ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

چندا آپی

میرا نام تو کچھ اور ہے پر میری ممی مجھے پیار سے چندا کہتی ہیں-حوش آیا تو اپنی خوبصورت سوتیلی بہنوں کو دیکھ کر اپنی کم صورتی کا احساس ہوا ۔ والد ظالم ,سخت مزاج, غصے کے تیز – گالی گلوچ اور مارپیٹ والدہ کے ساتھ عام سی بات تھی-اس ماحول میں جوان ہوتے میں نے والدہ اور بڑی بہن کے ساتھ مل کر وہ گرُ سیکھے کےکوئی ڈگری یافتہ,تجربہ کار ,خوبصورت,خوب سیرت میرے سامنے ٹہر نہیں سکی۔

پہلی کامیابی !!اپنے دوسرے بھائی کی بیوی کوشاد ی تین ماہ کے اندر طلاق دلوا دی ۔بس ذرا سی ذہنی اذیت دی۔سارے خاندان کو کہا شیزوفریننا کی مریض ہے۔سب سے بڑے بھائی کی بیوی کو میں اس کے اخلاق اور دو بچوں کی وجہ سے نکلوا نہیں سکی۔خیر وہ بعد کا قصہ ۔

والد نے تیسرے بھائی کی شادی خاندان کی خوبصورت اور خوب سیرت لڑکی سے کر ادی۔والدہ اور ہم بہنوں کا چراغ جلنا بند ہو گیا ۔بھائی کی بیٹی بھی ہوئی- پر ہم نے اس بار بھی وہی ہتھکنڈے استعمال کئے ۔کامیابی حاصل کرنے کے لئے جادو ٹونے بھی کروائے۔آخر ہمارے نانا کا ورثہ چلے اور جادوٹونے ہیں۔جان چھوٹی آخر کار۔ہاں اس دوران بڑی بہن کو ڈاکڑوں نے بانجھ قرار دے دیا ۔خیر جو اللہ ّ کا حکم۔
ہاں تو میں کہہ رہی تھی پھر میری شادی ہوگئ۔شوہر کو میں نے قابو کیا ۔قطر ،کینڈا ،پاکستان میں پھرتی رہی پر میرے شوہر کا دل ہر خوبصورت عورت پر مچل جاتا تھا۔ بیٹے کے چکر میں میری چار بیٹاں ہو گئیں- ۔اس دروان سب سے چھوٹے گھنے ، میسنھے بھائی نے شادی کی اور ہماری چالبازی ،جادو ٹونے کی سب سکیمیں بند ہو گئیں۔جن دو بھائیوں کی طلاق کروائی تھی وہ بھی شادیادں کروا کر علحيده ہو گئے۔

شوہر کی چھپی بےوفائی اور دوسری شادی کا خوف مجھے راتوں کو سونے نہیں دیتا ۔والد کو Dementia کا مرض لاحق ہو گیا وہ ذندہ لاش کی طرح بستر پر پڑے رہتے ہیں ۔اب والدہ اور میرے پاس کافی وقت تھا-قبل از وقت ہی سب سے بڑے بھائی سے ذکر کیا کے میری بیٹی کا رشتہ اپنے بیٹے سے کر لے ۔دولت بھائی کی بچ جاتی ۔بھابھی نے انکار کر دیا۔ اکیس سالہ شادی کا خاتمہ کروانا پڑا۔ بھائی کو جواں سال بیوی کے ایسے خواب دکھائے کے شریف بیوی کو طلاق دے بیٹھا ۔میں وقت گزاری کو بس رشتے دیکھ رہی تھی ۔دو سال گزر گئے اچانک بھائی نے پھر ایک حسین ہائی کوالیفیڈ اور مذہبی لڑکی سے میری غیر موجودگی میں نکاح پڑھا لیا۔دوبئی سے پاکستان آتے میرا ہر پلان فیل۔کہاں کی دولت کون سے رشتے۔

والدہ اور ہم دونوں بہنوں کی ذندگی اس کے آنے سے پہلے عذاب میں مبتلا ہوگئی۔ کو ئی چال ،تعويذ اس بے وقوف پر اثر نہیں کرتاتھا ۔83 سالہ والدہ ہار گئی۔ کوئی آگ تھی جس میں جل رہی۔بس کیا پھر رخصتی کے بعد 45 دن ہر حربہ آزمایا کے دلہن نفسیاتی مریضہ ہے۔اس دوران بھائی کو بھی احساس ہوا کے وہ جوان عورت کے قابل نہیں ہے ۔ہماری تو لاٹڑی نکل پڑی۔مل جل کر ھمارا کام بن گیا یہ اور بات بھائی کا چالیس لاکھ اور میرا دس لاکھ شادی پر خرچ ہوا-اربوں بچ گیا۔شکر رب کی ذات کا- مگر رات کو میں جب سوتی ہوں عجیب سی کفیت ہوتی ہے۔کوئی سانپ سا خیال مجھے بے چین کئے رکھتا ہے ،احساس محرومی ہے ۔کچھ دن کی بات ہے یہ بھی ٹھیک ہوجائے گا۔عقل کے آگے شکل کی کوئی حیثیت نہیں ۔

قارئین !!!چندا ایک معاشرتی المیہ کا نام ہے۔شکل و صورت کی کمی تو محض ایک علامتی اصطلاح ہے۔معاشرتی نظام کو بگاڑنے کے لئے یہ ہر دور میں موجود ہوتا ہے۔یہ ناسور طبقاتی تفرقہ سے بالا تر ہے۔وجہ حسد سے شروع ہو کر تعلیم کی کمی،شوہر کی بےوفائی،باپ بھائیوں کی سختی اور لاپرواہی ، عدم تحفظ، اللہ سے دوری پر ختم ہوتی ہے۔ حقائق کافی تلخ ہیں نام بدلتے ہیں پر کہانی چلتی رہتی ہے۔جن پڑھنے والوں کو مایوس تصویر کشی لگے وہ غور سے دیکھیں تو مکافات عمل کے کافی پہلو نظر آئیں گے۔

چندا سے بہت معذرت کے ساتھ اگر یہ کہانی اس کی نظر سے گزرے۔کسی کو تو بارش کا پہلا قطرہ بننا ہے۔سچ لکھنا ہے۔ یہ ایک نقطہ نظر نہیں ظالم خاندان کی کہانی ہے۔دل تو چاہتا تحریر کے آخر پر نام اور پتہ لگا دوں ظالموں کے -پر فیصلہ کا انتظار بڑے دربار سے ہے۔ اللہ کریم ہم سب کو اس فتنہ سے محفوظ رکھے۔بیٹے اور بیٹیوں کے نصیب میں سکون رکھے۔آمین ۔
۔ام حبیبہ

تبصرے
Loading...