اُردو صفحہ فیس بُک پیج

بلاگ کالمز

بیٹے سے بیٹے تک۔۔!

ایک دفعہ لاہور کے ایک بہت بڑے پبلشر نے مجھے بتایا کہ ماضی میں ایک معروف شاعرکے گھر اُن کا آنا جانا تھا۔ اچھے تعلقات تھے لیکن شدید حیرت ہوتی تھی کہ باہر کی دُنیا میں ایک درد مند شاعر کے طور پر پہچانا جانے والا انسان اپنی ماں کے ساتھ کس طرح بدترین سلوک کرتا تھا۔ پبلشر صاحب کے بقول انہوں نے اپنے سامنے کئی دفعہ یہ منظر دیکھا کہ شاعر اپنی ماں کوبدترین گالیوں سے نوازتا۔شاعر کی یہ کرم نوازیاں صرف اپنی سگی ماں کے لیے ہی نہیں تھیں بلکہ جس کسی سے بھی اس کو اختلاف ہوا، اُس کے خلاف بدترین پروپیگنڈا کیا۔کسی مخالف کے گھر بیہودہ رقعے پھینکے، کسی کے خلاف ٹی ہاؤس میں ناقابل برداشت زبان پر مشتمل فوٹو کاپیاں چسپاں کیں، کسی کے خلاف اپنی کتابوں میں من گھڑت اور گندے واقعات منسوب کردیے اور کسی کوذلیل ترین القابات سے نوازا۔

بدقسمتی سے میں اِن سب باتوں کا چشم دید گواہ ہوں۔جب یہ کسی پر گند اچھالتا تھا تو بڑے فخر سے اسے سازش کا نام دیتا تھا۔اسے شاعر سے زیادہ سازشی کہلوانے میں لطف آتا تھا۔اپنی بدتمیزیاں اسے چالاکیاں لگتی تھیں۔یہ شاعر اُس وقت شہرت کے آسمان پر تھا جب ایک دن بدترین سلوک سے تنگ آکر اس کی ماں نے سسکتے ہوئے ایک ہولناک جملہ کہا’تم نے جیتے جی آسمان تو دیکھ لیا ہے اب جیتے جی زمین بھی دیکھو گے‘۔ماں تو دنیا سے رخصت ہوگئی لیکن اُس کا بددعا بھرا جملہ شاعر کے پیچھے بلا کی طرح پڑ گیا۔زندگی کی پے درپے ناکامیوں کے بعد اب اسے ایک اور دُکھ ملا ہے جسے دیکھ کر مجھے دل سے افسوس ہوا۔اس کے ایک صاحبزادے کی نازیبا وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے بعد شاعر نے نہایت دُکھی دل کے ساتھ اپنے ایک وڈیو پیغام میں سوشل میڈیا پر بتایا کہ صاحبزادہ بدتمیز ہوچکا تھا، ماں باپ کو آنکھیں دکھانے لگا تھا اور اب کافی عرصے سے گھر بھی نہیں آرہا۔

شاعر نے اپنے بیٹے سے لاتعلقی کااعلان کیا اور دعا کی کہ اللہ ان کے صاحبزادے کو ہدایت دے۔ کاش یہ دعا وہ اپنے لیے بھی مانگ سکتے۔ایک باپ کی حیثیت سے میں اُن کے دُکھ کی حدت کو محسوس کر سکتا ہوں۔اُن کا بیٹا میرے بڑے بیٹے کی عمر کا ہے۔میں سوچتا ہوں کہ آج اگر اُس کی جگہ میرا بیٹا ہوتا تو میرا کیا حال ہورہا ہوتا۔یقین کیجئے میرا رواں رواں کانپ اٹھا ہے ایک باپ کا بیان دیکھ کر۔یہ سوفیصد ایک باپ لگ رہا تھا۔ وہ باپ جو خود اپنی جوانی میں والدہ کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا سلوک کو بھول چکا ہے۔

مزید پڑھیں: مرد کا درجہ عورت سے زیادہ کیوں؟

دنیا مکافات عمل ہے۔ اِس شاعر نے بہت سے لوگوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر کے لطف اٹھایا، سوشل میڈیا پر لوگوں کی کردار کشی کی مہم چلائی لیکن آج تک کسی نے اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا اسی لیے اس کے حوصلے مزید بڑھتے چلے گئے۔کاش میں اس سے پوچھ سکتا کہ جب تم اپنے مخالفین پر رزیل ترین جھوٹے الزامات لگا کر اُنہیں اُن کے بیوی بچوں، رشتے داروں، محلے داروں میں فخر سے بدنام کرتے تھے تو کبھی سوچا تھا کہ ایسا وقت تم پر آگیا تو؟ لیکن دیکھ لو بھائی! وہ لوگ جنہیں تم بدنامی کے گڑھے میں دھکیلنے میں لگے رہے وہ چاہتے تو آج تمہاری بدنامی کا ڈھنڈورا پیٹ کر بدلہ لے سکتے تھے لیکن اِن میں سے جس سے بھی میری بات ہوئی وہ تمہاری بدنامی کی بجائے تمہارے دُکھ کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔اِن کی جگہ تم ہوتے اور تمہارے کسی مخالف کے بیٹے کا معاملہ ہوتا تو یقینا تم اب تک سوشل میڈیا پر بھونپو بن چکے ہوتے لیکن دیکھ لو……تمہارا ڈسا ہوا کوئی بھی شخص تمہارے درد کو انجوائے نہیں کر رہا۔

اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری زندگی میں ہی اولاد کا سُکھ نصیب کرے اور تمہارا یہ بیٹا خود آکر تم سے معافی مانگے اور گلے لگائے۔ لیکن ہوسکے تو اس سے پہلے تم بھی کوشش کرنا کہ تم نے جن کی زندگیوں میں زہر گھولے اُن سے بھی جاکر معافی مانگو، اُنہیں گلے لگاؤ۔ اُمیدہے تمہاری توبہ قبول ہوگی تو تمہاری دعا بھی قبول ہوجائے گی۔جس طرح تم نے اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے کاش اپنے اندر چھپے فسادی انسان سے بھی لاتعلقی کا اعلان کر سکو۔یہ دُنیا تمہارے فساد پر ہنستی تو ہے، واہ واہ بھی کرتی ہے، مزا بھی لیتی ہے لیکن ساتھ ہی کنارہ کش بھی ہوجاتی ہے کہ کہیں کیچڑ کے چھینٹے اُن پر نہ پڑ جائیں۔تمہیں ہمیشہ سے یہ گھمنڈ رہا کہ تمہاری چالاکیوں کی وجہ سے لوگ اپنے بال نوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔بالکل ٹھیک کہا۔ہر عزت دار انسان کی یہی حالت ہوتی ہے جو اس وقت تمہاری ہے۔اسے خدا کی وارننگ سمجھ کر ہی باز آجاؤ۔

تم نے نام لے لے کر لوگوں کی پگڑیاں اچھالیں، کیا ملا؟ ذرا سوچو کہ اس وقت اُن لوگوں کے پاس کتنا اچھا موقع ہے تمہیں زچ کرنے کا۔ لیکن نہیں! کوئی نہیں کرے گا۔تم اس وقت ایک کرب میں ہو اور تمہارے بدترین مخالفین بھی تمہارے حق میں دعا کر رہے ہیں۔شائد اس لیے کہ ڈر لگتا ہے کہ کہیں یہ وقت خود پر نہ آجائے۔کاش کہ تمہیں بھی کبھی ایسا ہی ڈر لگا ہوتا۔بیٹے کے سامنے باپ کا کردار ایک نمونہ ہوتا ہے۔ اُسے دکھاؤ کہ تم بھی اپنی غلطیوں کی معافی مانگ سکتے ہو۔ماں کی قبر پر جاؤ، گڑگڑاؤ اور بخشش چاہو۔ جس طرح تم تڑپ رہے ہو اسی طرح تمہاری ماں بھی تڑپتی تھی۔

اُس کے آگے ہاتھ جوڑو، مائیں قبر میں بھی معاف کردینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔جس دن ماں نے اپنا بیٹا معاف کیا، ایک اور بیٹا بھی اپنے باپ کے سینے سے آلگے گا۔دیر نہ کرنا میرے بھائی! وقت ویسے بھی بہت کم رہ گیا ہے۔اُن لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھو جن پر تم نے الفاظ کی برچھیوں سے تشدد کیا ہے۔مجھے یقین ہے کوئی تمہیں تمہاری طرح نہیں دھتکارے گا۔ تمہارے بیٹے کی ماں کے لیے میں دل سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے اس آزمائش سے نکالے۔ آمین!

لکھاری کے بارے میں

گل نوخیز اختر

گل نوخیز اخترایک پاکستانی کالم نگار اور مصنف ہیں انہوں نے مختلف ٹی وی شو کے لئے کام کیا ہے،

Loading...