت ہونے کے بعد روتے ہوئے فرمانے لگے، کیسے نیک لوگ ہیں جو خوشنودی رسول ﷺ کیلئے ان لوگوں سے ملنے نکلتے ہیں جنہیں وہ دین سے فیض یافتہ سمجھتے ہیں حالانکہ میں تو گنہگار سا بندہ ہوں۔ امید ہے علامہ اقبال سے آپ کی یہ ملاقات بھی یادگار رہی ہوگی اور دعا ہے کہ اس دینی فیض سے مالا مال شخصیت کے چند غیرمعروف پہلؤوں سے یہ ملاقات اللہ رسول کی خوشنودی کا بھی باعث بنے گی، آمین