بلاگ

بے سکون روح، ڈر اور گھٹن

چاروں اطراف سے گِھرے صحرا کے وسط میں کجھوروں کے باغات میں ایک محل ہے جس میں ریاست کا بادشاہ رہتا ہے محل کے سارے ملازمین کا کام محل اور باغات کی حفاظت کرنا ہوتا ہے. بادشاہ کی بیوی اس کی بیٹی کو جنم دیتے ہی دنیا سے رخصت ہو گئ تو بادشاہ اپنی بچی کی پرورش خود کرنے لگا جب وہ تھوڑی بڑی ہو گئ تو اسے ملازم عورتوں کے حوالے کر دیا کیونکہ خود اسے ریاست کے معاملات سنبھالنے اور دوسرے علاقوں سے آنے والے مہمانوں سے ملاقاتیں کرنی ہوتی تھی. بچے کی پرورش جو ایک ماں کر سکتی ہے وہ سو ملازمین مل کر بھی نہیں کر سکتے‘ آہستہ آہستہ وہ بچی بڑی ہوتی جا رہی تھی اور اس کے پاس دنیا کا ہر آسائش و آرام میسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک آواز دینے پر حاضر ہو جانے والے درجنوں ملازمین تھے باوجود ان سب کے اسے اکیلے رہنا زیادہ پسند تھا کمرہ میں رہ کر جب وہ اکتا جاتی تو باغ میں چلی جاتی وہاں پہ درختوں‘ پتوں اور پرندوں کو دیکھتی رہتی اور سوچتی کہ ان کے وجود کا مقصد کیا ہے بس کسی نے بیج بُو دیا اور بڑا ہونے پر زندگی بھر پھل لیتا رہا اور ان پرندوں کے بارے میں سوچتی کہ ان کی زندگی کا مقصد کیا ہو سکتا ہے دن بھر دانا چُگنا اور شام کو گھر لوٹ جانا.

اس کا دل بہت سی باتیں کرنے کو کرتا مگر وہ کس سے کرے یہ اسے سمجھ نہیں آتی تھی دل میں موجود سارے خیالات اور حسرتوں کو لئے باغ میں موجود پرندوں کو دانا پھینکنے کے دوران باتیں کرتی اور دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے انہیں گیت سناتی ان پرندوں میں ایک بولنے والا طوطا جو اسے بہت پیارا لگتا. پرندوں کی جگہ جگہ بھٹک کر دانا تلاش کرنے کی محنت بچ گئ وہ روز ایک خاص وقت پر آتے تو شہزادی ان کے انتظار میں بیٹھی ہوتی انہیں دانا پھینکتی اور دل کا سارا غبار گیت گا کر نکال لیتی وہ پرندے شام تک بیٹھے اس کے سُروں سے مسرور ہوتے رہتے. دیر تک پرندوں کا اس جگہ پر بیٹھے رہنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ انہیں قید ہونے یا شکار کیے جانے کا خوف نہیں تھا ورنہ انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کو شکار ہوتے یا نمائش کے لیے قید ہوتے ہی دیکھا تھا. طوطا بیٹھا بڑے غور سے شہزادی کے سُر سنتا اور انہیں گُنگُانے کی کوشش کرتا رہتا چند مہینوں بعد وہ ہو بہو شہزادی کی نقل اتارنے لگ گیا جو وہ گنگاتی طوطا اسی سُر میں گاتا. شہزادی کو خوش رہنے کے لیے ایک نئی دنیا مل گئ تھی وہ پہروں بیٹھے ان سے باتیں کرتی وہ پرندے شہزادی کے دل کے بہت قریب ہو گۓ.

ایک دن باغ میں خوبصورت مینا آ بیٹھی طوطا اس کے پیچھے اڑتا اڑتا چند میل دور پہاڑ پر جا پہنچا. پہاڑوں کے درمیاں ایک چھوٹی سی ندی (جس میں شفاف پانی بہتا تھا) کے کنارے ایک جھونپڑی جس میں ایک چرواہا رہتا تھا جو بھیڑ بکریوں کو پال کر ان سے اپنے لئے راشن کا بندوبست کرتا‘ صبح ہوتے ہی وہ ریوڑ کو لے کر نکل پڑتا دوپہر کو جدھر آنکھ لگتی وہی لیٹ جاتا اور شام کے وقت انہیں واپس گھر لے آتا. پہاڑ کی چوٹی پر وہ طوطا اس مینا کی تلاش میں آ بیٹھتا اور گیت گانے شروع کر دیتا‘ چرواہا جو دن بھر کی تھکان سے نڈھال آرام کرنے کے لیے لیٹا ہوتا وہ پتھر مار کر اسے اڑا دیتا اور سکون سے سو جاتا. ایک دن گہری نیند میں سوۓ اس کے کانوں میں ایسے سُروں کی لہریں آن ٹکرائی کہ وہ اچانک سے اٹھ کھڑا ہوا اور بے ساختہ اس آواز کی طرف دوڑنے لگا جب اس نے دیکھا کہ یہ تو وہی طوطا ہے جس کو وہ پتھر مار کر اڑا دیا کرتا تھا وہ بڑا حیران ہوا‘ خیر ان سُروں نے اس کی مرجھائی روح میں ہلچل پیدا کر دی‘ وہ دیر تک بیٹھے سنتا رہا. طوطے کو تو مینا کی تلاش تھی وہ اس کی تڑپ میں گیت گاتا اس بات سے لاعلم ہو کر کہ کوئی اس کے سُروں کو توجہ سے سن رہا ہے یا اس کے سُروں سے کسی کی بےچین روح کو قرار مل رہا ہے "اگر طوطا گاتا رہتا اور چرواہا سنتا رہتا تو وہ وہاں بیٹھے بیٹھے صدیاں گزار دیتے کیونکہ دونوں کی روح پیاسی تھی بے چین تھی.”

ندی کے کنارے جہاں ایک نایاب خوشبو دار پھول کا بُوٹا تھا جو سال میں صرف ایک مہینہ ہی کِھلتا تھا چرواہے نے اس میں سے ایک پھول توڑ کر طوطے کے پاس رکھا تو وہ اسے لے کر اڑ گیا اور باغ میں موجود شہزادی کے پاؤں میں گِرا دیا. شہزادی نے جب وہ پھول ہاتھ میں پکڑا تو اس کی نفاست اور مہک کو دیکھ کر حیرت میں مبتلا ہو گئ کیونکہ ایسی خوشبو اس نے پہلے کبھی محسوس نہ کی تھی‘ اس کے والد کے پاس دنیا کے مختلف کونوں سے لوگ آتے جو قیمتی تحائف لاتے جن میں مہنگے پرفیوم بھی ہوتے ان پرفیوم کی خوشبو بھی اس پھول کی خوشبو کے آگے دھیمی پڑ رہی تھی وہ بہت خوش ہوئی کہ اس کے گیتوں کے انعام میں ایسی نایاب خوشبو محسوس کرنے کو ملی. اس کے سُروں میں اور زیادہ نکھار آنے لگا اس کے اندر چھپے ہوۓ خالی پن اور کھوکھلا پن ان سُروں کی شکل میں باہر نکل رہے تھے‘ طوطا دانا چُگتا نئے گیت سیکھتا اور پہاڑی پر جا کر مینا کی تلاش میں گنگناتا رہتا.

چرواہے نے ویسے تو بہت سی آوازیں سن رکھی تھی مگر ان سُروں میں کچھ عجیب درد اور خوشی کی آمیزش تھی جو اس کی روح میں لہریں پیدا کر دیتی اور اسے گیت سننے پر مجبور کر دیتی وہ سارا کچھ بُھلا کر وہ گیت سنتا اور مسرور ہوتا رہتا. "شہزادی یہ نہیں جانتی تھی کہ طوطا وہ پھول کہاں سے لاتا ہے اور چرواہے کو یہ علم نہیں تھا کہ وہ یہ گیت کہاں سے سیکھ کر آتا ہے‘ مگر ان دونوں کے درمیان ایک روحانی رشتہ قائم ہو گیا ایک خیالی رابطہ شروع ہو گیا.” اس سب میں اذیت سے صرف طوطا گزر رہا تھا جسے وہ نہیں مل رہا تھا جس کی خاطر وہ میلوں سفر کر کے جاتا یا نئے گیت سیکھتا.

"ایسی اذیت جس میں کُھلی آنکھوں سے خود کو مرتے دیکھنا چاند کی روشنی سے آنکھوں کا دُکھنا سرد ہوا کے جھونکے سے جسم پر آگ بھڑک اٹھنا کچھ سوچنے پر خیالات کا گُھلمِلا جانا بولنا چاہنے پر زبان کا لڑکھڑا جانا لفظوں کا جال بناتے ہی ہوا میں دُھول ہو جانا.”

شہزادی کے لیے پھول وہ اس لئے لے جاتا کہ وہ خود کو شہزادی کا مقروض سمجھتا تھا کہ اس کا اناج کھا کر وہ بڑا ہوا اور اس کی زبان پر سُر بھی اُسی کے دیے ہوۓ تھے. چرواہے کو اس کی آواز اتنا سکون دیتی کہ وہ ہر وقت اسے سننے کی خواہش کرتا مگر اس نے طوطے کو قید کرنے کی بجاۓ آزاد رہنے دیا کیونکہ قید کر لینے سے ہر شے مرجھا جاتی ہے. شہزادی جو گاتی وہ خالص اور پہلی دفعہ کا احساس تھا جس وجہ سے وہ بہت بولنا چاہتی تھی اور اپنے اندر موجود سارے غبار کو باہر نکالنا چاہتی تھی دوسری طرف چرواہا جو مختلف آوازیں سن سن کر کان پَکا چکا تھا اور صدیوں بعد اسے کوئی ایسے سُر ملے تھے جو اس کی روح کو راحت بخش رہے تھے وہ در بدر کی ٹھوکریں کھا چکا تھا شاید قدرت اسے خالص کرنے یا اس کی روح کی بے چینی کو دور کرنے کے لیے رنگ برنگے سُروں سے نوازتی رہی تاکہ جب وہ خالص ہو جاۓ تب شہزادی کے گیت اس کی روح کے اندر اتر کر اسے سکون بخش دیں اور اس کی حسرتوں کی تکمیل ہو جاۓ کیونکہ روح کا تعلق وہی قائم ہوتا ہے جہاں دوسری جانب ویسی ہی کشش ہو.
چرواہا بہت خالص جذبے کی حسرت میں تھا جو شہزادی کے سُروں میں اسے ملا اور شہزادی کی خالص روح جیسے چرواہے کو بھی دربدر کی ٹھوکروں سے خالص کر دیا. شہزادی کے لیے یہ جذبہ پہلا تھا اس لئے خالص تھا اور اسے یہ "ڈر” ستاتا کہ وہ بھٹک جاۓ گی یا بغاوت پر اتر آۓ گی تو اس نے اپنے اندر کے طوفان کو خود ہی میں دفنانے اور گیت نہ گنگنانے کی ٹھان لی تو چرواہے نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ وہ کسی بھی قید میں نہ رہتا تھا اور نہ کسی کو رکھنے کا تصور کر سکتا تھا اس کے نزدیک قید کر لینے سے سارے جذبے اور احساسات مرجھا جاتے ہیں. جب سے شہزادی نے چُپ دھاری اور چرواہے نے کانوں میں سیسہ بھروا لیا تب سے دونوں کی روح میں گُھٹن ہے‘ تڑپ ہے‘ جلن ہے‘ کُرب ہے اور ان سب کو جھیل کر وہ اندر ہی اندر سسک کر مرجھا رہے ہیں.