بلاگ

چیمپین والدین

بچہ ایک خاموش ریکارڈر کی طرح ہوتاہے جو اپنے والدین کے ہر قول و فعل کو نوٹ کرتا ہے اور وہ اس کے ذہن میں محفوظ ہوتا جاتا ہے۔وہ جتنا اپنے والدین کو عملی طور پر کچھ کرتے ہوئے سیکھتا ہے ،اتنا کسی اور چیزسے نہیں سیکھتا۔وہ جب دیکھتا ہے کہ اس کا والد گھر آکر روز گلے شکوے کرتا ہے ، کہتا ہے کہ آفس میں باس اچھا نہیں ،کمپنی اچھی نہیں،وہ اپنے والد کو چیختے ہوئے بھی دیکھتا ہے ۔وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ میراوالد اپنے دفتر کے مسائل گھر لے آتا ہے اور گھر کے مسائل دفتر لے جاتا ہے ۔اسی طرح وہ والدہ کو بھی یہ سب حرکتیں کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں بیٹھ جاتا ہے کہ یہ دنیا بہت بری ہے ،معاشرہ ظالم ہے ۔اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ ہمارے ساتھ بڑی زیادتی ہورہی ہے ۔

دراصل بچوں کے ذہن میں بیٹھنے والا یہ نظریہ بہت خطرنا ک ہوتا ہے ۔بحیثیت والدین ہمیں شروع ہی سے بچوں کو بتانا چاہیے کہ یہ تمام مسائل زندگی کا حصہ ہیں ۔یہ زندگی کا ایسا جز ہے جس سے خلاصی ممکن نہیں ۔دنیا میں آنے سے پہلے انسان کے مسائل نہیں تھے ، دنیا سے جانے کے بعد بھی نہیں ہوں گے لیکن جب تک انسان دنیا میں ہے وہ مسائل کا سامناضرورکرے گا۔انسان کی پیدائش پر ایک پورا پیکج اس کو ملتا ہے جس میں جہاں نعمتیں اور راحتیں ہوتی ہیں وہی مسائل اور پرابلمز بھی ہوتے ہیں ۔لیکن عقل مند انسان وہ ہے جو ان مسائل کا سامناکرتا ہے ،پھر اس سے بھی عقل مند وہ ہے جو اپنی اولا د کو کرکے بتاتا ہے کہ دیکھوبیٹا!مجھے زندگی میں فلاں مسئلہ آیا تھا ،اس کو میں نے اس طرح حل کرلیا۔یہ میری زندگی کا غم اور دکھ ہے اس کو میں نے اس طریقے سے ختم کیا۔مجھے زندگی میں یہ چیلنج آیا تھا اس کو میں نے یوں اپنے لیے موقع بنالیا ۔بچے جب اپنے والدین میں یہ ہمت اور حوصلہ دیکھتے ہیں تو وہ زندگی کی اس حقیقت کو سمجھ جاتے ہیں اوراس کے ساتھ ساتھ ان کو یہ رہنمائی بھی مل جاتی ہے کہ اگر زندگی میں ہمارے ساتھ کہیں کوئی مسئلہ درپیش آیا تو ہم نے اس سے ایسے نبٹنا ہے۔

میں اپنے بچوں کو بتاتا ہوں کہ بیٹا میں نے اور آپ کی والدہ نے بڑی محنت کی ہے ۔میں ان کو ان تمام مقامات پر لے جاتا ہوں جہاں کسی زمانے میں ہم نے سخت حالات گزارے ہیں۔میں ان کو بتاتا ہوں کہ دیکھوبیٹا !ہم نے اس طرح کے مشکل حالات گزارے ہیں ،جب آپ ہماری زندگی میں آئے تو ہمیں ان مسائل کا سامنا تھا لیکن اللہ کے فضل و کرم سے ہم نے ان مسائل کے حل ڈھونڈلیے ہیں ۔بچے جب اپنے والدین کو ایک اچھے فائٹر کی طرح حالات اور چیلنجز سے لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں تووہ ان کو اپنا ہیرو مان لیتے ہیں۔ والدین میں زندگی کے مسائل سے لڑنے کا جو حوصلہ ہوتا ہے ،وہ بچوں کے اندر بھی سرایت کرجاتاہے اور ان کو بلندہمتی سے نوازتا ہے،جس کی بدولت وہ مشکل سے مشکل حالات کا بھی بہترین اندازمیں حل نکال لیتے ہیں ۔ وہ پھر زمانے سے گلہ شکوہ نہیں کرتے اور نہ ہی دوسروں کو قصور وار ٹھہراتے ہیں ۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بحیثیت والدین ہم بچوں کو اپنا آپ ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح نہیں ،بلکہ چیمپین کھلاڑی کی طرح بن کر دکھائیں ۔

(قاسم علی شاہ)