بلاگ

چند مفت مشورے

1۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کو ترک کیجیے اور "لاقانونیت” کے خلاف جنگ کا آغاز کیجیے۔ فرق کیا ہے ؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک Selective معاملہ ہے جس میں کوئی خاص عمل، اپنا پرایا، پسند نا پسند وغیرہ اصل Deciding Factor ہوتا ہے، Actual offence سے بھی زیادہ۔ اسکے اہداف بھی محدود ہوتے ہیں اور بہت سی دفعہ Collateral Damage مطلوب فوائد کی نسبت زیادہ ہو جاتا ہے۔ یہ ایک Time Limited operation ہوتا ہے جس کے ثمرات بھی محدود نوعیت کے ہوتے ہیں۔ آپ اسے "فائر فائٹنگ” کہہ لیجیے۔

لاقانونیت کے خلاف جنگ ایک خالصتاً تکنیکی مسئلہ ہے جس میں ہر وہ فرد، گروہ، ادارہ جو ملک کے قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ مجرم ہے اور اسکو سزا ملنا لازم ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ کون ہے، کیا ہے اور کہاں سے ہے۔ یہ مستقل عمل ہے جو معاشرے میں ہمہ وقت جاری رہتا ہے، اور با الآخر تہزیب یافتہ معاشرے کی پہچان بنتا ہے۔ اس میں ضابطہ اور پراسیس روبہ عمل ہوتے ہیں اس لیے Collateral Damage نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والا بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہوتا ہے اور صرف یہ وہ واحد راستہ ہے جو عوام میں احساس تحفظ اجاگر کرتا ہے۔

2۔ کلیہ بنا لیں کہ اگر VVIPs کو محفوظ بنانا ہے تو پسنی، راجن پور، گلگت، نیلم، کرم ایجنسی کے رہائیشی کو تحفظ دینا ہو گا ورنہ لاکھ بلٹ پروف کاریں بھی ناکافی رہیں گی اور آج نہیں تو کل ۔ ۔ ۔ ! 3۔ اس بات کو فراموش کر دیں کہ کون ہمارے خلاف کیا کر رہا ہے۔ ہمارے کرم فرماؤں نے ہمارے لیے اس ضمن میں آسانی فرما دی ہے۔ وہ سب اکٹھا ہو کر ہم پر حملہ آور ہیں۔ ہمارا واسطہ صرف اور صرف اس بات سے رہنا چاہیے کہ ہمارے نظام میں Loop Holes کہاں ہیں اور ان کو جلد از جلد بند کرنے کے لیے کیا کِیا جاسکتا ہے۔

4۔ وقت آگیا ہے کہ میڈیا کو پالیسی Implementation میں اسکا جائز کردار دیا جائے تاکہ وہ اپنی اہمیت ثابت کرنے کے چکر میں خوامخواہ غیر سنجیدہ Practices اپنانے اور سنسنی خیزی وغیرہ سے گریز کرے۔ نیز قومی لائن کو Toe کرنے پر آمادہ رہے۔ میڈیا کو ایک مادر پدر آزاد نقارچی بننے کی دنیا کے کسی حصہ میں اجازت نہیں۔ جہاں ایسا ہؤا وہاں Chaos نے ڈیرے ڈال لیے۔ تاہم، یہ اپنی جگہ اہم ہے کہ اس ضمن میں میڈیا کو واجب احترام اور آزادی بھی دی جائے۔

مزید پڑھیں: کیا عمران کو کسی دشمن کی ضرورت ہے؟

5۔ سول ملٹری کشمکش کو ہوا دینے اور نمبر ٹانگو قسم کے دانشوروں اور اینکر حضرات پر ہر دو اطراف واضح کریں کے وہ اپنی دکانیں مضبوط تالا لگا کر بند کردیں۔ 6۔ تمام این جی اوز کے مقاصد، activities، اور فنڈنگ وغیرہ کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور ان پر اس حوالے سے ریگولیشن کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ اس ضمن میں ولادامیر پوٹن اور طیب اردوگان صاحب سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے جو غیر ملکی این جی اوز کو Parallel State کہتے ہیں۔ اگر سٹیٹ کی "رٹ” قائم کرنا مقصود ہے تو اس کو درپیش ہر چیلنج کو دیکھنا ہو گا، یہ فرق کیے بغیر کہ اسکا سورس پگڑی ہے یا ہیٹ۔

7۔ ہمارے دینی حلقوں کو بھی اب جان لینا چاہیے کہ ملک میں جاری پر تشدد کاروائیاں ایک انٹرنیشنل ایجنڈا کا مقامی فرنچائز ہے اور اسکا اسلام وغیرہ سے کوئی سروکار نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اسلام کے نام لیوا ہی سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اسکا چارہ نہ بنتے۔ ان افراد نے آپ میں سے کسی کو خلافت نہیں لے کر دینی بلکہ جو مقام اور احترام اس ملک اور معاشرے میں آپکا اور اسلام کا ہے یہ اسکے بھی درپے ہیں۔ 8۔ پریشانی و سینہ کوبی وغیرہ سے آجتک دنیا میں کوئی مسئلہ حل نہیں ہؤا، ہمارا بھی نہیں ہو گا۔ چناچہ یہ سب کرنا، خواہ فیس بک و ٹوٹر پر نوحے لکھ کر ہو یا دہائیاں دے کر، صرف قوٰی کا ضیاع ہے۔ اور نہ ہی یہ مسئلہ ایک دن میں حل ہو گا۔ بلکہ جو جغرافیہ ہمارا ہے کچھ نہ کچھ ہوتا ہی رہے گا۔ اس لیے حوصلہ، ایک دوسرے کے دکھ میں مدد اور اتحاد ہی ہمارے ہتھیار ہونا چاہئیں۔ اگر یہ بات کتابی سی محسوس ہو تو برائے کرم نیپولین اور ہٹلر کی جارحیت کے ہنگام روسی قوم کی جدوجہد و قربانی۔ پھر پہلی اور دوسری عظیم جنگ میں فرانس، بیلجیم، پولینڈ، برطانیہ وغیرہ کی کاوش اور دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور جاپان کی مکمل تباہی کے بعد محنت اور کامیابی کے سفر کا مطالعہ ضرور کریں۔

9۔ ہماری سیاسی و عسکری قیادت کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ قوم کی اس بے چینی کا بڑا سبب ماضی میں انکا رویہ ہے۔ اب وقت نہیں ہے کہ اس طرح کی luxury کو مزید افورڈ کیا جائے۔ سب کو کمر کسنا ہو گی اور ذاتی انا جیسے فروعی معاملات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے باہمی احترام اور اشتراک سے معاملات کو حل کریں اور عوام سے کوئی تقاضہ کرنے سے پہلے خود مثال قائم کریں۔ 10۔ اللہ تعالی کو یاد رکھیں اور کامیابی پر اکڑنے کے بجائے عاجزی سے اپنا سفر جاری رکھیں۔