اہم بلاگ صحت معلومات

چین میں سانس کی بیماری کا باعث بننے والا نیا وائرس ( کورونا وائرس) بے قابو!

چین میں حکام اور WHO کے مطابق کرونا وائرس ایسا وائرس جو زکام پیدا کرتا ہے۔ جب کوئی نیا وائرس دریافت ہو جس سے لوگوں کو نمونیا ہو تو ایسا وائرس ہمیشہ ہی صحت عامہ کے حکام کے لیے تشویش کا باعث بنتا ہے اور دنیا بھر کے حکام اس وقت ہائی الرٹ پر ہیں۔

یہ وائرس کیا ہے؟ یہ ایک پراسرار وائرس ہے جو اب تک سائنس کے علم میں نہیں تھا، چین کے شہر ووہان میں پھیپھڑوں کے شدید عارضے کا باعث بن رہا ہے۔ سیویئر ایکیوٹ ریسپائیریٹری سینڈروم (سارس) نامی وائرس (کرونا وائرس) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ وائرس کی خاندان ہے لیکن اس قسم کے وائرس میں صرف 6 ایسے ہیں جو کہ انسان کو متاثر کرتے ہیں اور یہ نیا دریافت ہونے والا ایسا ساتواں وائرس ہوگا۔ چین میں سنہ2002 میں نظام تنفس کو شدید متاثر کرنے والی بیماری (سارس) جو کہ کروناوائرس کی وجہ سے پھوٹی تھی اس میں 8098 متاثرہ افراد میں سے 774 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ سمندر میں پائے جانے والے کچھ ممالیہ جانورں میں کرونا وائرس پایا جاتا ہے (مثلاً بیلوجا وہیل) مگر کچھ جنگلی جانور بشمول مرغیاں، چمگادڑیں، خرگوش اور سانپ بھی اس بیماری کا سبب بنتے ہیں۔

آخر چین میں یہ وائرس کیوں ذیادہ ہے ؟ پروفیسر وولہاؤس کے مطابق اس کی ایک وجہ گنجان آبادی اور ایسے جانوروں سے جسمانی قربت جن میں یہ وائرس پایا جاتا ہے، ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔ یہ کیسی پھیلتی ہے؟ اس نئی وبا کے بارے میں ایک امر جو اطمینان کا باعث ہے وہ یہ ہے کہ یہ نیا وائرس بظاہر انسانوں سے انسانوں میں نہیں پھیلتا۔ تاہم کچھ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ انسانوں سے انسانوں میں نہیں پھیل رہا۔ پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والے وائرسز کے بارے میں سب سے زیادہ باعثِ تشویش بات یہ ہوتی ہے کہ یہ کھانسی اور چھینکوں کا باعث بنتے ہیں جو وائرس کے پھیلنے کا سبب بنتا ہے۔ پروفیسر وولہاؤس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کرونا وائرس انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں، اس لیے یہ میری ابتدائی تشویش ہے۔

چین کے حکام نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟ متاثرہ افراد کو الگ رکھا جا رہا ہے تاکہ اس بیماری کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ متاثرہ افراد سے براہ راست جسمانی رابطے میں شامل افراد کی نگرانی کی جا رہی کہ کہیں ان میں بیماری کی کوئی علامات تو نہیں ہیں؟ مچھلی مارکیٹ کو بھی بند کر دیا گیا اور اس کی صفائی اور جراثیم سے پاک کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کتنی تشویش کا شکار ہیں؟ ڈاکٹر گولڈنگ نے کہا کہ ’ایک مرتبہ یہ انسانی خلیوں میں داخل ہو جائے تو یہ فوراً اپنے اندر تبدیلی پیدا کر سکتا ہے جس سے یہ زیادہ مؤثر اور زیادہ خطرناک انداز میں منتقل ہو سکتا ہے۔‘ چین میں پھیلنے والے وائرس کے ممکنہ خطرات اردگرد کے ممالک میں بھی بڑھنے لگے ہیں، وائرس سمندری غذا اور جانوروں سےانسانوں میں پھیلا ہے۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق چین سے پاکستان آنے جانے والے لاکھوں افراد کے ذریعے وائرس کی پاکستا ن میں منتقلی کا خدشہ ہے جس کے سبب چین سے پاکستان آنے جانے والوں کا طبی معائنہ کیا جائے گا اس مقصد کے لیے ائیر پورٹس پر خصوصی کاؤنٹر بنائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔