ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

بلاعنوان

دوپہر کاوقت تھا۔ شہرکی مشہور شاہراہ پر ٹریفک جام تھا۔کسی وزیر کا وہاں سے گزر ہونا تھا۔جس کے پروٹوکول میں دس ہزار بندوں کو روکا ہوا تھا۔لوگ سخت تنگ ہو رہے تھے۔وزیر کو گالیاں مل رہی تھیں۔کسی کی فلائٹ مس ہو رہی تھی،کسی کی ٹرین،کسی کو ہسپتال جانا تھا،باقیوں کو مختلف ضروری کام تھے۔لیکن کسے پرواہ تھی۔آخر ملک کے ایک وزیر کی جان زیادہ اہم تھی۔اللہ اللہ کر کے ایک گھنٹے بعد ٹریفک بحال ہوئی۔وزیر صاحب ’’بحفاظت‘‘ اپنے گھر پہنچ چکے تھے۔وزیر کا سیکرٹری اس کے پاس آیا۔

’’سر! پروٹوکول کے لئے ٹریفک رکی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے ایک زخمی بچہ ایمبولینس میں دم توڑ گیا!‘‘
’’اب اس میں ہمارا کیا قصور؟ اس کی موت لکھی تھی آگئی بس! حکمرانوں کی جان سے زیادہ کچھ اہم نہیں۔ہم ہی تو پورا ملک چلا رہے ہیں‘‘ وزیر نے لاپرواہی سے کہا۔

’’سر! وہ بچہ آپ کا بیٹا ہے! سکول سے واپسی پر اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا، وقت پر ہسپتال نہ پہنچنے کا وجہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وزیر کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔اسے لگا اسے کسی نے زور سے کھائی میں دھکا دے دیا ہو۔

تحریر : انعم چوہدری

تبصرے
Loading...