ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

لب بام—- –Blonde Bombshell (انگریزی ادب سے)

کمپنی کی طرف سے مجھے مختلف شهروں کے دورے پر جانا پڑتا ھے اور اس سلسلے میں اکثر میری ملاقاتیں نئے نئے اور طرح طرح کے لوگوں سے هوتی هیں. یه کاروبار ھی ایسا ھے. اکثروبیشتر لوگ مجھے اچھی طرح جانتے هیں.بلکه بسا اوقات تو ایسا هوتا ھے که میں بعض لوگوں کو نهیں جانتا. ایسے هی لوگوں میں ایک ادیڑ عمر شخص بھی هے. وه ایک سرمایا دار هے. جس دن کا میں ذکر کر رها هوں اس روز اتفاقا هم دونوں ایک هی ٹرین کے مسافر تھے جب هم لندن اسٹیشن پر اترے تو میں اس کی نظر میں ایک اجنبی تھا.

وه مجھ سے چند قدم آگے آگے چل رها تھا. اسٹیشن سے نکلتے هی میں نے دیکھا که ایک نوجوان سرخ بالوں والی پر کشش حسینه تیزی سے اس کی طرف بڑهی اور بغیر کسی شرم اور جھجک کے اس کے بازوؤں میں سما گئی. نهایت هی پر کیف منظر تھا. دونوں نے ایک دوسرے کو پیار کیا،چند لمحے دل لگی کرتے رهے اور پھر ایک چھوٹی سی کار میں بیٹھ کر روانه هوگئے.
نا معلوم کیوں میرا ذهن پراگنده هو گیا. میں تمام دن سوچتا رها لیکن یه منظر میرے قلب وذهن پر نقش هو کر ره گیا. میں باوجود هزار کوشش کے اس بات کو اپنے ذهن سے نه کھرچ سکا. یقینا میں اس قدر گرا هوا شخص نهیں هوں. خدا جانتا که میں نے اس گندے خیال کو اپنے ذهن سے جھٹکنے کی کتنی کوشش کی لیکن شیطان برابر میرے ذهن پر کچوکے لگاتا رها. میں نے سوچا، آخر اس بڈھے کو ایسی کیا ضرورت پیش آگئی ھے که شهر لندن میں اسے ایک نوجوان لڑکی سے تعلقات استوار کرنے پڑگئے.اگر اس کےخاندان والوں کو یه بات معلوم هو جائے تو انهیں کس قدر شدید دھچکا پهنچے گا اور یهی وه بات تھی جس نے مجھے ایک نئی راه سجھائی.

میں نے بعد میں پته چلا لیا که وه شادی شده هے اور اس کی دو لڑکیاں بھی هیں.دونوں لڑکیاں زیر تعلیم تھیں اور سی فرنٹ پریڈ پر واقع ایک بڑے مکان میں قیام پذیر تھیں. ایک هفتے بعد هم پهر ایک هی ٹرین کے مسافر تھے. اس بار میں نے اس کا تعاقب کیا اور اس کے دفتر پهنچ گیا. وه ایک بڑی بلڈنگ”گلوبل بلڈنگ سو سائٹی” میں داخل هوا. میں اس سے چند قدم پیچھے تھا. وه دفتر میں داخل هوا اور میں نے ایک شخص کی اواز سنی جو کهه رھا تھا. ” گڈمورننگ مسٹر واکر” اب باقی معلومات حاصل کرنا آسان تھا. باهر آکر میں نے ایک ٹیلیفون بوتھ سے گلوبل آفس فون کیا اور سوئچ بورڈ گرل سے کها که میں اس کمپنی کے مالک مسٹر واکر کو ایک تحریری درخواست پیش کرنا چاهتا هوں.

اس نے مجھے فورا پوری تفصیلات مهیا کر دی. میں نے ٹیلیفون ڈائریکٹری سے اس کے گھر کا پتا بھی چلا لیا. دفتر کے اوقات ختم هونے کے بعد میں نے اسے گھر پر فون کیا. میں نے اسے بتایا که مجھے اس کی گرل فرنڈ کے بارےمیں مکمل علم ھے اور اسے دھمکی دی که وه فورا میری خاموشی کی قیمت ادا کر دے ورنه یه راز افشا هو جائے گا. یه سن کر وه حواس باخته هو گیا اور میری بات ماننے پر بخوشی آماده ھوگیا.

صرف ایک هزار پاؤنڈ.میں نے کافی سوچ سمجھ کر یه رقم طلب کی تھی. مجھے یقین تھا که اس کے لیے یه رقم نهایت معمولی هے. بهر حال رقم کی ادائیگی کے لیے میں نے لندن ریلوے سٹیشن کے قریب ایک بار میں شام کا وقت مقرر کیا تھا. یه جگه بے حد مناسب اور پر سکون تھی. میں نے اسے اچھی طرح سمجھا دیا تھا که میں کهاں بیٹھا هوں گا اور وه مجھے کس طرح شناخت کر سکے گا. مجھے اپنی کامیابی کا مکمل یقین تھا.

مین اس کے انتظار میں ایک کونے والی نشست پر بیٹھ گیا. کچھ دیر بعد میں نے دیکھا که وه بار میں داخل هوا. اس کے ھمراه وه پیاری سی گڑیا بھی تھی. میرے شکار کے پیچھے دو حیوان نما خوفناک شکل والے انسان بھی تھے. جن کے چهروں سے درندگی ٹپک رهی تهی. ذهن میں ایک انجان خدشے نے سر ابھارا لیکن فورا هی میں نے اس خدشے کو جھٹک دیا. اور اطمینان سے بیٹھ گیا.

واکر سیدھا میرے پاس آیا. اس نے ایک مسکراتی سی نگاه میرے چهرے پر ڈالی اور بولا. ” میرا اندازه ھے که تمهی وه شخص هو جس سے مجھے ملاقات کرنا ھے. ” پھر اس نے اس حسین و شگفته پھول کی طرف اشاره کرتے هوے کها. ” ان سے ملو یه میری بڑی صاحبزادی ریٹا هیں اور وه دونوں جوان جو ابھی چند قدم پیچھے هیں سخت گیر لیکن انصاف پسند پولیس افسران ھیں.مجھے یقین ھے که ان سے مل کر تم بے حد مسرت محسوس کرو گے. ”

تحریر :- جیک براؤن۔۔۔۔بشکریہ زینیہ گل

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...