ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں
براؤزنگ زمرہ

افسانے

ٹھنڈا گوشت از سعادت حسن منٹو

ایشر سنگھ جونہی ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا۔ کلونت کور پلنگ پر سے اٹھی۔ اپنی تیز تیز آنکھوں سے اس کی طرف گھور کے دیکھا اور دروازے کی چٹخنی بند کردی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے، شہر کا مضافات ایک عجیب پراسرار خاموشی میں غرق تھا۔ کلونت کور پلنگ پر…
مزید پڑھ...

کالی شلوار از سعادت حسن منٹو

دہلی سے آنے سے پہلے وہ انبالہ چھانی میں تھی، جہاں کئی گورے اس کے گاہک تھے۔ ان گوروں سے ملنے جلنے کے باعث وہ انگریزی کے دس پندرہ جملے سیکھ گئی تھی۔ ان کو وہ عام گفتگو میں استعمال نہیں کرتی تھی لیکن جب وہ یہاں آئی اور اس کا کاروبار نہ چلا تو…
مزید پڑھ...

فرقہ پرست کون ہے ؟ از ابوبکر قدوسی

رات دو بجے درد سے بے چین ہو کے اٹھا ، کہ مدت سے شکم پروری کی بے اعتدالی نے مریض کر چھوڑا - کچھ افاقہ ہوا تو لامحالہ ذہن رات کی پوسٹ کی طرف چلا گیا - دیکھا تو چودہ طبق روشن ہو گئے بلکہ اس سے سے بھی سوا -کسی نے فرقہ پرستی کی بات کی ، کسی نے…
مزید پڑھ...

نامحرم کا موبائل، انٹرنیٹ اور فیس بُک کے ذریعہ دوستیاں گانٹھنا ۔۔۔ شیطانی خطرات کا حامل

سوال:آج کل بڑی تعداد میں نوجوان لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو منہ بولا بھائی بہن وغیرہ جتلا کر فون پر گھنٹوں باتیں کرتے ہیں ۔ کیا اس طرح سے کوئی کسی کا بھائی یا بہن بن جاتا ہے اور پھر کیا بھائی بہن کی طرح اپنی نجی زندگی کے مسائل شیئر کرنا صحیح…
مزید پڑھ...

سائیکل والا… از عارف خٹک

وہ میری ہم عمر ہے۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ 1997 میری گریجویشن کا سال تھا کامیابی کی خوشی اور مادر علمی سے جدائی کی اداسی کے ملے جلے احساسات تھے۔ پڑھائی مکمل ہو چکی تھی اکا دکا پیریڈز کے لیے اور بنیادی طور پر کاج کی لائف کے چند روز اور…
مزید پڑھ...

اللہ دتا از سعادت حسن منٹو

دو بھائی تھے۔ اللہ رکھا اور اللہ دتا۔ دوست ریاست پٹیالہ کے باشندے تھے۔ ان کے آباؤ اجاد البتہ لاہور کے تھے مگر جب ان دو بھائیوں کا دادا ملازمت کی تلاش میں پٹیالہ آیا تو وہیں کا ہورہا۔ اللہ رکھا اور اللہ دتا دونوں سرکاری ملازم تھے۔ ایک چیف…
مزید پڑھ...

اصلی جن از سعادت حسن منٹو

لکھنؤ کے پہلے دنوں کی یاد نواب نوازش علی اللہ کو پیارے ہوئے تو ان کی اکلوتی لڑکی کی عمر زیادہ سے زیادہ آٹھ برس تھی۔ اکہرے جسم کی ، بڑی دُبلی پتلی ، نازک ، پتلے پتلے نقشوں والی۔ گڑیا سی۔ نام اس کا فرخندہ تھا۔ اُس کو اپنے والد کی موت کا دُکھ…
مزید پڑھ...

آرٹسٹ لوگ از سعادت حسن منٹو

جمیلہ کو پہلی بار محمود نے باغ جناح میں دیکھا۔ وہ اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ چہل قدمی کررہی تھی۔ سب نے کالے برقعے پہنے تھے۔ مگر نقابیں اُلٹی ہوئی تھیں۔ محمود سوچنے لگا۔ یہ کس قسم کا پردہ ہے کہ برقع اوڑھا ہوا ہے۔ مگر چہرہ ننگا ہے آخری اس پردے…
مزید پڑھ...

اُس کا پتی از سعادت حسن منٹوؔ

لوگ کہتے تھے کہ نتھو کا سر اس لیے گنجا ہوا ہے کہ وہ ہر وقت سوچتا رہتا ہے اس بیان میں کافی صداقت ہے۔ کیونکہ سوچتے وقت نتھو سر کھجلایا کرتا ہے۔ چونکہ اس کے بال بہت کھردرے اور خشک ہیں اور تیل نہ ملنے کے باعث بہت خستہ ہو گئے ہیں۔ اس لیے بار بار…
مزید پڑھ...

ایک زاہدہ ، ایک فاحشہ از سعادت حسن منٹو

جاوید مسعود سے میرا اتنا گہرا دوستانہ تھا کہ میں ایک قدم بھی اُس کی مرضی کے خلاف اُٹھا نہیں سکتا تھا۔ وہ مجھ پر نثار تھا میں اُس پر ہم ہر روز قریب قریب دس بارہ گھنٹے ساتھ ساتھ رہتے۔ وہ اپنے رشتے داروں سے خوش نہیں تھا اس لیے جب بھی وہ بات…
مزید پڑھ...