اسلام بلاگ

چھینک ایک نعمت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو چھینک پسند اور جمائی ناپسند ہے۔۔۔ جب کوئی چھینکے اور الحمداللہ کہے تو جو مسلمان سنے اس کے ذمے حق ہے کہ وہ اس چھینکنے والے مسلمان کو یرحمک اللہ کہے اور جمائی شیطان کی طرف سے ہے جب کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہوسکے جمائی کو دفع کرے کیونکہ جب انسان جمائی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے یعنی خوش ہوتا ہے اس لیے کہ یہ کسل مندی اور غفلت کی دلیل ہے اور ایسی چیز کو شیطان پسند کرتاہے ۔۔۔(بخاری )

پروفیسر نصر اللہ خان صدر شعبہ اسلامیات اسلامیہ کا لج لاہور فرماتے ہیں کہ ایک انگریز ڈاکٹر نے جب یہ حدیث پڑھی کہ مسلمانوں کے پیغمبر ﷺ نے فرمایا جو مسلمان چھینکے وہ الحمداللہ کہے جو مسلمان پاس بیٹھا ہو وہ یرحمک اللہ کہے اور پھر چھینکنے والا جواب میں یھدیکم اللہ کہے تو اس نے سوچا کہ ایک معمولی سے کام پر اتنی دعائیں پڑھنا کیا وجہ ہے؟ تو اس نے تحقیق کی اور پتہ چلا کہ اتنی دعائیں پڑھنا فضول نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کیونکہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ دماغ کی رگوں میں ہوا رک جاتی ہے اور قدرت نے اس کو نکالنے کے لیے ایک پریشر کا انتظام کیا ہے۔۔۔

اس طرح چھنک کے پریشر کے ذریعے ہوا ناک کے راستے خارج ہو جاتی ہے ۔۔۔ اگر یہ ہوا رکی رہے تو فالج کا خطرہ پیدا ہو جاتاہے، اس لئے چھینکنے والے کے لیے الحمداللہ پڑھنا رب العزت کی اس نعمت کا شکر ادا کرنا ہے ۔