بلاگ

چین میں ایغور مسلمانوں کی حالت ِ زار

ہم بھی عجیب قسم کے مفاد پرست لوگ ہیں ۔جہاں ہمارے مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو، وہاں پر ہم حدسے زیادہ حق گو اور اسلام پسند بن جاتے ہیں۔ایسے عالم میں پھراحتجاجی جلوسوں سے ہمارا غم وغصہ کم ہوتاہے نہ ہی قومی املاک کو نقصان پہنچانے اورمخالفین کے پتلے جلانے سے ہماری اندر کی آگ ٹھنڈی ہوتی ہے۔ لیکن جہاں ہمارے مفادات کو زک پہنچنے کا خدشہ ہوتوپھر وہاں پرہم لب بستگی کو غنیمت سمجھتے ہیں۔اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ رویہ ہم نے ریاستی اور سرکاری سطح پربھی اپنارکھا ہے ۔ دوغلے پن اور مفاد پرستی کاایسا مظاہرہ آج کل ہم ہمسایہ ملک چین میں ایغور نسل کے مسلمانوںکے معاملے میں کررہے ہیں۔ چین کے ساتھ چونکہ ہماری دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری ہے یوں اب وہاں پر ایغور وں پر ڈھانے والے مظالم ہم کو مسلمانوں پر ظلم اور نہ ہی انسانی حقوق کی حق تلفی لگتی ہے ۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے جنیوا میں ہونے والے اجلاس کے دوران چینی حکومت کے مظالم سے پردہ اٹھاتے ہوئے پوری دنیا کو بتایا ہے کہ چین کے سنکیانگ میں ایغور مسلم کمیونٹی چینی حکومت کی طرف سے گوناگوں مصائب سے دوچار ہے ۔

 

اس کمیٹی کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ ایغور مسلمانوں کو ایک بڑے حراستی کیمپ نما مقام میں بند کیا گیا ہے جہاں پر انہیں کوئی انسانی حق حاصل نہیں ہے ۔ رپورٹ کہتاہے کہ چینی حکومت نے اس کمیونٹی کے ساتھ ایسا ظالمانہ رویہ اختیار کیاہواہے کہ جیسے وہ چین کے باشندے نہیں بلکہ کسی دشمن ملک کے باشندے ہوں”۔ایغور نسلی اعتبار سے تُرک النسل مسلمان ہیں جو خود تقریبا ہرحوالے سے سنٹرل ایشین علاقوں کے قریب تر سمجھتے ہیں اور ان کی زبان بھی ترک زبان سے ملتی جلتی ہے جو صدیوں سے اس علاقے(سنکیانگ) میں آباد ہے ۔  سنکیانگ دراصل ماضی کا وہ ترکستان ہے جسے مشرقی اور مغربی ترکستان میں تقسیم کیا گیاتھا۔مغربی ترکستا ن پر ایک وقت سوویت یونین قابض تھی جسے بعد میں1991 میں آزاد ی مل گئی جبکہ مشرقی ترکستان یا سنکیانک ہنوز عوامی جمہوریہ چین کے قبضے میں ہے ۔اس علاقے پرا ٹھارہویں صدی عیسوی میں شنگ سلطنت کا قبضہ تھااور اسی زمانے میں اسے ” سنکیانگ  Xingiangیعنی ”نیا علاقہ یا نیا صوبہ” کا نام دیا گیا۔سنکیانگ میں ایغوروں نے اپنا الگ وطن قائم کرنے کی آخری کوشش 1949میں کی تھی جسے اسی وقت کی چینی حکومت نے سختی سے کچل دیاتھاجس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں ایغور مسلمان سرحد پار کرکے وسطی ایشیائی علاقوں میں منتقل ہوئے تھے۔

 

سنکیانگ میں آج سے ستر برس پہلے ایغور مسلمانوں کی آبادی خطے کی آبادی کا اٹھانوے فیصدتھی لیکن اب اس میں کمی آرہی ہے اوراس وقت یہ تعداد ایک کروڑ دس لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے کیونکہ  حالیہ برسوں میں چین کے دوسرے علاقوں سے ہان نسل کے چینی بھی بڑی تعداد میں سنکیانگ میں منتقل ہونا شروع ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ایغور اقلیت میں تبدیل ہوگئے ہیں۔چینی حکومت اس علاقے کے مسلمانوں سے دو وجوہات کی بناپر خوفزدہ ہے ، پہلا یہ کہ اس علاقے میں وقتاً فوقتاً  علیحدگی کی تحریک چلی تھی کیونکہ ماضی میں بھی چینیوں کی طرف سے ان مسلمانوں پر مذہبی قدغنیں لگائی جاتی تھیں۔دوسرا یہ کہ چین کو یہاں اسلامی پسندی پھیلنے کا خدشہ ہے۔علیحدگی کی تحریکوں اور شدت پسند عناصر پر قابو پانا بلاشبہ ہر ریاست کا حق ہے لیکن چینی حکومت نے اس کی آڑ میں مظالم کی حد کردی ہے ۔چین کی اس حواس باختگی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ چونکہ ایک دہری ملک ہے اور دہریت پر یقین رکھنے والوں کو ہروقت مذہب سے نفرت اور چڑ رہتاہے۔

 

انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ آج کل وہاں کی مسلم کمیونٹی کو انتہائی بے رحم نگرانی کا سامنا ہے ۔ وہاں پر آباد جن لوگوںکے رشتہ دار انڈونیشیا ، قزاقستان اورترکی جیسے حساس ملکوں میں رہتے ہیں ، انہیں بائیومیٹریکس اور اپنے ڈی این اے کے نمونے دینے پڑتے ہیں ۔ان کو باالجبرحراست میں لیا جاتاہے اور یہ تعداد اس وقت ایک ملین تک پہنچ چکی ہے ۔بین لاقوامی میڈیا میں حالیہ برسوں میں ایسے چشم کشا انکشاف ہوئے ہیں کہ سننے والے برما میں روہنگھیاووں پر ڈھانے والے مظالم بھی بھول جاتے ہیں۔ سنکیانگ کے ان حراستی کیمپوںسے نکلنے میں کامیاب ہونے والوں لوگوں نے میڈیا کو اپنے اوپر ہونے والے مختلف النوع مظالم کی داستانیں سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” حراستی کیمپوں میں چینی حکام ان کو الٹا لٹکائے رکھتے تھے اور ان کو سونے نہیں دیتے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری پٹائی کرتے وقت چینی اہلکاروں کے ہاتھوں میں لکڑی کے موٹے موٹے ڈنڈے اور چمڑے کے سوٹے ، مڑے ہوئے تاروں کے کوڑے ، جسم میں چبھونے کیلئے سوئیاں اور ناخن کھینچنے کیلئے پلاس ہوتے تھے”۔ ان سب مظالم کے ساتھ ساتھ وہاں چین میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ سب سے بڑا ظلم یہ ہورہاہے کہ ان سے مذہبی آزادی مکمل طور پر چھینی گئی ہے ۔ مسجدوں کی تعمیرپر پابندی ، حج اور عمر پر جانے پر پابندی ، لمبی داڑھی پر پابندی ، حجاب پر پابندی یہاں تک کہ روزہ رکھنے والوں پر بھی پابندی کی خبریں سننے کی ملی ہیں۔

 

دوسری طرف چینی حکام ان دعووں کو بے بنیاد الزامات سمجھتے ہیں اور ان حراستی مراکز کے بارے میں دلیل دیتے ہیں کہ ” یہ ہنر سکھانے کے مراکز یا ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز ہیں جہاں سوچ میں تبدیلی کے ذریعے شدت پسندی سے نمٹایا جائے گا”۔حالانکہ سچی بات یہ ہے کہ ان حراستی مراکز میں رکھے جانے والے افراد کو زد وکوب اور ٹارچر کرنے کیساتھ ساتھ سے چینی صدر شی جن پنگ سے وفاداری کا حلف اٹھوایاجاتاہے اور انہیںاپنے عقیدے ترک کردینے پر مجبور کیا جاتاہے۔رہائی پانے والے ان مسلمان قیدیوں کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیاہے کہ انہیں ” کمیونسٹ پارٹی کے بغیر چین کا وجودہی نہ ہوگا”جیسے گیت گانے پر بھی مجبور کیا جاتاہے اور جو قیدی اس ترانے کو حفظ نہیں کرسکتے تھے انہیں ناشتہ دینا بھی بند کردیا جاتاتھا۔گوکہ مسلمانوں کو حراستی مراکز میں محصور کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان مسلمانوں کو اپنے مذہب ، زبان اور ثقافت سے بیزار کیا جائے اور اس کے بدلے میں انہیں کمیونسٹ پارٹی کی عظمت ،چینی ثقافت سے محبت سکھایا جائے ۔ عالمی ایغور کانفرنس کی ایک رپورٹ میں کہا گیاہے کہ ان حراستی کیمپوں میں قیدیوں پر کوئی فردجرم عائد کیے بغیر غیر معینی مدت کیلئے رکھا جاتاہے ۔چینی حکومت ایغوروں پر افغانستان سے شدت پسندی کی تربیت لینے کا الزام لگاتی ہے لیکن اپنے اس دعوے کے حق میں اس نے کوئی ابھی تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیاہے۔حیف، اقوام متحدہ کے باربار کہنے کے باوجود چینی حکوت ٹس سے مس نہیں ہورہی اور وہاں کے مسلمانوں پرمسلسل ظلم ڈھارہی ہے۔ دوسری طرف ستاون مسلم ملکوں کے ہنماووں اور ہماری حکومت، عوام اور مذہبی طبقات نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے جوکہ نہایت افسوسناک ہے۔