اُردو صفحہ فیس بُک پیج

صحت

چقندر کھائیں صحت پائیں

انفیکشن کے خلاف مزاحمتی کردار اد ا کرنے والا چقندر گوشت کے سالن ، سادہ ترکاری ، سلاد اور رائتے میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ اسے کھانے سے ذیابیطس اور کینسر کے خلاف مدافعتی قوت بڑھتی ہے ۔ چند برس قبل تک نائٹرک آکسائیڈ سے متعلق تحقیقات سامنے نہیں آئی تھیں چنانچہ غذائی افادیت کا انکشاف نہیں ہوا تھا کہ خون کے خلیے نائٹرک آکسائیڈ بھی رکھتے ہیں اور یہ گیس خون کے خلیوں کو ان کی ضرورت کے مطابق آکسیجن لے جانے میں مددگار ہوتی ہے ۔

چقندر کا پانی مفید ہے
ہرقسم کی سبزی اور پھل کے اندر کثیر مقدار میں ایسا مادہ ہوتاہے جو قبض دور کرتا ہے ، سفید چقند تسکین بخشتا ہے ، سیاہ قسم قابض ہوتی ہے البتہ اس کا عرق نکال کے لگانے سے خارش خاص کر جلدی امراض ختم ہوجاتے ہیں جلدکی یہ بیماری پھپھوندی کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ چقندر کا عرق پھپھوندی کو ختم کرتا ہے ۔ قدیم طبیب چقندر کے پتوں کا پانی نکال کر اس سے کلی کراتے تھے ۔ سفید چقندرکاپانی جگر کی بیماریوں پر اچھے اثرات ڈالتا ہے ۔

یہ یورپ کی مقبول غذا ہے
چقند ر پاکستان ، ہندوستان ، شمالی امریکہ او ریورپ میں کثرت سے سبزی کے طو رپر کاشت کیا جاتا ہے ۔یورپ میں اس کا پودا 1584میں لایا گیا اوراب یہ وہاں کی غذا اور صنعت میں آلو کے بعد سب سے مقبول سبزی ہے ۔ چقندر کا تعلق پالک کے خاندان سے ہے البتہ اس کا غذا کے طور پر کھایا جانے والا پسندید حصہ اس کی جڑ ہے ۔ سلاد کے طور پر کھائیے یا اُبال کر یا گوشت کے ساتھ پکائیے ، ہر طرح سے مفید ہے ۔

چقند رکے مفید کیمیائی اجزاء
اس سبزی میں ایک کیمیائی جزو Betinپایاجاتا ہے ، یہ خون بڑھاتاہے ۔ گردوں کی صفائی کرتاہے ۔ معدے اور آنتوں میں ہونے والی جلن سے آرام دیتا ہے ۔ سرخ چقند ر سے خواتین کا ماہانہ نظام درست ہوتا ہے ۔

چقند ر کی شکر
یورپ میں چقند کی شکر کا استعمال زیادہ ہوتا ہے ۔ یہ چینی زیادہ سفید دانہ دار اور مٹھاس میں گنے سے پھیکی ہوتی ہے ۔ گلوکوز کی کمی ہوجانے پر مریضوں کو چقند کی شکر کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ اگر آپ اُبلا ہو ا چقند بھی کھالیتے ہیں تو بھی گلوکوز کاکام کرے گا ۔جسم میں مطلوبہ مقدار میں شکر کی موجودگی کمزوری کو دور کرتی ہے ۔ نوٹ : امراض قلب اور بلڈ پریشر کے مریض اپنے معالج کے مشورے سے استعمال کریں ۔