اسلام بلاگ معلومات

چین کے مظلوم مسلمان اور ہمارے حکمران

امت مسلمہ کے کوئی بڑے ہیں یا یہ مکمل ہی لاوارث ہے ؟ رات سے چین کے حوالے سے قران پر ، مسلمانوں پر اور مساجد پر پابندی کی کچھ نئی ویڈیوز آئی ہیں …. جب جب اس طرح کی ویڈیوز یا خبریں آتی ہیں تو دل دکھ سے بھر جاتا ہے – لیکن ہم بے بس ہیں کہ کیا کر سکتے ہیں – کیونکہ جو کر سکتے ہیں وہ تو لمبی تان کر سوے ہیں یا اپنے اقتدار کی بقا کی جنگ میں مصروف ہیں – پھر جب ان المناک خبروں کے بعد ردعمل میں بے بس مسلمان نوجوان اٹھتے ہیں اور دشمن سے جا بھڑتے ہیں تو خود بھی مارے جاتے ہیں اور خاندان کے خاندان مصائب کا شکار ہوتے ہیں – ہماری حکومتیں پھر انتہا پسندی کا رونا روتی ہیں – انتہا پسندی پیدا ہی حکومتوں کے سرد رویے سے ہوتی ہے – اسی مثال کو سامنے رکھ لیجئے ، چین ہمارے پڑوس میں ہے سب سے زیادہ خرابی کا شکار بھی ہم ہو سکتے ہیں اس لیے ہماری حکومت کا پہلا فرض ہے کہ چین سے بات کرے ، ان کے حکمرانوں کو نرمی سے سمجھائے کہ پاکستان میں موجود نوجوان اس ظلم کے نتیجے میں کسی ردعمل کا شکار ہوتے ہیں تو اس کی ذمے دار چینی حکومت ہو گی –

مسلمان چین میں صرف دو فیصد ہیں ، یاد رہے یہ کل آبادی کا حصہ ہیں – ورنہ ابھی تک سنکیانگ میں ان کی اکثریت ہے – سنکیانگ یعنی مشرقی ترکستان کا علاقہ جس کا ذکر علامہ اقبال نے بھی ” تا بخاک کاشغر ” کہہ کے کیا – یہاں کے مسلمانوں کو "ایغور مسلمان ” بھی کہا جاتا ہے – مدت سے مسلم اکثریت کا علاقہ تھا جس پر چین نے غاصبانہ قبضہ کیا اور اب وہاں ظلم کا بازار گرم ہے – سوال یہ ہے کہ مسلمان اپنے ان مسلمان مظلوم بھائیوں کے لیے کیا کر سکتے ہیں ؟ اگر تو وہ وہی کچھ کریں گے جو برما میں کیا گیا تو یقین کیجئے یہ ایغور مسلمانوں کے لیے مزید مصیبت کا سبب ہو گا – برما میں اراکان کا علاقہ کبھی مسلمان ریاست تھا ، جسی پر برما نے قبضہ کیا – وہاں جہادی تحریک کھڑی کی گئی اور اب وہاں صرف بربادی کے سائے ہیں یا جلے ہوے شہر –

کرنے کا کام یہ ہے کہ مسلمان حکومتیں چین کی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ وہاں کے مسلمانوں کو فکر و عمل کی اور عبادت کی آزادی دے کہ جو ان کا بنیادی حق ہے – ان پر ناجائز پابندیاں ختم کرے ، ان کے ساتھ جبر والا رویہ نہ اپنائے ، مسلمانوں پر داڑھی کی ، حجاب کی اور قران کی حفظ کی پابندی ختم کی جائے – اب سوال یہ ہے کہ چین کیونکر ہماری بات مانے گا ؟ تو جناب آپ کی سوا ارب سے زیادہ آبادی ، اور اس آبادی کی شاندار قوت خرید آپ کی طاقت ہے ، یہ کسی ایٹم بم سے بڑی طاقت ہے ، بس اس کے استعمال کے لیے عقل اور فہم کی ضرورت ہے اور مظلوم بھائیوں کے لیے درد کی –

چین کی اپنی آبادی اتنی بڑھ چکی ہے کہ اس کے لیے بے تحاشا وسائل پیدا کیے بنا صرف موت باقی بچتی ہے سو اس معاشی موت سے بچنے کے لیے اسے وسیع منڈیاں چاہیں اور عالم اسلام اس کے پہلو میں واقع دنیا کی سب سے وسیع منڈی ہے – کس طرح ممکن ہے کہ وہ عالم اسلام کے عوام اور حکومتوں کے جذبات سے منہ پھیر سکے – اب یہ ہمارے حکمرانوں کا کام ہے کہ وہ آبادی کے اس ہتیھار کو استعمال کرتے ہوے ، اور کاروباری بائیکاٹ کا دباؤ ڈال کے چینی حکومت کو مجبور کریں کہ وہ مسلمانوں کا اور ان کی اقدار و مذھب کا تحفظ کرے – اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مستقبل میں بھی اس تحفظ کو برقرار رکھا جائے گا –

ایک بات اور بھی غور سے سن پڑھ لیجئے ..امریکہ اور یورپ اس وقت مسلسل اور دلجمعی سے چین میں کوئی جہادی تحریک کھڑی کرنا چاہ رہے ہیں .آپ یورپی اور امریکی ویب سائٹس پر چلے جائیں وہ مشرقی ترکستانی مسلمانوں پر مظالم کے ذکر سے بھری ہوئی ہیں – وہ مغربی کہ جنہوں نے پچھلے تیس برس سے پچاس لاکھ کے قریب مسلمان معصوم شہری قتل کر دیے آج چینی مسلمانوں کے لیے تڑپ رہے ہیں -… مگر کوئی احمق ہی تصور کر سکتا ہے کہ ان کی مسلمانوں سے کوئی ہمدردی ہو گی ..ان کا مقصد صرف چین کو مصیبت میں مبتلا کرنا ہے – اس سے ان کے دو ہدف ہیں ایک یہ کہ چین انتشار کا شکار ہو جائے اس کے ملک میں لڑائی شروع ہو جائے اور اس طرح اس کی توجہ اپنے کاروباری امور سے ہٹ جائے ….مزید یہ کہ قتل تو مسلمان ہی ہوں گے ان کا کیا نقصان –

ویسے تو سوشل میڈیا پر ہم عام مسلمان بھی اس محاذ پر کام کر سکتے ہیں …آپ کو یاد ہو گا کہ ہالینڈ میں خاکے بنانے پر مسلمہ امہ نے ان کے کاروباری بائیکاٹ کی دھمکی پر کس طرح ان کو پسپائی پر مجبور کیا تھا – سو سوشل میڈیا کے اس دور میں عوام بھی بہت کچھ کر سکتی ہے ،،سب کچھ حکمرانوں پر ڈالنا ضروری نہیں –