بلاگ

چولستان کا دکھ !

یزمان‘ تحصیل بہاولپور میں وہاں کے مقامی لوگوں سے زمینیں چھیننے‘ ان کے گھرجلانے اور ان پر شدید تشدد کے مناظر دیکھ کر سولہ برس پہلے کی ایک سٹوری یاد آئی جو شاہین صہبائی کے ویب اخبار کے لیے فائل کی تھی ۔ وہ ایسی سٹوری تھی جس نے ملک میں تہلکہ مچادیا ۔انہیں وہ سٹوری شائع کرنے کی بڑی قیمت ادا کرنا پڑ ی تھی ۔ شاہین صہبائی کو خطرہ تھا کہ اگر میرا نام اس سٹوری کے ساتھ چھپا تو پرویز مشرف کی حکومت مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گی ۔ وہ خود ان دنوں امریکہ میں تھے اور وہیں سے ویب اخبار چلا رہے تھے۔پاکستان میں توپرویز مشرف نے میڈیا پر کوئی سکینڈل یا مخالف خبر شائع کرنے سے سب کو روک رکھا تھا اس لیے شاہین صہبائی نے انٹرنیٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلا ویب اخبار لانچ کیا تھا ‘جس نے پرویز مشرف کی حکومت کی جڑیں کمزور کر دی تھیں ۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ جونہی وہ سٹوری چھپی‘ شاہین صہبائی پر پاکستان میں مقدمہ قائم کر دیا گیا کہ انہوں نے اپنے ایک عزیز کے گھر سے واشنگ مشین چوری کی تھی۔ انہیں ویب اخبار بند کرنے پر مجبور کرنے کے لیے ان کے کراچی اور راولپنڈی سے دو قریبی رشتہ داروں کو بھی اسی مقدمے میں گرفتار کر کے اڈیالہ جیل میں ڈال دیا گیا۔

سٹوری یہ تھی کہ انہی دنوں چولستان میں بہت سے مقامی لوگ‘ جو صدیوں سے وہیں رہتے آئے تھے ‘ احتجاج کررہے تھے کہ ان کے پاس زمین نہیں ۔ وہ بے گھر لوگ دربدر پھرتے تھے۔ چولستان کی زمینیں وہاں کے مقامی لوگوں کو دینے کی بجائے دوسرے علاقوں کے بڑوں اور طاقتورافسران کو الاٹ کی جارہی تھیں ۔ چولستان کے ان علاقوں میں ان بڑے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے زمینیں کوڑیوں کے مول انعام کے طور پر دینے کا رواج بہت پرانا تھا ۔ یہ خبر اس لیے بڑی بن گئی تھی کہ جنرل مشرف کا اقتدار تھا اور پتہ چلا کہ انہیں بھی وہاں زمینیں الاٹ کی گئی تھیں ۔ پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا : پٹواری اتنے طاقتور لوگ ہوتے ہیں کہ انہوںنے پٹواری کو اپنی زمینوں کی الاٹ منٹ پر مٹھائی بھی پیش کی تھی۔ میرے ہاتھ ان تمام سول اور ریٹائرڈ ملٹری افسران کی وہ فہرست لگ گئی تھی جن کو چولستان اور قریبی علاقوں میں زمینیں دی گئیں۔ جنرل مشرف کو جو زمین الاٹ ہوئی وہ انہیں ایک سو پچھتر روپے فی ایکٹر کے حساب سے ملی تھی جو بعد میں انہوں نے لاکھوں میں بیچی تھی۔ بعض کیسز میں تو ایسا بھی ہوا تھا کہ جن چند ریٹائرڈ جنرلوں کو وہاں زمینیں دی گئیں‘ انہیں وہاں کے نمبردار کا درجہ بھی دیا گیا کیونکہ نمبرداری کا ٹائٹل ملنے سے کچھ اور مراعات بھی ملتی تھیں ۔ یہ سب لوگ وہاں زمینیں لے کر‘ کچھ عرصہ بعد اچھی خاصی قیمت پر بیچ کر واپس پنڈی اور لاہور آجاتے تھے۔ یہ افسران دو دفعہ ان علاقوں میں جاتے تھے ‘ ایک تو جس دن زمین کی الاٹمنٹ ہوتی تھی یا پھر جس دن انہوں نے زمین بیچنی ہوتی تھی اور ان کے بیانات ریکارڈ ہونے ہوتے تھے۔

یہ سب کچھ لیہ ‘تھل کے علاقوں میں بھی کیا گیا‘ جب وہاں بھی زمینیں مقامی غریبوں کو دینے کی بجائے ریٹائرڈ سول‘ ملٹری افسران کو الاٹ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اس سے پہلے تقسیم ہند کے بعد بھی ان علاقوں میں بہت سی زمینیں باہر سے آنے والے لوگوں کو دی گئی تھیں ۔ اس سلسلے میں نواب آف بہاولپور کا بڑا اہم رول تھا جنہوں نے پاکستان بننے کے بعد مہاجرین کو بڑی تعداد میں بہاولپور کے علاقوں میں عزت اور احترام کے ساتھ بسایا اور انہیں زمینیں بھی دی گئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ باہر سے آنے والے مہاجروں نے بھی نواب صاحب کو بہت عزت دی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بہت سی چیزیں بدلتی گئیں ۔ سیاسی اور معاشی حالات بدلتے گئے۔ بہاولپور کی سیاست کے رنگ بدلتے گئے۔ غیرمقامیوں کی نئی نسلوں نے دھیرے دھیرے سیاست کی مدد سے کنٹرول سنبھالا تو مقامیوں اور غیرمقامیوں کو ایک دوسرے سے شکایات پیدا ہونا شروع ہوگئیں ۔ نواب آف بہاولپور کے بعد میں آنے والے وارث اپنی سیاسی گدی کا تحفظ نہ کر سکے اور وہ الیکشن ہارتے گئے۔ بہاولپور میں مقامی‘ غیرمقامی کے علاوہ ہمیشہ جٹوں اور آرائیوں کے درمیان ایک سیاسی جنگ جاری رہتی ہے۔آرائیوں کے علاقے سے جنرل ضیاکے صاحبزادے اعجاز الحق پنڈی سے جا کر الیکشن لڑتے ہیں جبکہ طارق بشیر چیمہ اب جٹوں کے نمائندہ سمجھے جاتے ہیں ۔یہ گروپس سیاست پر قبضہ کرنے کیلئے ایک دوسرے کے مدمقابل رہتے ہیں ۔ یوں مقامیوں اور غیرمقامیوں کو ایک دوسرے سے شکایات رہتی ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں ان سرائیکی علاقوں میں جا کر بسنے والے غیر سرائیکیوں نے وہاں کی معیشت ‘ رہن سہن اور دیگر معاملات میں اہم کردار ادا کیا۔ میں سب سے بڑا کریڈٹ یہ مانتا ہوں کہ ان علاقوں میں باہر سے آکر سیٹل ہونے والوں نے سرائیکیوں کو جدید زراعت کے تصورات سے روشنا س کرایا ۔ کیش کراپس‘ باغات‘ اور دیگر نئی فصلوں کی کاشت سے روشناس کرایا۔ پرانی کاشت کاری کے طریقے ختم کر کے نئے متعارف کرائے۔ان کو دیکھ کر ہی ہمارے سرائیکی علاقوں میں مقامیوں نے بھی اپنی زراعت بہتر کی ۔ بہت سی نئی چیزیں سیکھیں۔ سرائیکی مزاج چونکہ ٹھنڈا سمجھا جاتا ہے‘ لہٰذا سرائیکیوں نے باہر سے آنے والوں کے ساتھ خود کو ایڈجسٹ کیا۔ سندھ کے برعکس کبھی آپ کو سرائیکی علاقوں میں سرائیکیوں اور غیر سرائیکیوں کے درمیان کوئی تنائو‘ تشدد یا جھگڑے نہیں ملتے۔ اگرچہ فطری طور پر کچھ شکایات دونوں کو ایک دوسرے سے رہتی ہیں لیکن کبھی پرتشدد واقعات سننے میں نہیں آئے بلکہ سرائیکیوں اور پنجابیوں میں رشتے داریاں بھی ہوئیں جس سے ان علاقوں میں باہمی تعلقات اور دوستیاں بڑھیں ۔

مزید پڑھیں: غیبت و بہتان کی بجائے خیر خواہی۔

اب جو کچھ یزمان میں دیکھنے میں آرہا ہے اور جس طرح مقامی سرائیکیوں کو مارا گیا ہے‘ گھر گرائے اور جلائے گئے ہیں اس سے مجھے خطرہ محسوس ہورہا ہے کہ وہاں مسائل پیدا ہوں گے۔ اب تک صلح اور پیار کی جو فضا قائم تھی وہ خراب ہوگی۔ جن مقامی لوگوں پر تشدد کیا گیا اور گھر جلائے گئے وہ الزام لگا رہے ہیں کہ اس کے پیچھے ایک پنجابی وزیر کا ہاتھ ہے‘ جو ان علاقوں میں زمینوں پر قبضے کے لیے مشہور ہے ۔ مقامی لوگ یہ شکایتیں کررہے ہیں کہ انہیں چولستان میں زمینیں نہیں دی گئیں‘ وہ پہلے ہی غریب ہیں جو سارا دن بہاولپور میں مزدوری کرتے ہیں۔ وہ صبح نکلتے ہیں اور رات گئے گھروں کو واپس جاتے ہیں ۔ اس دن بھی یہی کچھ ہوا۔ سب مرد مزدوری کے لیے گئے ہوئے تھے جب وہاں ان علاقوں کے نمبرداروں اور چوہدریوں نے مل کر ان کے گھروں پر حملہ کیا۔ اس معاملے میں وہاں کی مقامی انتظامیہ کو ساتھ ملایا گیا ۔ اسسٹنٹ کمشنر یزمان بھی ان لوگوں کے ساتھ تھا اور انہوں نے جا کر گھروں کو گرانا اور جلانا شروع کیا جس کی ویڈیوز بھی موجود ہیں ۔

یزمان پولیس نے بھی بے حد تشدد سے کام لیا ‘ عورتوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پتہ چلا کہ اس علاقے کے کچھ پٹواری سیاستدان کے ساتھ مل کر ایک مافیا چلاتے ہیں ۔ جہاں یہ غریب لوگ جاتے ہیں پہلے ان سے پیسے لے کر انہیں کچھ زمین دے دی جاتی ہے اور کچھ عرصے بعد اسے غیرقانونی قرار دے کر خالی کرانے کے لیے تشدد کرایا جاتا ہے اور پھر وہی زمینیں کسی بڑے زمیندار کو الاٹ کر دی جاتی ہے۔ اس دفعہ بھی یہی کچھ ہوا ۔ اب پتہ چلا ہے کہ بہاولپور کے ایک سماجی ورکر راشد عزیز بھٹہ‘ جنہوں نے ان غریبوں کا دکھ بانٹنے اور ان مظلومو ں کی آواز بننے کی کوشش کی ہے‘کوایک وزیر کی طرف سے دھمکیاں دلوائی جارہی ہیں۔ جب یہ سارا ظلم و ستم میڈیا پر سامنے آیا تو وزیراعلیٰ پنجاب نے انکوائری آرڈر کر دی ہے۔ کچھ لوگوں پر مقدمے بھی درج کیے گئے ہیں لیکن ان غریبوں پر تشدد کرنے اور کرانے میں جو پولیس والے اور اسسٹنٹ کمشنر شامل تھے ان پر کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا ۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ جو پولیس فورس اور افسران سیاسی وڈیروں‘ نمبرداروں اور چوہدریوں کے ساتھ مل کر غریب چولستانیوں کے گھر گرا رہے تھے‘ جلا رہے تھے اور ان پر تشدد کررہے تھے وہی اب انکوائری بھی کریں گے۔ وہی حال ہے… وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا ۔