بلاگ

چہرے پر لکھی کہانی

قصے اور کہانیاں پڑھنے کی عادت ہمیں بچپن سے ہی پڑجاتی ہے۔ ہر کہانی الگ ہوتی ہے اور کہانیوں کا منفرد ہونا ہی انہیں قابل لطف بناتا ہے۔ ہر کہانی کی کہیں ابتدا ہوتی ہے اور چلتے چلتے ایک نتیجہ خیز انجام۔ کہانی لکھنے والا اگر انجام بتانا بھول بھی جائے تو بھی کہانی پڑھنے والے کے خیالات اس سٹیج پر آچکے ہوتے ہیں کہ اپنی سمجھ کے مطابق ایک نتیجہ اخذ کرسکیں۔ آج کسی کے پاس بیٹھیں، کسی کو توجہ دیں یا کسی کو گفتگو کی اجازت دیں تو وہ شخص ایک کہانی سنانا شروع کردیتا ہے دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر شخص ایک مکمل داستان اور افسانہ ہے۔ بس ایک چیز کی کمی نظر آئے گی کہ اس کے پاس الفاظ کا اتنا ذخیرہ نہیں ہوگا کہ وہ اس کہانی کو چار چاند لگا سکے یا پھر وہ ماہر کہانی نویس کی طرح جملوں کو ترتیب دینا نہیں جانتا ہوگا ورنہ ہر کوئی مصنف اور ادیب ٹھہرے۔ دنیا میں انسان بے شمار ہیں لیکن ان کے مزاج گنے چنے ہی ہیں۔ مثلاً آپ اگر تمام دنیا کے انسانوں کی فہرست بنائیں تو وہ تقر یباًساڑھے سات ارب نفوس پر مشتمل ہوگی لیکن ان تمام انسانوں کے مزاجوں کی لسٹ بنائیں تو وہ اس طر ح کی ہو گی …اچھا، برا، سخی، بخیل، محبت کرنے والا، محنت کرنے والا، سچا، کھرا، جھوٹا، بد ، بے چین، انسان دوست، شر پسند وغیرہ وغیرہ…یہ فہرست بہت مختصر معلوم ہوگی۔ یہ مزاج اپنی کہانیوں کو اٹھائے گلیوں، بازاروں اور کوچوں میں دندناتے پھرتے ہیں لیکن کسی کے پاس وقت نہیں کہ ان کی داستان سن لے۔ ان کے دل کا بوجھ ہلکا کردے اور ان کو اطمینان بخش دے۔ آخر کار وہ اپنی داستانوں کو اپنے ساتھ لیے دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ بے قرار زندگی کو بھی قرار کی موت کہاں ملتی ہے۔

ہم ابھی بہت چھوٹے تھے، کہانیاں سننے کے دور کی بات ہو رہی ہے، امی جان رات سونے سے پہلے ایک کہانی سنایا کرتی تھیں کہانی سنتے سنتے لوری شروع ہوجاتی اور ہم کہانی سننے کو بھول کر کہانی دیکھنے میں مست ہوجاتے تھے۔ اسی دور میں ایک عجیب بات ہمارے تجربے سے گزری کہ جب بھی ہم کوئی غلط کام یا غیر مناسب حرکت کرکے گھر میں داخل ہوتے تو امی جان فوراً چہرہ دیکھتے ہی پوری داستان کو سمجھ جاتیں اور پھر فوراً پوچھتیں کہ یہ کارنامہ کیوں انجام دیا پھر اپنی اس کہانی کو چھپانے کے لیے ایک نئی اور جھوٹ کہانی پیش کرنا پڑتی مگر سچی کہانیاں کہاں چھپتی ہیں۔ آپ کے چہرے کی کتاب کو سب سے پہلے پڑھنے والے قاری کا نام آپ کی ماں ہے۔ اس کہانیاں سننے والے دور میں یہ حقیقت سمجھ نہیں آتی تھی لیکن آج جب چار کتابیں پڑھ لی ہیں تو بچپن کے اس تجربے کو سند مل گئی ہے۔ کیونکہ ماہرین نفسیات کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ انسان کا چہرہ اس کے دل و دماغ میں چھپے جذبات، احساسات اور خیالات کو بیان کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن دیکھئے آپ کے چہرے کو سب سے پہلے جس ماہر نفسیات نے پڑھا وہ آپ کی اپنی ماں تھی۔

سب جانتے ہیں کہ زندگی ایک سفر ہے اس کی ابتداء پیدائش سے ہوئی اور انجام موت ہے۔ اس سفر کی داستان ہرچہرے پر نقش ہے۔ ہم مان لیتے ہیں کہ کسی کی کہانی سننے کا وقت ہمارے پاس کہاں؟ لیکن اس ساری داستان کو چند لمحوں میں جاننے کیلئے چہرے ضرور پڑھے جا سکتے ہیں۔ چہرے کے خدوخال، آنکھوں کی نمی، ماتھے کے بل اور ہونٹوں کی مسکان ساری کہانی کو بیان کر رہی ہوتی ہے۔ مجرم جرم کرنے کے بعد لاکھ حج کرآئے اس کا جرم اس کے چہرے پر نقش ہوتا ہے۔ مزدور کی محنت کا ثبوت اس کے جبڑوں کا کھچاؤ اور چہرے کی پیلاہٹ ہے۔ مکار اپنی مکاری کو کیسے چھپائے، اس کا چہرہ پکار پکار کر اس کی داستان کو منظر عام پر لانا چاہ رہا ہوتا ہے۔ بچہ معصوم ہوتا ہے یہ معصومیت کے نقوش اس کے چہرے پر نقش ہوتے ہیں۔ ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت اس کے چہرے پر عیاں ہوتی ہے۔ نظریں ملانے والے اور نظریں چرانے والے کچھ بیان کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ مظلوم کا چہرہ بے بسی کی تصویر بنا ہوتا ہے اور ظالم کے چہرے کی لالی کسی مظلوم کے بہتے خون کی داستان ہوتی ہے۔طنز کرنے والے کو اپنے چہرے کے سوا کوئی چہرہ نظر نہیں آرہا ہوتا ۔ ہم اپنے اصل چہرے پر لاکھوں چہرے چڑھانے کے عادی ہیں لیکن اصل چہرہ کیسے چھپے جو اس مالک نے خود اپنے ہاتھوں سے عیاں ہونے کیلئے بنایا ہے۔ اصل چہرے اور نقل چہرے کا فرق ہی ہمیں منافق بناتا ہے۔

کئی چہرے ہمارے لیے بے قراری کا باعث بن جاتے ہیں۔ وہ چہرہ جو ہمیں بے قرار کر رہا ہے کیا پتہ کسی کے لیے سکون کا باعث ہو۔ آج حالات کی چکی ہر ایک کو پیس رہی ہے اور حالات کی داستان چہروں پر لکھ رہی ہے نتیجے میں ہر چہرہ نا امید ہوا پڑا ہے اور آپ جانتے ہی ہیں کہ نا امید شخص اور مردہ شخص میں کوئی فرق نہیں ہوتا اس لیے ہر چہرہ حالات کی بے رحمی کی وجہ سے ایک کتبہ بنتا جا رہا ہے اور اگر کوئی آج کے زمانے کی سب سے ستم ناک، دردناک اور وحشت ناک داستان پڑھنا چاہتا ہے تو کسی کو سر راہ روک لے اور اس کے چہرے پر اپنی نظریں گاڑ دیں ، سب کچھ بیان ہوجائے گا۔