بلاگ معلومات

برانڈ کیوں ناکام ہوتے ہیں

جس وقت ایڈورٹائزنگ ایجنسیز کو کہا جاتا ہے یا کوئی کمپنی اپنے برانڈ کے ایمیج اور سیل کے لیے ریسرچ ورک کے لیے بلاتی ہے اس کو پروموٹ کرنے کا ٹاسک دیتی ہے تو وہ اپنی پروڈکٹ کے بارے میں بتاتے ہیں جس کو ہم پروڈکٹ بریف کہتے ہیں اس بریف میں وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ان کی پروڈکٹ کیوں اچھی ہے ، کیوں اپنی ہم عصر پروڈکٹ سے مختلف ہے ، اس بریف پر ایڈورٹائزنگ ایجنسی کام کرتی ہے اس پر ریسرچ ورک ہوتا ہے ، اردگرد موجود لوگوں سے سوال جواب ہوتے ہیں مثلاً اگر کسی ککنگ آئل پر کام کرنا ہے تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کون سا ککنگ آئل استعمال کرتے ہیں اور کیوں ؟ قیمت کی وجہ سے ؟ پیکنگ کی وجہ سے ؟ معیار کی وجہ سے ؟ یا کچھ اور اس کو ایڈورٹائزنگ کی زبان میں Public Insight کہتے ہیں ، پھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس کو خریدنے والے کس عمر کے ہیں ؟جنس کیا ہے ؟

پھر اس پروڈکٹ کی کمیونیکیشن کے لیے آئیڈیاز بنائے جاتے ہیں کہ اس اشتہار میں کس عمر کے لوگ دکھائے جائیں ؟ کس طرح کی فیملی ہو ؟ الفاظ کیا ہوں ؟ پنچ لائن کیا ہو ؟ اس کمرشل میں Big Idea کیا ہو ؟بگ آئیڈیا کہتے ہیں کسی بھی اشتہار میں سب سے زیادہ قابلِ توجہ سین یا الفاظ ، جیسے آپ نے کچھ دنوں پہلے دستک ککنگ آئل کا اشتہار دیکھا جس میں آفس کا پیون بچا ہو کھانا کھاتا ہے تو اس میں بگ آئیڈیا یہ تھا کہ آفیسر اس کو سلیقے سے جوٹھا کیے بغیر عزت سے کھانا دیتا ہے ۔کبھی کبھار کسی پروڈکٹ کا اشتہار ہٹ ہو جاتا ہے اور کبھی کبھار کوئی پروڈکٹ ، کبھی کبھار دونوں ۔

یہ بھی اس وقت ہوتا ہے جب وہ پروڈکٹ اپنے اشتہار میں کیے وعدے کو پورا کرتی ہے ، مثلاً Good Milk نے بہترین اشتہار بنایا "روز روز گڈ ملک پیا کرو” مگرپروڈکٹ نے اپنے معیار کو برقرار نہیں رکھا ، مارکیٹ میں پٹ گئی اس کو ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں "Brand Promise” پورا نہیں کیا ۔آپ اس کو عام زندگی میں یوں لے سکتے ہیں کہ اسکول کی بہترین عمارت ہو ، زبردست یونیفارم ہو اور دوپہر آپ کا بچہ گالی دیتا گھر میں داخل ہو ۔آپ کو نورس کا اشتہار یاد ہوگا "بھول نہ جانا پھر پپا” مگر خریدتے آپ روح افزاء ہیں یا کچھ لوگ جام شیریں ، وجہ ؟ وجہ صرف اور صرف معیار کو پورا نہ کرنا یا یہ بھی ممکن ہے کہ اپنے برانڈ کو مستقل بنیادوں پر عوام میں نہ رکھنا ۔عوام میں رہنا اور معیار کو قائم رکھنا ضروری ہے ۔اس لیے بہت سی مصنوعات ، سیاسی نظریات وقتی طور پر کامیاب تو ہو جاتے ہیں مگر وہ اپنا Brand Promise پورا نہیں کرتے ۔

تحریر صہیب جمال