بلاگ معلومات

ننھے بچوں کی دلچسپ ڈکشنری اور اشارے

ننھے بچے بول نہیں سکتے یہ بات ٹھیک ہے کیونکہ ابھی اُن کو زُبان کا استعمال نہیں آتا وہ اپنی ساری باتیں رو کر کرتے ہیں ایسی صورتحال میں والدین کا یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ بچہ بھوک کی وجہ سے رو رہا یا وہ کسی اور تکلیف میں مبتلا ہے۔ ماہرین کے مطابق بچوں کی باتیں سمجھنے کے لیے 3 بنیادی طریقہ کار ہیں۔ نمبر 1 بچے کےچلانے اور رونے کا انداز چھوٹے بچے خاص طور پر 4 ماہ سے چھوٹے اپنی تقریباً تمام ضروریات کے لیے روتے یا چلاتے ہیں، والدین کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بچہ کس مقصد کے لیے رو رہا ہے۔

ماں کو بُلانے کے لیے چلانا: ماں کو بُلانے کے لیے عام طور پر جب بچہ زیادہ دیر اکیلا رہے تو وہ چاہتا ہے کہ اُس کے والدین اُسے اُٹھائیں، ایسے موقع پر وہ پانچ سے چھ سیکنڈ روئے گا اور پھر 15 سے 20 سیکنڈ کے لیے چُپ کر کے انتظار کرے گا اور اگر والدین کا جواب نہ آیا تو اپنے اس عمل کو دوبارہ دوہرائے گااور مسلسل نظر انداز ہونے پریہ کالنگ سائیکل مستقل رونے کی شکل اختیار کر لے گا، ماہرین کا کہنا ہے ایسے موقع پر بچے کو زیادہ انتظار نہیں کروانا چاہیے۔

بھوک کے لیے چلانا: بچے کا بھوک کے لیے رونا Calling Cry کے ساتھ ہی شروع ہو سکتا ہے ایسی صورتحال میں بچہ آہستہ آہستہ شدید رونا شروع کر دیتا ہے اور اگر اُسے زیادہ لمبے عرصے انتظار کروایا جائے تو اُس کا رونا ہسٹیریکل ہو جاتا ہے۔۔۔۔ درد میں چلانا: درد کی صورت میں بچہ بُلند یکساں آواز میں مسلسل روتا ہے اور تکلیف کے بڑھنے کی صورت میں بچے کی آواز بُلند ہوتی جاتی ہے البتہ اگر بچہ بیمار ہے تو ایسے موقع پر بھی وہ مسلسل روتا ہے کمزوری کی وجہ سے اُس کی آواز دھیمی رہتی ہے۔

عام صورتحال میں چلانا: پیٹ میں گیس، پیشاب کر دینے یہ اس طرح کی کسی اور صورتحال جس میں بچہ بے سکونی محسوس کرے تو وہ روتا ہے اور اُس کی آواز whining اور squeaking یعنی منمناتی ہے۔۔۔۔بے نیندی میں چلانا: بے نیندی کی صورتحال میں بچہ وقفے وقفے سے تکلیف دہ اور اکثر بے چین آواز میں روتا ہے ایسے موقع پر بچے کا ڈائپر چیک کرنے کے بعد اُسے سردی یا گرمی کے مطابق آرام دہ ماحول میں لے جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ 4 ماہ سے چھوٹے بچے اپنے ماحول سے بور ہوکر بھی روتے اور چلاتے ہیں تاکہ اُن کا ماحول بدلا جائے۔

مزید پڑھیں: سب سے بڑی حقیقت

نمبر2 بچوں کی بنیادی آوازیں: آسٹریلین نژاد Priscilla Dunstan بچوں کی ماہر ڈاکٹر ہیں اور پچھلے 20 سال سے 4 ماہ سے چھوٹے بچوں کی مختلف آوازوں پر تحقیق کر رہی ہیں پرسکیلا کے مطابق بچوں کی بنیادی آوازوں کی ڈکشنری میں چند آوازیں شامل ہیں جو مختلف ضروریات کے لیے نکلتی ہیں، جیسے “Neh” کی آواز بچہ اپنی زُبان کو تالو سے لگا کر نکالتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بچہ بھوکا ہے۔ “Eh” کی آواز کا مطلب ہے کے بچہ برپ کرنا چاہتا ہے اور اُس کے پیٹ کی ہوا اُسے تنگ کر رہی ہے۔ “Owh” یہ آواز بچہ اپنے لب بند کر کے چلانے سے پہلے نکلالتا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ سونا چاہتا ہے۔ “Heh” اس آواز کا مطلب ہے بچہ بے سکونی محسوس کر رہا ہے ایسے موقع پر اُس کے ہاتھ اور پاؤں بھی جرک کر رہے ہوتے ہیں۔

نمبر 3 بچے کی حرکات و سکنات: بچے کی حرکات و سکنات کا سمجھنا والدین کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ ایسے سگنلز ہوتے ہیں جن کو سمجھ کر بچے کی نشوونما کرنے میں انتہائی آسانی ہوتی ہے۔ ۔۔۔ کمر اُٹھانا 2 ماہ سے چھوٹے بچے عام طور پر اپنی کمر اُتھاتے ہیں یہ اٹھانے کی کوشیش کرتے ہیں جو عام طور پر درد یہ تکلیف میں مبتلا ہونے کی علامت ہے، اگر بچہ کھانے کے فوراً بعد اپنی کمر اُٹھاتا ہے تو اس کا مطلب اُس کا پیٹ بھر چُکا ہے، دو ماہ سے بڑے بچے اپنی کمر کمان کی طرح بستر سے اُٹھاتے ہیں جس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ تھکے ہُوئے ہیں یا شدید بور ہو رہے ہیں۔

ہاتھ گُھمانا: چھوٹے بچے عام طور پر یہ سگنل اُس وقت دیتے ہیں جب وہ نیند سے بےحال ہو رہے ہوں یا اجنبی لوگوں کے درمیان میں ہوں۔۔۔ کان کو ہاتھ لگانا: بچوں کی یہ ایک عام حرکت ہے جو وہ اپنے جسم کے تلاش کرتے ہُوئے کرتے ہیں ، لیکن اگر بچہ کان پکڑنے کے ساتھ شدید رو بھی رہا ہو تو ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔۔۔۔ مٹھی بھینچنا: بچہ اگر اپنے ہاتھ کی مٹھی بھینچ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھوکا ہے اور اگر آپ موقع پر یہ سگنل وصول کر لو اور بچے کو فیڈ کر دو تو وہ رونے کے تکلیف دہ امر سے بچ جاتا ہے۔

ٹانگیں اُٹھانا: یہ علامت ہو سکتی ہے کہ بچے کے پیٹ میں درد یا کسی اور تکلیف کی۔۔۔ ہاتھ پاؤں مارنا: بچے کے ہاتھوں اور پاؤں کی جرک بچے کے خوف کی علامت ہوتی ہے ایسے موقع پر وہ ماں کی تلاش میں اپنے ہاتھ پاؤں چلاتا ہے اور اگر ماں سگنل وصول نہ کرے تو بچے کو مجبوراً بُلند آواز میں رونا پڑتا ہے۔