بلاگ

چیزوں کی کہانی

صبح سویرے جب آپ اٹھتے ہیں تو صابن اور پانی سے ہاتھ منہ دھوتے ہیں، برش یا مسواک سے دانت مانجھتے ہیں، اور کنگھے سے بال بناتے ہیں۔ کھانے کے وقت میز کے سامنے کرسی رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں ،ضرورت پڑنے پر چمچہ استعمال کرتے ہیں۔ جو کھانا آپ کھاتے ہیں، چولھے پر پکتا ہے اور پکنے کے بعد برتنوں میں آپ کے سامنے لایا جاتا ہے۔ ڈونگے سے رکابی میں کھانا نکالتے ہیں، پھر اطمینان سے کھاتے ہیں۔ جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو آپ بتی جلا دیتے ہیں۔ گرمی لگتی ہے تو پنکھے کی رفتار تیز کر دیتے ہیں۔جب گھڑی بتاتی ہے کہ سونے کا وقت ہو گیا تو آپ کپڑے بدلتے ہیں، لیٹنے کی تیاری کرتے ہیں اور پلنگ پر لیٹ کر گہری نیند سو جاتے ہیں۔ صابن اور پانی، برش، مسواک، کنگھا، کرسی اور میز، چھری اور چمچہ، بتی اور کنگھا، گھڑی اور پلنگ۔ ہم صبح سے لے کر رات تک کتنی بہت سی چیزوں کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ چیزیں اب ہماری زندگی کا حصہ بن گئی ہیں کہ ہم ان کے بارے میں غور کبھی نہیں کرتے۔

مگر ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب لوگوں کو اس طرح کی بس تھوڑی سی سہولتوں کے ساتھ گزارہ کرنا پڑتا تھا اور اس سے پہلے ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب ان میں سے کوئی بھی سہولت موجود نہیں تھی۔ اس وقت ہر آدمی کو سخت گیر فطرت کے خلاف جدوجہد کرنی پڑتی تھی اور زندہ رہنا اسی جدوجہد کا نام تھا۔ اپنے ذہن کو استعمال کر کے آدمی نے رفتہ رفتہ اپنے روز و شب کو آسان بنایا۔ اس نے موسم کی سختی پر قابو پانے کے طریقے ڈھونڈے، کام آسان بنانے کے لیے اوزار ڈھالے۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا ، لوگوں نے زندگی کو سہل اور آسان بنانے کے نت نئے طریقے ڈھونڈ لیے۔ انھوں نے مٹی سے برتن بنائے جس میں کھانا پکا سکیں اور پکا ہوا کھانا رکھ سکیں۔ بیٹھنے کے لیے کرسی اور لیٹنے کے لیے پلنگ بناۓ۔ طرح طرح کی چیزیں بنائیں۔ گھروں کی اور سامان کی حفاظت کے لیے تالے بنائے اور تالے کھولنے کے لیے چابیاں۔ وقت کا دھیان رکھنے کے لیے گھڑی ایجاد کی اور وقت کے استعمال کے لیے کاغذ، قلم اور کتاب۔

لیکن یہ ساری چیزیں ایک دن میں حاصل نہیں ہو گئیں۔ چیزیں بھی لوگوں کی طرح بڑھتی اور بدلتی رہتی ہیں۔ اس کتاب میں چیزوں کی یہی کہانی بیان کی گئی ہے۔ پرانے زمانے کے لوگوں کے برخلاف آج کا انسان اپنی زندگی کا ایک دن گزارنے کے لیے کتنی ساری چیزیں استعمال کرتا ہے۔ ہم ان چیزوں کی سہولت کے عادی ہو گئے ہیں۔ لیکن یہ چیزیں ہمیشہ سے موجود نہیں تھیں۔ انسان کو اپنی ضرورت کے لیے چیزوں کو ایجاد کرنا پڑا۔ چیزوں کی یہ کہانی بتاتی ہے کہ مختلف زمانوں میں انسان نے کیسے ان چیزوں کو بنایا اور تبدیل کیا۔ مختلف ملکوں اور مختلف زمانوں سے ہوتی ہوئی چیزیں آ خراس شکل میں کیسے ہیں جس سے ہم مانوس ہیں۔

چیزوں کی کہانی کا یہ بنیادی خیال جرمن نژاد مصنف فرینک چوپو کی ایک کتاب سے ماخوذ ہے۔ یہ کتاب بڑی دلچسپ اور معلوماتی ہے۔ اس کتاب میں یورپ اور امریکہ کے معاشرے کا ذکر زیادہ ہے مجھے یہ مناسب معلوم ہوا کہ اس کے ترجمے کے ساتھ ساتھ اس کتاب میں اپنے معاشرے اور اپنی تہذیب کا حوالہ شامل کیا جائے جس طرح چیزیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ کر بدل جاتی ہیں اور لوگوں کی ضرورت کے مطابق ڈھل جاتی ہیں، اسی طرح چیزوں کی کہانی میں بھی تبدیلیاں اور اضافے کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ پرانے زمانے میں ہمارے ہاں جس طرح کی چیزیں استعمال میں آتی تھیں اور جو قاعدے قرینے برتے جاتے تھے، اس کے بارے میں سید صباح الدین عبدالرحمن کی کتاب "ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے عہد کے تمدنی جلوے” سے استفادہ کیا گیا ہے۔ اردو کی بعض کلاسیکی کتابوں کے حوالے بھی دیے گئے ہیں تا کہ پڑھنے والوں کے سامنے ایک کامل تصویر آ جائے۔ چیزوں کی کہانی سے ایک بات بہت واضح ہوتی ہے کہ اس کہانی کے ذریعے تہذیب کے عمل سے واقف ہو سکتے ہیں- چیزوں کی بدلتی ہوئی شکلیں ہمیں تہذیب کی کہانی سناتی ہیں اور یہ بتاتی ہیں کہ ہماری ثقافت میں کس طرح کی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اگر ہم غور سے دیکھیں تو ہمارے اردگرد کی چیزیں ہمیں بتا رہی ہے کہ ہم کون ہیں اور کہاں جارہے ہیں۔

آج کی پوری دنیا میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں ہو رہی ہیں، اور ہمارا معاشرہ خاص طور پر بہت سی تبدیلیوں کی زد پر ہے۔ ان تبدیلیوں کی رفتار پرانے معاشرے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس کی ایک مثال دیکھے۔ محمد حسین آزاد نے اپنی مشہور کتاب ”آب حیات” میں حضرت امیر خسرو کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک کوچے میں گزر ہوا جہاں ایک دکان میں دھنیا روئی دھنک رہا تھا کسی نے کہا کہ سارے دھنیے ایک ہی انداز میں روئی دھنکتے ہیں۔ امیر خسرو نے اس آواز کو الفاظ میں یوں بیان کیا۔ "درپئے جاناں جاں ہم رفت۔ جاں ہم رفت – جاں ہم رفت رفت رفت، ایں ہم رفت و آن ہم رفت۔ ایں ہم۔ ایں ہم رفت۔ رفتن۔ رفتن وغیرہ۔ یہ روئی دھننے والا جو امیر خسرو کے زمانے میں موجود تھا ۔ آزاد کے زمانے میں بھی موجود رہا۔ میں نے اپنے بچپن میں بھی اس کی آواز سنی ہے۔ لیکن اب ایک دم سے وہ غائب ہو گیا۔ اور اس کی آواز سنائی نہیں دیتی ۔ خسرو کے زمانے سے لے کر اب سے چند برس پہلے تک ، کوئی ساڑھے سات سو برس کا فاصلے ہے۔ اس آواز نے ساڑھے سات سو برس تو پارکر لیے۔ مگر ادهر چند برسوں کے اندر ہی اندر اس طرح غائب ہو رہی ہے کہ آئندہ چند برسوں میں جو بچے بڑے ہوں گے، انھیں امیر خسرو کے جواب کا مطلب کسی سے پوچھنا پڑے گا۔ صدیوں کے فاصلے چند برسوں میں طے ہوئے جا رہے ہیں ۔ ہم بعض چیزوں کو دقیانوسی قرار دے کر برا سمجھنے لگے ہیں اور بعض چیزوں کے استعمال کو بہت اچھا سمجھتے ہیں۔ چیزوں کی شکلیں پہلے بھی بدلی ہیں اور آیندہ بھی بدلتی رہیں گی جو کل تھا وہ آج نہیں ہے اور جو آج ہے وہ آیندہ نہیں ہوگا ۔ اس تبدیلی سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم غور کریں تو چیزوں کی کہانی میں بھولا ہوا سبق سکھلا سکتی ہے۔

ہم چیزوں کا استعمال تو بہت کرتے ہیں اور ان کی آسایش کے عادی ہو گئے ہیں ، لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہمارا معاشرہ چیزیں حاصل کرنے پر بہت زور دیتا ہے لیکن چیزوں کی قدر نہیں کرتا۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہو جاۓ کہ چیزیں کتنے طویل سفر کے بعد ہم تک پہنچی ہیں تو شاید ہم ان کو بہتر طور پر سمجھ بھی سکیں اور ان سے اپنے تعلق کو پہچانے لگیں۔ اس کتاب کی تالیف کا ایک مقصد یہ بھی ہے۔ اس کتاب کا منصوبہ کافی دنوں سے میرے ذہن میں تھا۔ اس کو مکمل کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میرے عزیز دوست طاہر مسعود نے اس کی اشاعت سے دلچسپی ظاہر کی اور اسے اپنے رسالے آنکھ مچولی میں شائع کیا، اور بچوں نے اسے خاصا پسند کیا۔ اب یہ کتابی صورت میں شائع ہو رہی ہے تو اس کتاب کو جناب طاہر مسعود کے نام معنون کرنا چاہتا ہوں۔