بلاگ معلومات

چین کے خلاف عالمی گھیرا تنگ، ڈیجیٹل کرنسی کے اجراء سے پہلے مکّاری:

یہودی زائنسٹس کی تھپکی ملنے کے بعد مودی چائنہ کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں پہنچ گیا ھے۔ بھارت کا موقف ھے کہ کرونا بیماری چین سے آئی ھے۔ اور پچھلے اکیس دن سے بھارت کے اندر تباہی ھو رہی ھے۔ بالخصوص معیشت میں اٹھانوے ارب ڈالرز کا نقصان ھوا ھے. وہ چین سے وصول کروا کر ھمیں دلوایا جائے۔بھارت نے بین الاقوامی کونسل آف جیورسٹ میں پٹیشن دائر کر کے موقف اپنایا ھے کہ کس طرح بھی ممکن ھو ھمیں چین سے یہ پیسہ دلوایا جائے۔ امریکہ و اسرائیل کے بعد ان کے مشترکہ بیٹے بھارت نے بھی وہی الزام لگایا کہ چین نے کینیڈا کی لیب سے کرونا وائرس لا کر ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرالوجی میں پراسیس کیا اور وہاں سے انہوں نے اس وائرس پر کام کرنے کے بعد اسکو پوری پلاننگ سے دنیا بھر میں پھیلایا ھے۔ اور دنیا بھر کی اکانومی تباہ کی۔۔۔

ادھر امریکہ کے ایک وکیل نے بھی عدالت میں پٹیشن دائر کی ھے کہ ھمیں (امریکہ کو) چین سے بیس ٹریلین ڈالرز لے کر دیے جائیں۔ چین نے وائرس پھیلا کر ھماری معیشت برباد کی ھے۔ پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا ھے کہ چین نے جن جن ممالک کو قرضہ دیا ھوا ھے وہ قرضہ بھی چین سے معاف کروایا جائے۔ اصل کھیل ہی یہی ھے کہ امریکہ نے چین کا بارہ سو ارب ڈالرز قرضہ دینا ھے۔اب امریکہ خود اور اپنے پالتو کتے بھارت سمیت تمام حلیف ممالک سے اس طرف کمپین چلوا رہا ھے۔ اور اس کوشش میں ھے کہ یہ معاملہ پوری دنیا میں ایک ساتھ اٹھایا جائے اور پھر تمام ممالک کی جانب سے مشترکہ کیس تیار کر کے بین الاقوامی عدالت لے کر جایا جائے۔ جہاں سے یہودی زائنسٹس کی بین الاقوامی عدالت کے زریعے امریکہ بھارت اسرائیل سمیت چین کے قرض دہندہ تمام ممالک کو چین کا قرضہ واپس نہ کرنے کا فیصلہ کروایا جائے۔۔۔

یہ ایک طرح سے کھلی بدمعاشی ھے کہ چین سے پیسہ یا درآمدات قرض کی صورت میں لے کر بعد میں کرونا پھیلانے کا الزام دے کر وہ سب قرضہ ہڑپ کر لیا جائے اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے ایک نام نہاد یک طرفہ فیصلے کے زریعے قرض واپس کرنے سے انکار کر دیا جائے۔ اب صہیونی یہود کی جانب سے چین کے ساتھ یہی کرنے کی کوشش کی جا رہی ھے۔چین کو تمام واجب الادا قرضوں سے انکار کرنے کے بعد یہ ابلیس کے بچے خود نئی ڈیجیٹل کرنسی کا اجراء کریں گے۔ جس کے نہ تو کوئی زخائر کسی دوسرے ملک کے پاس ھوں گے اور نہ ہی کوئی ریکارڈ یا کنٹرول کسی دوسرے ملک کے پاس ھو گا۔ اور چونکہ یہ یہودی اپنے تمام حلیفوں سمیت چین کو قرض واپس نہ کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی عدالت سے لے چکے ھوں گے اس لیے وہ چین کو کسی قسم کی کوئی ڈیجیٹل کرنسی بھی واپس نہیں کریں گے۔۔۔

اور دنیا بھر کی تمام معیشتیں ڈیجیٹل کرنسی اور دیگر مالیاتی امور میں ان یہود کی غلام بن کر رہ جائیں گی۔ کیونکہ یہود اپنے لیے جب جتنی مرضی ڈیجیٹل کرنسی جنریٹ کرنا چاھیں گے وہ جنریٹ کر لیں گے۔ (جیسے دنیا کو بین الاقوامی کرنسی کے طور پر ڈالر کی بادشاہت قبول کروا کر باقی دنیا کیلیے پیپر کرنسی چھاپنے کا قائدہ اتنی مالیت کا گولڈ ریزرو ھونا لازم قرار دے دیا لیکن خود بغیر گولڈ ریزروز کے بھی ڈالر چھاپ چھاپ کر ان کاغذی ٹکڑوں کے بل بوتے پر دنیا کو بےوقوف بنا رہا ھے)۔۔۔

اس فرضی یا بےوجود کمپیوٹر بیسڈ کرنسی کے زریعے دجّال کے یہ پیروکار زائنسٹ پوری دنیا کے تمام وسائل پر قابض ھو جائیں گے۔ اس کے بعد قدم بہ قدم آگے بڑھتے ھوئے پوری دنیا کی تمام دولت، تمام وسائل، تمام خوراک، معدنیات، ہر چیز کے بلا شرکت غیرے اکیلے مالک ھوں گے۔ اور جس ڈیجیٹل کرنسی سے دنیا بھر سے یہ سب کچھ خریدیں گے وہ کرنسی بھی انہی کے ہاتھوں کا کھیل ھو گی کہ جب جتنی چاھیں کمپیوٹرز میں ڈیجیٹل کرنسی بنا لیں. اور دنیا کو بےوقوف بنا کر اس علامتی بےوجود کرنسی سے دنیا کی اجناس خرید لیں۔۔۔

لہذا یہ صہیونی دجّالی اب چین سے لیا گیا قرضہ کسی بھی طرح سے سینہ زوری کر کے واپس نہ کرنے کی پلاننگ کر رہے ھیں۔ تاکہ اس کے بعد ڈیجیٹل کرنسی کے معاملے میں دنیا بھر میں بغیر کسی معاشی طاقت کی شرکت کے صرف اور صرف یہود ہی اکیلے مالک و مختار ھوں۔ اب دیکھیے چین بیچارہ اس صورتحال سے شدید تر دباؤ میں ھے کل اگر قرض واپس نہ کرنے پر عالمی ایکا ھو گیا تو چین کسی ملک سے زبردستی تو قرض واپس لینے سے رہا۔اب مستقبل قریب میں چین لازماً روس پاکستان افغانستان ایران و ترکی سے مل کر یہود کی اس شاطرانہ چال کے خلاف کچھ بڑے اقدامات کرنے کی کوشش میں ھو گا۔ اب دیکھیے کیا ھوتا ھے۔۔۔

موجودہ حالاتِ حاضرہ کے مطابق دنیا میں چین کے خلاف ھو رہی سازشوں کو مدنظر رکھ کر، ڈیجیٹل کرنسی کے نفاز کی راہ ہموار کرنے اور آنے والی ڈیجیٹل کرنسی کو قرض واپسی کی شکل میں چین کے ہاتھ میں جانے سے بچانے کیلیے اور دنیا بھر کے تمام وسائل و معدنیات و خوراک سب کچھ ایک مسیح الدجّال کے قابو میں دینے کی پلاننگ کو دیکھتے ھوئے میری زاتی رائے ھے۔ اس رائے سے آپکا متفق ھونا لازم نہیں لیکن کڑی سے کڑی ملا کر جو نتیجہ نکلتا نظر آ رہا ھے وہ یہی ھے۔۔۔