صحت

بلڈ پریشر کنٹرول میں رکھیں

بلڈ پریشر کا مرض ہمارے ہاں تیزی سے پھیل رہا ہے . نوجوان ہوں یا زیادہ عمر کے خواتین و حضرات ان میں بلڈ پریشرہو رہا ہے۔ جو بھیانک بات ہے وہ یہ کہ ہمارے معاشرے میں لوگ بلڈ پریشر کو کوئی خاص لفٹ نہیں کرواتے، اول تو اگر انہیں بلڈ پریشر کا عارضہ ہوگیا ہے تو وہ اسے ماننے سے کلی انکاری ہوتے ہیں اور اگر کسی نہ کسی طریقے سے یہ سبق پڑھایا جائے یا باور کرایا جائے کہ بھئی! آپ کو بلڈ پریشر ہے تو وہ برملا بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ کوئی بات نہیں، یہاں ہر دوسرے شخص کو بلڈ پریشر ہے اگر ہمیں ہوگیا تو کونسی قیامت آگئی ہے۔ایسے لوگوں کے لئے بڑھتے ہوئے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لئے ادویات کا روزانہ استعمال تو جیسے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ کبھی دوائی کھالی کبھی نہ کھائی یا کافی عرصہ تک دوائی استعمال نہ کرنا اب ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب روزانہ کی بنیاد پر دوائی استعمال نہیں کرتے اور نہ ہی ہم نے گھر میں بلڈ پریشر چیک کرنے والا مرکری آلا رکھا ہوا ہے۔ حالانکہ ڈاکٹر صاحب نے ان کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرنے کو کہا کہ آپ نے روزانہ اپنا بلڈ پریشر چیک کرنا ہے۔ اس کا ریکارڈ یعنی ایک چارٹ بنانا ہے کہ آج کی تاریخ میں کتنا بلڈ پریشر ہے، کل کیا تھا اس طرح پورا ماہ بلڈ پریشر کا ریکارڈ بنا کر ڈاکٹر صاحب کو دکھانے سے ہی معلوم ہوگا کہ مریض کی دوائی کو کس طرح ایڈجسٹ کرنا ہے۔

مگر ہم کریں بھی تو کیا! ہم میں سے ہر ایک ڈاکٹر ہے اپنی دوائی کو کم یا زیادہ کرنا ہو یا دوائی کو بالکل بند کرنا تو کوئی ہم سے سیکھے۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب ہمیں خود پتہ چل جاتا ہے کہ ہمارا بلڈ پریشر آج کتنا زیادہ ہے کیونکہ ہمارے کان سرخ ہو جاتے ہیں۔ سر پر بوجھ، چکر محسوس ہوتے ہیں تو ہم اپنی چھوڑی ہوئی دوا کو پھر سے کھالیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بزرگوں کی طرح رات کو جلدی سونا اور صبح اُٹھنا باجماعت نماز ادا کرکے سیر کرنا، ہلکی پھلکی خوراک کھانا، خوب مشقت کرنا تو جیسے ناپید ہوچکا ہے۔ رات گئے ٹی وی کے سیاسی ٹاک شوز ہوں یا کوئی فلم دیکھنا ہو یا کوئی ٹی وی ڈرامہ یہ ہمارے محبوب ترین مشغلوں میں سے ایک ہے۔ رات دیر تک کھانا کھانا بلکہ خوب پیٹ بھر کر کھانے کا عظیم کارنامہ ہم روزانہ سرانجام دیتے ہیں۔ اوپر سے آرام پرستی رات دیر سے سونا صبح دیر سے اُٹھنا، ناشتہ 12 بجے کرنا دوپہر کا کھانا 5 بجے رات کا کھانا 12 بجے کھانا ہمارا معمول ہے۔ مرغن غذائیں، فاسٹ فوڈز، بوتلوں یعنی کولڈ ڈرنک کا بے تحاشہ اور بے دردی سے استعمال سونے پے سہاگہ ہے۔ سگریٹ نوشی ہو یا شراب نوشی ہو ہم کسی سے کم نہیں۔

بھئی! اپنا غم غلط کرنا ہے تو اپنے اللہ کو تو پکارو جس کے دروازے 24 گھنٹے کھلے ہیں۔ مگر ہم رفتہ رفتہ اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ اللہ کے آخری رسول ﷺ نے مکہ پاک اور مدینہ شریف میں جو زندگی گذاری اس پر عمل کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔کاش کہ ہم آقاؐ کے اس ارشاد پرہی عمل کر لیں کہ( کم کھانا، کم سونا اور کم بولنا)، پیارے آقاؐ کا یہ فرمان بڑا سائیٹیفک ہے کم کھانا یعنی موٹاپے سے نجات مطلب تمام بیماریوں کی جڑ سے چھٹکارا۔ اسطرح کم سونا یعنی رات کو جلدی سونا صبح تہجد کے وقت اُٹھ کر خدائے بزرگ و برتر کو یاد کرنا، اللہ توکل کرنا اللہ کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے، کو اپنے دل و دماغ میں ٹھہرانا، مخلوق سے اچھا سلوک کرنا خوش اخلاقی سے پیش آنانماز پنجگانہ پڑھنا۔ یہ میں اس لئے لکھ رہی ہوں کہ اگر ہم ایسا کریں گے تو اللہ کریم کے نیک بندوں میں اپنا تو نام لکھوائیں گے ہی اور شوگر اور بلڈ پریشر ہونے کی ایک بڑی اہم وجہ سے بچ بھی جائیں گے۔

وہ کیا ہے؟ Tension, Stress یعنی پریشانی ہر وقت سوچوں میں گم اس بات کی تکرار کہ بہت مشکل میں ہوں دماغ کام نہیں کرتا بہت ٹینشن ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ سگریٹ پیتے ہیں، شراب نوشی کثرت سے کرتے ہیں اور یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ جب انسان ٹینشن میں ہو یا کثرت سے شراب نوشی کرے تو خوب کھاتا ہے اور جب دبا کر کھائے گا تو وزن بے تحاشہ بڑھے گا جو شوگر اور بلڈ پریشر کو بڑھائے گااسطرح جوڑوں میں درد ہوگا تو پھر تھوک کے حساب سے درد کی دوائیاں کھانے میں وہ دیر نہیں لگائے گا۔ ایک اہم بات جو میں لکھنا چاہتی ہوں کہ پیارے ملک پاکستان میں لوگوں کے اندر برداشت تقریباً ختم ہو چکی ہے اگر سر میں درد ہو یا جوڑوں میں درد ہم مٹھی بھر کر درد کش ادویات کھاتے ہیں، شاید ہمیں معلوم نہیں کہ درد کی دوائیاں نا صرف معدے کا ستیاناس کرتی ہیں بلکہ بلڈ پریشر کو بڑھانے کا سبب ہیں اور اگر اور بھی زیادہ لمبے عرصے تک استعمال کی جائیں تو گردے فیل ہونے کا خدشہ بھی ہوسکتا ہے۔میں دوائیں کم تجویز کرتی هوں خاص طور پر درد کی دوائیں، میں نے مشاہدہ کیا ہوا ہے کہ درد کی دوائوں کا بکثرت استعمال ا نقصانات کر سکتا ہے۔ مگر ہم اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ خدار!ا ایسا نہ کریں اگر ایک مرتبہ شوگر یا بلڈ پریشر ہوگئے تو یہ ساری زندگی ختم نہیں ہوسکتے ان کو دوائوں سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور اگر دوائوں کا استعمال نہ کیا جائے تو صرف اور صرف موت ہی مریض کا مقدر بن جائے گی۔

ایک بات جو پلے باندھنے والی ہے وہ یہ کہ کہ اگرشوگر یا بلڈ پریشر یو جائے تو گھبرانے والی بات نہیں۔ یہ قابل علاج ہیں بروقت تشخیص بہترین دوائوں کا ریگولر استعمال، ریگولر ٹیسٹ اور اپنے معالج سے رابطہ آپ کی طویل زندگی کا راز ہیں۔ اب آتے ہیں کہ بلڈ پریشر آخر ہے کیا؟ بلڈ پریشر کا مریض ہم اُسے کہیں گے اگر مسلسل بلڈ پریشر بڑھنے کی ریڈنگ بلڈ پریشر کے آلہ پر آئے۔ اسے ہم بلند فشار خون کہتے ہیں۔ اگر بلڈ پریشر کی ریڈنگ 140/90mmHg دو مرتبہ دو مختلف وقتوں دو مختلف مواقع پر آئی تو ہم اُس مریض کو بلڈ پریشر کا مریض کہہ سکتے ہیں آئیے ہم ذرا تفصیل سے اس بات پر غور کرتے ہیں کہ بلڈ پریشر کی کتنی ریڈنگ کو ہم نارمل کتنی کو بلڈ پریشر کہیں گے۔

جدید تحقیق کے مطابق میڈیکل کی زبان میں جے این سی کمیٹی نے مندرجہ ذیل ریڈنگ کے بارے بتایا ہے کہ اتنی ریڈنگ نارمل اتنی بلڈ پریشر والی ہوگی۔ بلڈ پریشر میں اوپر والی ریڈنگ کو ہم Systolic اور نیچے والی کو Diastolic کہتے ہیں۔ اسے ہم ایک چارٹ میں ترتیب دیتے ہیں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔ Diastolic B.P mmHg Systolic BP mmHg کیٹگری 80 سے کم 120 سے کم نارمل 85 سے کم 130 سے کم نارمل 85-89 130-139 سے کم ابتدائی بلڈ پریشر 90-99 140-159 سے کم بلڈ پریشر یعنی ہائپرٹینشن 100-109 160-179 سے کم سٹیج نمبر 1 110 سے زیادہ 180 سے زیادہ سٹیج نمبر 2 بلڈ پریشر کی وجوہات: پرائمری بلڈ پریشر ٭ 20 سے 55 سال تک کے عمر کے لوگوں میں پرائمری بلڈ پریشر ہوتا ہے 95 فیصد لوگوں میں اسکی وجہ معلوم نہیں۔

سیکنڈری بلڈ پریشر ٭ اس قسم میں 5 فیصد لوگوں میں بلڈ پریشر کی وجہ معلوم ہوتی ہے ایسے لوگ نوجوان ہوسکتے ہیں۔ اسکی وجوہات میں گردوں کا فیل ہونا، گردے کی خون کی نالی کا تنگ ہوکر بند ہوجانا، یا دل سے نکلنے والی ایک بڑی نالی کا مسئلہ ہیں۔
پرائمری بلڈ پریشر کی وجوہات: مورثیت: پرائمری بلڈ پریشر موروثی بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے والدین جن کو بلڈ پریشر کا عارضہ ہو ان کے بچوں کے اندر بلڈ پریشر ہونے کے چانسز ہوتے ہیں۔ موٹاپا: ورزش کا نہ کرنا، خاص طور پر رات کا کھانا کھا کر فوراً لیٹ جانا، اللہ کے آخری رسول پیارے آقاؐ مغرب کے بعد کھانا کھا لیتے تھے۔ آجکل کے جدید دور میں 1400 سال پرانی بات ثابت ہورہی ہے۔ معدے اور جگر کے ماہر ڈاکٹر یہ کہتے نہیں تھکتے کہ کھانا مغرب کے بعد کھالیں اور 3 گھنٹے تک کم از کم نہ سوئیں نہ لیٹیں، رات کو واک کریں۔ آقاؐ رات کو 40 قدم چلتے تھے۔

شراب نوشی :کثرت سے شراب نوشی کرنا، جی ہاں شراب نوشی پیارے مذہب اسلام میں حرام ہے۔ اپنے آپ کو بھلادینے والی شراب کا کثرت سے استعمال بلڈ پریشر کا تحفہ دیتی ہے جبکہ ماهرین کے بقول هڈیوں میں بھر بھرا پن کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ سیگریٹ نوشی: اکثر حضرات یہ کہتے ذرا شرم محسوس نہیں کرتے اگر ان کو سگریٹ نوشی سے منع کریں تو کہتے ہیں کہ جو لوگ سگریٹ نوشی نہیں کرتے ان کو بھی تو بلڈ پریشر اور دل کے امراض ہو جاتے ہیں، آپ ہمارے ہی پیچھے کیوں پڑے ہیں۔ درد کش ادویات : درد کش ادویات کا بکثرت اور طویل عرصے تک بے جا استعمال۔ پوٹاشیم: پوٹاشیم کی کم مقدار کا استعمال :STRESS ہر وقت ٹینشن Stress میں رہنے والے لوگ. سیکنڈری بلڈ پریشر کی وجوہات: گردے : گردے میں خون کی نالیوں کی بیماری اورگردوں کی کچھ خاص قسم کی بیماریاں ۔ گلہڑ: گلہڑ کی بیماری، انسانی جسم میں خون کے اندر شامل ہونیوالے خاص ہارمونز کی کمی یا زیادتی سے ہونے والی بیماریاں۔

مانع حمل ادویات : مانع حمل ادویات استعمال کرنے والی عورتوں میں بلڈ پریشر کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ سٹیرائیڈ ادویات : سٹیرائیڈ ادویات کا استعمال بدقسمتی سے ہمارے ہاں ان دوائوں کا استعمال بہت زیادہ ہے۔ آپ نے اکثر اخبارات کے اشتہاروں میں یہ بات نوٹ کی ہوگی۔ پچکے گال، سوکھے، سکڑے پن کا علاج، ان میں سٹیرائیڈ ادویات ڈالی جاتی ہیں جو جسم کے اندر نمکیات اور پانی کو جسم سے باہر نہیں نکالتے، جسم مصنوعی طور پر پھول جاتا ہے، چہرے پر سرخی آجاتی ہے، پیٹ پھول جاتا ہے۔ اس سے ہماری عوام یہ سمجھتی ہے کہ یہ کیا کمال دوائی ہے حالانکہ یہ دوائی انتہائی مضر ہوتی ہے، بلڈ پریشر کرتی ہے۔ ہاں کچھ خاص قسم کی بیماریوں جیسے دمہ اور کچھ جوڑوں اور خون کی بیماریوں میں اسکا استعمال اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے کیا جاسکتا ہے۔

حمل : کبھی کبھار حمل کے دوران بھی کچھ خواتین میں بلڈ پریشر زیادہ ہو جاتا ہے بعض اوقات جھٹکے بھی لگ سکتے ہیں۔ ہارمونز: بعض خون کی بیماریوں جس میں ہارمونز کی زیادتی یا کمی ہو جائے،سے بھی بلڈ پریشر ہو جاتا ہے ۔ پرانا بلڈ پریشر : اگر بلڈ پریشر پرانا ہو جائے تو خون کی نالیاں سخت اور تنگ ہو جاتی ہیں جو خون کی روانی میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں اس طرح مزید بلڈ پریشر بڑھتا ہے۔
بلڈ پریشر کی علامات: یہ باتیں تو ہوگئی کہ آخر کیسے پتہ چلے گا کہ کسی کو بلڈ پریشر کا عمل شروع ہوچکا ہے؟ انسان کیا محسوس کرتا ہے۔؟ ٭ بلڈ پریشر روٹین میں چیک کروانے سے پتہ چل سکتا ہے۔ سر درد ہونا: سر کے پچھلے حصے میں درد محسوس ہونا، جو صبح صبح شروع ہوتا ہے، دن کے درمیان والے حصے میں کم ہو جاتا ہے مگر ایسا ہونا ضروری نہیں سر میں درد کسی بھی قسم کا ہوسکتا ہے۔

٭ بعض اوقات اگر بلڈ پریشر اچانک بہت زیادہ بڑھا ہوا ہو جو پہلے کبھی نہ چیک کروایا گیا ہو ایک دم محسوس ہو کہ قے آئے، آنکھوں کے سامنے اندھیرا یاچکر آئیں، ذہن کنفیوز ہو جائے تو اسے ہم بلڈ پریشر کی ایمرجنسی کہتے ہیں۔ اس وقت بہت زیادہ بلڈ پریشر ہوسکتا ہے۔٭ اگر بلڈ پریشر کی وجہ، گردوں میں موجود ایک خاص قسم کے کینسر کی وجہ سے ہو تو قے آنا، بہت زیادہ ٹینشن، دل کی دھڑکن تیز ہونا پسینے آنا رنگت کا پیلا پڑ جانا اور رعشہ ہو جانا نوٹ کیا گیا ہے۔ ٭ بلڈ پریشر کے مریض کا اگر علاج بروقت نہ ہوا ہو تو یہ چار وائٹل عضو کو متاثر کرتا ہے۔ ۱۔ دل ۲۔ دماغ ۳۔ آنکھیں ۴۔ گردے

بلڈ پریشر کیا کرتا ہے؟ اسکی پیچیدگیاں کیا ہیں؟ دماغ (فالج) بلڈ پریشر بڑھنے سے دماغ کی شریان پھٹ سکتی ہے۔ اسکی کچھ صورتیں ہیں یا تو انسان بے ہوش ہوکر زندگی کی بازی ہار جاتا ہے یا ایک بازو ایک ٹانگ فالج زدہ یا دونوں ٹانگیں فالج زدہ ہو جاتے ہیں اور اگر خدانخواستہ ایک مرتبہ فالج ہو جائے وہ دوبارہ پرانی حالت میں نہیں آسکتے۔ آنکھیں: اگر بلڈ پریشر زیادہ ہو جائے تو جس طرح دماغ کی شریان پھٹ سکتی ہے اسی طرح آنکھ کے پردے کے اندر موجود خون کی شریان بھی پھٹ سکتی ہے جو اندھے پن کی وجہ بن سکتی ہے۔ بلڈ پریشر زیادہ ہونے سے آنکھوں کی نالیوں میں تنگی آجاتی ہے تو نور کے پردے پر خون کی نالیاں متاثر ہوکر نور کے پردے کو انتہائی متاثر کرکے بینائی کو ہم سے کوسوں دور لے جا سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ اندھا ہونے میں دیر نہیں لگ سکتی۔ دل: دل کا دورہ، یعنی ہارٹ اٹیک بلڈ پریشر کا ہی گفٹ ہوتا ہے اگر بلڈ پریشر کنٹرول نہ رکھا جائے تو دل کا سائز بھی بڑھ سکتا ہے اور اس طرح دل کے فیل ہونے سے اُسے نہیں روکا جاسکتا۔ گردے: آجکل گردے واش کرنے کے لئے ڈائلیسز وارڈ مریضوں سے بھرے پڑے ہیں اگر آپ جاکر ان کا انٹرویو کریں تو معلوم ہوگا کہ ان کے ان ڈائلیسز یونٹس میں آنے کی ایک وجہ بلڈ پریشر بھی ہے۔ بلڈ پریشر والے مریض کے کونسے ٹیسٹ کروائے جانے چاہیں؟
پیشاب کا معائنہ : پیشاب کا خوردبین سے معائنہ تاکہ یہ پتہ چلا جا سکے کہ اس میں خون تو نہیں آرہا یا پروٹین تو نہیں آرہی، جو گردوں کے عارضے کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہ پروٹین آنا بلڈ پریشر کو کنٹرول نہ رکھنے کی بنا پر ہے۔ کریٹینن : رینل فنکشن ٹیسٹ یعنی یوریا اورکریٹینن کو چیک کرنا۔ یہ ٹیسٹ خون کا سیمپل لے کر ہوتا ہے۔ اگر یہ زیادہ ہو تو مریض کو گردے کا مرض ہو سکتا ہے جس کی وجہ بلڈ پریشر ہے۔

پوٹاشیم: جسم میں پوٹاشیم کی مقدار اگر کم ہو تو سمجھ جائیں کہ جسم کو بلڈ پریشر نے متاثر کیا ہے۔ شوگر کا ٹیسٹ :اگر جسم میں شوگر زیادہ ہو تو پھر بھی دل کا عارضہ ہوسکتا ہے۔ Lipid Profile Lipid Profile جسم میں چکنائی کی مقدار کو جانچنا۔ یورک ایسڈ یورک ایسڈ، اگر زیادہ ہو تو پھر بلڈ پریشر کی ادویات استعمال کرنے میں احتیاط اور کچھ خاص قسم کے پیشاب آور ادویات سے بچنا پڑتا ہے۔ -7 ای سی جی۔ چھاتی کا ایکسرے۔ تاکہ دل کے سائز کا پتہ چل سکے کہیں بلڈ پریشر کی وجہ سے دل کا سائز بڑھ تو نہیں گیا۔ ایکو کارڈیو گرافی۔ اگر بلڈ پریشر کی وجہ سے دل کا عارضہ ہو جائے تو ایکو کرانا ضروری ہے۔ بلڈ پریشر کا علاج کیسے کیا جائے؟ ذہنی دباؤ:پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کریں۔ وزن : وزن کو کم کریں۔ شراب نوشی : شراب نوشی سے اجتناب کریں۔ زیادہ نمک: بہت زیادہ نمک کا استعمال کم کیا جائے بالکل نمک بند کرنا بھی کسی طور پر ٹھیک نہیں۔ شوگر یا دل کی بیماری: اگر شوگر یا دل کی بیماری ہے تو اس کا علاج کیا جائے۔ دل کے ماہر ڈاکٹر سے رابطہ رکھا جائے۔ ٭ بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنے کے لئے دوائیاں موجود ہیں۔ اس کے لئے کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ٭ بلڈ پریشر کا مرکری والا آلہ گھر میں رکھیں، بلڈ پریشر چیک کرنا سیکھ لیں یہ بالکل مشکل نہیں۔ گھر کا کوئی ایک یا دو فرد سیکھ لیں۔ روزانہ بلڈ پریشر چیک کریں اس کا ریکارڈ یعنی تاریخ کے حساب سے چارٹ بنا کر اس کی ریڈنگ کو نوٹ کریں۔ یہ چارٹ اپنے ڈاکٹر کو دکھائیں تاکہ آپ کی دوا کے استعمال کو جانچا جاسکے۔ طرزِ زندگی: سادہ زندگی گزاریں، سادہ غذا کھائیں خوش و خرم رہیں۔ آپ کی تندرست زندگی کا راز اس میں پنہاں ہے۔ ٭ یاد رکھیں صحت ایک لازوال نعمت ہے اس کی قدر کریں۔