بلاگ معلومات

بی آر ٹی۔۔۔۔۔ یہ ہیں حقائق؟

پشاور میں بڑے بلنگ بانگ دعووں سے بی آ ر ٹی پراجیکٹ کا آغاز ہوا ۔ اب وہ دعوت عام دے رہا ہے کہ دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو ۔ ایشین ڈیویلپمنٹ بنک نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں اہلیت کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں لا کر پھوڑ دی ہے ۔ ہنڈیا سے کیا نکلا ، آپ بھی پڑھ لیجیے ۔

1 ۔ کسی ایک جگہ پر نہیں بلکہ چار مقامات یعنی سٹیشن نمبر دس ، بارہ ، پندرہ اور چھبیس پر سڑک کی چوڑائی مقررہ کردہ چوڑائی ساڑھے چھ میٹر سے کم ہے اور اس بات کا خطرہ ہے کہ ان مقامات پر بسیں آپس میں ٹکرا جائیں ۔ 2 ۔ صوبائی حکومت نے منصوبے کے اس ڈیزائن سے انحراف کیا جو ابتدائی طور پر رضامندی سے منظور کیا گیا تھا ۔ یہ تبدیلیاں بہت نمایاں ہیں اور انہوں نے پورے منصوبے کو نقصان پہنچایا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے میں ایک یا دو نہیں 22 عدد تبدیلیاں فرمائی گئیں ۔ ۔ ( تا کہ بی آر ٹی بھی یاد رکھے تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ گئی ہے) ۔ ان تبدیلیوں سے نہ صرف کام کا معیار متاثر ہوا ہے بلکہ یہ مسافروں کے لیے بھی خطرہ ہے ۔ 3 ۔ راستوں پر جو ٹائلز لگائی گئی ہیں وہ ناقص ہیں اور پھسلنے والی ہیں ۔ ان پر مسافروں کے پھسل کر گر جانے کا خطرہ ہے ۔ ایشین دیویلپمنٹ بنک نے کہا ہے یہ خطرناک ٹائلز تبدیل کی جائیں ۔

4 ۔ صوبائی حکومت نے تعمیراتی کام کی موزوں نگرانی نہیں کی ۔ 5 ۔ منصوبے میں حفاظتی نکتہ نظر سے لگائی جانے والی سیفٹی سگنل تائلز موجود تھیں جو نہیں لگائی گئیں ۔ 6 ۔ سٹیشن کی چھتیں طے شدہ معیار کے مطابق نہیں ہیں اور بارش میں مسافروں کا بچاءو نہیں کر سکتیں ۔ 7 ۔ روڈ مارکنگ میں بھی نقائص ہیں ۔ 8 ۔ ایشین ڈیویلپمنٹ بنک نے اس بات پر بہت زور دیا تھا کہ فینسنگ ایسی کی جائے جسے نہ تو کاٹا جا سکے نہ ہی چوری کیا جائے ۔ یعنی اینٹی کٹ اینٹی کلائمفینسنگ لگائی جائے لیکن پرویز خٹک کی ہدایات پر ناقص میٹیریل لگایا گیا جسے کاٹا بھی جا سکتا ہے اور چوری بھی کیا جا سکتا ہے ۔ 9 ۔ چمکنی ڈپو اور سٹیشن نمبر ۱یک پر نکاسی آب کا انتظام ناقص ہے یہاں دوبارہ کام کیا جائے اور یہ نقص دور کیا جائے ۔ 10 ۔ منصوبے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سب کنٹریکٹرز کو لیا گیا ۔ جس سے کام کی کوالٹی متاثر ہوئی ۔ 11 ۔ ٹکٹ جاری کرنے کے لیے بنائے گئے کھوکھے ناقص ہیں ۔ بنک کا کہنا ہے کہ اتنی سرمایہ کاری کے بعد یہ حرکت ناقابل قبول ہے ۔ اس حرکت سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر بہت منفی تاثر جائے گا ۔

12 ۔ سیڑھیوں کے سٹیپس کا سائز برابر نہیں ۔ کہیں بڑی ہیں کہیں چھوٹی ۔ اس سے مسافروں کے گرنے اور نقصان پہنچنے کا ڈر ہے ۔ 13 ۔ ریمپ اور سیڑھیوں کے لیے جو سٹیل فلورنگ میٹیریل استعمال کیا گیا اس کی کوالٹی اتنی ناقص ہے کہ ناقابل قبول ہے ۔ 14 ۔ کئی مقامات پر سیڑھیوں اور ستونوں کی الائنمنٹ ٹھیک نہیں وہ ٹیڑھے ہیں ۔ کئی مقامات پر انہین سٹیشن کے عین درمیان میں کھڑا کر دیا گیا ہے جس سے رکاوٹ سی پیدا ہو گئی ہے ۔ 15 ۔ فٹ پاتھوں پر ٹائلٹ بنا دیے گئے ہیں جو مسافروں کے چلنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔ —– اسلام آباد ہائی کورٹ نے درست فرمایا تھا : حکومت سے تقریریں جتنی مرضی کروا لیں، کام نہیں. حکومت کا موقف کیا ہے؟ ہم منتظر ہیں.