ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

بھلے کازمانہ ہی نہیں رہا

پہلے مجھے شک تھا‘ اب یقین ہوگیا ہے ۔۔۔پرسوں سخت سردی میں سڑک پر ایک محترمہ کو دیکھا جو موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھیں اورٹھنڈ کی وجہ سے کانپ رہی تھیں۔موٹر سائیکل ایک بزرگ چلا رہے تھے ۔میرے دل میں ہمیشہ کی طرح فوراً رحم کے جذبات ابھر آئے۔اگلے چوک پر اشارہ بند تھا‘ میں نے اپنی گاڑی موٹرسائیکل کے پاس کی اور شیشہ نیچے کر کے کہا’’بزرگو! سردی بڑی ہے ‘ یہ محترمہ کہیں بیمار نہ ہوجائیں‘ اِنہیں گاڑی میں بٹھا دیں میں چھوڑ آتاہوں کم ازکم ایک بندہ تو سردی سے محفوظ رہے گا ناں ‘‘۔یہ سنتے ہی بزرگوار نے گھورکر میرا جائزہ لیا اور دانت پیس کر بولے’’اِس کو میں ٹیکسی پر بھیج دیتا ہوں‘ مجھے ساتھ لے جاؤ‘ مجھے بھی بڑی سردی لگ رہی ہے‘‘۔بے اختیار میرے حلق سے افسوسناک آہ نکل گئی۔یعنی خواتین کا احترام ہی نہیں۔یہ بزرگ یقیناًبہت عرصے سے موٹر سائیکل چلا رہے ہوں گے‘ انہیں بھلا کیا گرمی سردی لگنی ہے۔لیکن انہوں نے اپنی ذات کو ترجیح دی ۔اشارہ کھل گیا تھا‘ میں نے شیشہ بند کیا اوریہ سوچتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی کہ ۔۔۔بھلے کا زمانہ ہی نہیں رہا۔

محمود صاحب مالی پریشانیوں کا شکار تھے۔بزنس میں پے درپے نقصان کی وجہ سے انہیں دل کا دورہ پڑا اور اُس کے بعد وہ گھر کے ہوکررہ گئے۔میں جب بھی ان کی عیادت کے لیے جاتا‘ اُن کے پورچ میں کھڑی 2015 ماڈل کی گاڑی کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتا رہتا۔ یہ گاڑی انہوں نے بڑے چاؤ سے خریدی تھی لیکن اب یہ مسلسل دس دن سے پورچ میں کھڑی تھی۔محمود صاحب کے بیٹے تو لندن میں تھے اور وہ خود اپنی بیگم کے ساتھ دو کنال کے گھرمیں رہتے تھے۔چونکہ محمود صاحب کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت تھی اس لیے میں نے اُنہیں پیشکش کی کہ میں اُن کی خاطر اپنا کرائے کا گھر چھوڑ کر فیملی سمیت اُن کے اپر پورشن میں شفٹ ہوجاتا ہوں تاکہ ہمہ وقت ان کے قریب رہ کر ان کی دیکھ بھال کرسکوں‘ ویسے بھی خالی گھر دیکھ کر چور ڈاکو گھس آتے ہیں۔ لیکن پتا نہیں کیوں محمود صاحب نہیں مانے۔پھر میں نے پیشکش کی کہ گاڑی گھرمیں کھڑی رہے تو انجن بھی سیز ہوسکتا ہے لہذا آپ چابی مجھے دے دیں تاکہ میں روزانہ گاڑی چلاتا رہوں۔۔۔بخدا میرا مقصد یہ تھا کہ محمود صاحب کی قیمتی گاڑی نقصان سے محفوظ رہ جائے۔خود سوچئے آجکل ایسے ہمدرد کہاں ملتے ہیں جو مفت میں آپ کی گاڑی کے بارے میں اتنے فکر مند ہوں۔لیکن نہیں۔۔۔محمود صاحب اس پر بھی نہیں مانے اورگاڑی فروخت کردی۔اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ بھلے کا زمانہ ہی نہیں رہا۔

میری محلے دار اماں جیراں نے شوہر کی وفات کے بعد چند لاکھ بینک میں رکھوائے تھے جس پر اُسے ماہانہ انتہائی معمولی منافع ملتا ہے۔ اماں جیراں بیچاری گھر گھر کام کرکے زندگی کی گاڑی چلا رہی ہے۔مجھے جب اماں جیراں کے حالات کا علم ہوا تو یقین کریں میری راتوں کی نیند اُڑ گئی۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اماں جیراں کی مدد کیسے کی جائے۔ پھرایک دن کرم ہوگیا‘ طریقہ ذہن میں آگیا۔میں نے اماں جیراں سے کہا کہ آپ بینک سے اپنے پیسے نکلوا کر مجھے دے دیں ‘ میں اُنہیں کسی ایسی جگہ انویسٹ کروں گا جہاں سے آپ کو ٹرپل منافع آتا رہے گا۔ اماں جیراں نے اپنی عینک درست کی اور اطمینان سے پوچھنے لگیں’’بیٹا! ایسی انویسٹمنٹ تم اپنے پیسوں سے کیوں نہیں کرلیتے؟‘‘۔ یہ سنتے ہی میرا دل ٹوٹ گیا۔۔۔اب میں اماں کو کیسے بتاتا کہ میں کوئی دُنیا دار انسان تھوڑی ہوں‘ میں تو روکھی سوکھی کھا کر بھی گذارا کرلیتا ہوں‘ مجھے تو خلق خدا کا درد مار دیتاہے۔شائد مجھے کسی سے ہمدردی نہیں کرنی چاہیے۔

آپ ہی بتائیں کیا مجھے بے حس ہوجانا چاہیے؟ پتھردل ہوجاؤں؟کسی کا کوئی عزیز چھوٹے موٹے جرم میں تھانے میں بند ہوجائے اور میں اسے چھڑانے کے لیے پولیس والوں کی منت سماجت کرکے بیس ہزار پہ راضی کرلوں لیکن اُسکے گھر والے چالیس ہزار دینے پر آمادہ نہ ہوں تو افسوس تو ہوتاہے۔یہ سنگدلی آپ کو جگہ جگہ دیکھنے کو ملے گی۔لوگ تو اتنے کٹھور ہوگئے ہیں کہ معمولی سی باتوں پر بھی اعتبار نہیں کرتے۔ابھی کل ہی کی بات ہے ‘ اے ٹی ایم کے باہرلمبی لائن لگی تھی‘ پتا چلا کہ باقی سارے قریبی اے ٹی ایم خراب ہیں‘ صرف یہی مشین چل رہی ہے۔حالانکہ میں نے پیسے نہیں نکلوانے تھے‘ اس کے باوجود قطار میں کھڑے ایک عمررسیدہ بندے کو دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا‘ میں نے قریب جاکر کہا’’آپ تھک جائیں گے‘ اپنا اے ٹی ایم کارڈ مجھے دے دیں اور پن کوڈ بتائیں‘ میں آپ کی مطلوبہ رقم نکلوا کر آپ کے گھر پہنچا دیتا ہوں۔‘‘ لیکن وہ تو ایسے بدکے جیسے میں نے اُن پر خنجر تان لیا ہو۔میں نے بڑا سمجھایا لیکن وہ نہیں مانے۔ میں نے بھی صدقِ دل سے دُعا مانگی کہ اللہ کرے اِن کا کارڈ مشین میں پھنس جائے۔

کبھی کبھی میں سوچتاہو ں کہ آخر لوگ میری نیک نیتی پر کیوں شک کرتے ہیں؟کیوں میرے سامنے اپنا بٹوہ نکالتے ہوئے ڈرتے ہیں؟کیوں مجھ سے اپنے مالی معاملات چھپاتے ہیں؟حالانکہ میرے کئی دوست میرے شاندار مشوروں کی وجہ سے آج لکھ پتی ہیں اس کے باوجود میری برائیاں کرتے ہیں۔کہتے ہیں ‘ پہلے ہم کروڑ پتی تھے۔ایک دوست کو میں نے مشورہ دیا کہ لیپ ٹاپ کا کنٹینر منگواؤ اور یہاں مہنگے داموں بیچ دو۔ اُس نے میری ہدایت پر عمل کیا لیکن بدقسمتی سے کسٹم ڈیوٹی نہیں دی۔ اس کا کنٹینر ڈرائی پورٹ پر پڑا ہے اور وہ خود آئی سی یو میں ہے۔میں بار بار اسے سمجھا چکا ہوں کہ میرے دوست! زندگی میں نقصان اُٹھا کر ہی تجربہ حاصل ہوتاہے ‘ لیکن پتا نہیں کیوں وہ سمجھتا ہی نہیں‘ بیڈ پر لیٹا ہوا بھی بددعائیں دینے سے باز نہیں آتا۔خدا اُسے ہدایت دے۔

یہ دنیا عارضی ہے‘ مجھے اِس سے کیا لینا دینا۔ اصل چیز لوگوں کے کام آنا ہے۔مجھے پتا ہے میرا سفر مشکل ہے لیکن پتا نہیں کیوں میں پھر بھی دوسروں کی مدد کی خاطر کیوں اتنا بے چین رہتا ہوں۔اگر مجھے پتا چلے کہ کسی دوست کے پاس پانچ لاکھ کیش پڑاہے اور ہفتہ اتوار کی چھٹی کی وجہ سے وہ یہ پیسے بینک میں جمع نہیں کراسکا تو کیا ایک دوست کی حیثیت سے میرا فرض نہیں کہ میں اُسے کہوں کہ بے فکر ہوکر یہ رقم میرے پاس رکھو ا دے تاکہ اُس کی زندگی محفوظ اور میری غیر محفوظ ہوجائے۔اگر میں پٹرول پمپ پر گاڑی میں پٹرول ڈلوا رہا ہوں اور مجھے اچانک کسی عزیز کا فون آجائے کہ اُس کے سر میں بڑی خارش ہورہی ہے تو کیا مجھے پٹرول پمپ والے کو پیسے دینے میں وقت برباد کرناچاہیے یا فوری طور پر گاڑی دوڑا کر مریض کی خیر خبر لینے پہنچنا چاہیے؟ کوئی اگر مجھے سو روپے والا موبائل کا کارڈ لینے بھیجے تو کیا مجھے کارڈ اپنے موبائل میں لوڈ کرکے چیک نہیں کرنا چاہیے کہ اصلی ہے یا نقلی؟۔۔۔لیکن خیر!چھوڑیے!بتایا تو ہے کہ بھلے کا زمانہ ہی نہیں رہا‘ اس کا ایک اور ثبوت سن لیجئے۔ پچھلے دنوں ایک پلیٹ ’’دہی بھلے‘‘ کی خریدی توریڑھی والے سے کہا کہ بھائی تم نے ’’بھلا‘‘ تو ڈالا ہی نہیں‘ آہ بھر کر بولا۔۔۔’’جناب بھلے کا زمانہ ہی نہیں رہا‘‘۔

گل نوخیزاختر

 

تبصرے
Loading...