بلاگ کالمز معلومات

راہی نانگا پربت کا

کراچی اور اسلام آباد سے دو دن کے سفر کے بعد ہم چلاس پہنچے تو پہلی شب ہمارے قیام کا بندوبست دریائے سندھ کے قریب ایک گیسٹ ہاؤس میں کیا گیا۔ پہاڑ کے دامن میں چینی پگوڈے کی طرز پر بنا سادہ سا گیسٹ ہاؤس جس کے کوہستانی میزبان بہت خدمت گزار تھے۔جب اندر داخل ہوئے تو بڑے بڑے سینگوں والے حنوط شدہ مارخور نے ہمارا استقبال کیا جسے دیکھ کر لگا جیسے ابھی زندہ ہوجائے اور سامنے آنے والی ہر رکاوٹ کو ٹکر مار کر قلانچیں بھرتا ہوا پہاڑوں میں روپوش ہوجائے۔رات گئے تیز ہوائیں چلنے لگیں جو پہاڑ سے اچٹ کر ہمارے کمرے کی کھڑکی سے ٹکراتیں تو شائیں شائیں کی زوردار آوازیں پیدا ہوتیں اور کھڑکیاں دروازے لرزنے لگتے۔چلاس کی صبح روشن اور چمکیلی تھی۔ بستر کے دائیں کھڑکی سے بلند و بالا پہاڑ نظر آرہا تھا۔

باہر خوبصورت لان اور پتوں کے پیچھے سے جھانکتا سورج ہمارا منتظر تھا۔ فضا میں خوشبو کی لہر بسی تھی اور پھولوں پر شوخ تتلیاں منڈلا رہی تھیں جنہیں دیکھ کر خوشی کے مارے بھنورے جیسا دل مچلنے لگا۔گھر سے باہر سڑک کے اس پار دریائے سندھ بہہ رہا تھا اور بیرونی دیوار پر سبز ہلالی پرچم آن بان شان سے لہرا رہا تھا۔ زندگی میں کتنی نعمتیں ہیں جن میں آزادی بھی ہے۔ ۔ تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟چلاس سے روانہ ہوئے تو سوچوں نے آن گھیرا کہ زندگی بھی تو ایک سفر ہی ہے اور ہم سب مسافر ہیں کہ ایک دن ایک دن اپنی منزل پہنچنا ہے۔ اصل گھر آخرت کا گھر ہے تو یہاں کا زاد راہ ہلکا اور اگلے جہاں کی تیاری زیادہ کرنی ہے۔

چلاس سے خشک پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہواجن کے وسیع و عریض دامنوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے گرنے والی چھوٹی بڑی چٹانیں پڑی تھیں، اور بعض تو اتنی بڑی تھیں جیسے کسی دیو نے انہیں وہاں لاکر نصب کردیا ہو۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں پہاڑوں کو زمین کی میخیں کہا ہے جو اسے ڈھلک جانے سے محفوظ رکھتے ہیں۔کیا یہ واقعہ نہیں کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا (سورۃ النباء)۔ اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیئے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے (سورۃ الانبیاء)۔سڑک کے ساتھ ساتھ نیچے دریائے سندھ بھی ہمارا ہمراہی رہا۔ دریا کے اس پار پہاڑوں کے بیچ پرانی شاہراہ ریشم کے آثار نظر آرہے تھے۔ پرانی شاہراہ ریشم کی طرح شاہراہ قراقرم کو بھی پہاڑوں کو تراش کر بنایا گیا ہے۔

مختلف مقامات پر ان مزدوروں کی یادگاریں بنی ہیں جو سڑک کی تعمیر کے دوران شہید ہوئے،جن کی جائے شہادت پر ڈرل مشینیں اور مزدوری کے آلات نصب تھے۔تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات  ایک جگہ سڑک انتہائی تنگ اور راستہ اتنا پتلا سا تھا کہ پہیہ ذرا سا باہر ہوا اور گاڑی سیکڑوں فٹ نیچے کھائی میں جاگرے، جہاں ٹھاٹیں اور جوش مارتا دریا منہ کھولے ہمیں نگلنے کو بے تاب تھا۔شاہراہ قراقرم دنیا کی بلند سڑک ہے جس کی تعمیر اتنی ناقابل یقین اور مشکل تھی کہ اسے آٹھواں عجوبہ بھی کہا جاتا ہے۔ دریائے سندھ، دریائے گلگت، دریائے ہنزہ اس کے ساتھ ساتھ بہتے ہیں۔ہیبت ناک پہاڑوں کو کاٹ کر بنائی گئی اس سڑک کی تعمیر میں 20 سال لگے اور تقریباً 900 افراد نے جانیں دیں جن میں 810 پاکستانی اور 82 چینی شامل ہیں۔

ایبٹ آباد، مانسہرہ، چلاس، گلگت، ہنرہ سے ہوتی ہوئی یہ سڑک چینی شہر سنکیانگ اور پھر کاشغر تک جاتی ہے۔راستے میں دور سے قاتل پہاڑ نانگا پربت کی جھلک دکھائی دی۔ دنیا کی اس خطرناک ترین چوٹی کو سر کرنے کی کوشش میں نہ جانے کتنے ہی کوہ پیما اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، لیکن پھر بھی اسے سر کرنے کا جنون اور شوق کم نہ ہوا اور اس کی دشواری انہیں اپنے ہدف سے نہ روک سکی۔اب بھی ہر سال بہت سے غیر ملکی کوہ پیما پاکستان آتے ہیں اور اسے عبور کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں لیکن کچھ ہی کامیاب ہوپاتے ہیں اور زیادہ تر یا تو ناکام لوٹ جاتے ہیں یا پھر ہمیشہ ہمیشہ کےلیے اپنے محبوب کی برفانی آغوش میں ہی دفن ہوجاتے ہیں۔ دنیا کی یہ 9 ویں بلند اور خطرناک ترین چوٹی قاتل پہاڑ کے نام سے مشہور ہے۔

غیرملکیوں کےلیے پاکستان کے پہاڑ ہمیشہ سے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔اگرچہ دنیا کا سب سے بلند پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ نیپال میں ہے لیکن دنیا کی خطرناک ترین اور دشوار گزار چوٹیاں پاکستان میں ہیں جن میں کے ٹو اور نانگا پربت نمایاں ہیں۔ ان دونوں پہاڑوں کو بین الاقوامی کوہ پیمائی میں گولڈ میڈل قرار دیا جاتا ہے جنہیں سر کرنے والا کوہ پیمائی کا سکندر سمجھا جاتا ہے۔نانگا پربت ویو پوائنٹ پر ہم کچھ دیر کےلیے ٹھہرے جہاں سے قاتل پہاڑ ایک شہنشاہ کی مانند اپنے تخت پر جلوہ افروز تھا جس کے گرد سنگلاخ چوٹیوں والے کالے پہاڑ ایستادہ تھے جیسے حبشی غلام چمکتی انیوں والے نیزے لیے اپنے آقا کی حفاظت کےلیے تعینات ہوں۔ ہم تو اس مغرور پہاڑ کو دیکھ کر ہی آہ بھرتے رہے کہ اس کے بیس کیمپ تک پہنچنا ہی خوش نصیبی کی بات ہے۔

کشمیری زبان میں نانگا پربت کے معنی ہیں برہنہ پہاڑ،کیونکہ اس کی ڈھلوانیں سبزے سے عاری ہیں۔ لیکن یہ نام اس لیے غلط لگا کہ برف تو اس کا پیرہن ہے جیسے  کسی اپسرا کا سپید بے داغ مرمریں مجسمہ ہو۔مقامی زبان شینا میں اسے دیامیر کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے دیوتاؤں کا پہاڑ۔ اسی نام سے ملک میں ڈیم بنانے کی مہم بھی جاری ہے۔ خدا نیک مقاصد میں کامیابی دے۔کتنی عجیب بات ہے کہ ان علاقوں میں سورج چمکے تو موسم خوشگوار کہلاتا ہے، مگر آلودگی سے دوچار شہروں میں ابرآلود موسم کو خوشگوار کہا جاتا ہے۔کیا قدرت کی رنگینیاں، ضابطے اور قاعدے ہیں۔ جدا جدا منظر، خصوصیات اور الگ الگ نظارے۔ اللہ تعالی نے یہ سب ملا کر ہی دنیا بنائی ہے، وگرنہ یکسانیت تو اکتاہٹ کا باعث بن جاتی ہے۔

کہیں ریگستان تو کہیں برفیلے میدان۔ ہر جگہ کا اپنا حسن اور خوبصورتی ہے۔اسی فرق میں حسن اور رعنائی ہے۔شاید اس میں سبق بھی ہے کہ دنیا کے سارے انسان ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ ان کی  صلاحیتوں اور معاشرتی حیثیت میں مساوات نہیں ہوسکتی۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کا نظام ہی نہ چل پاتا۔پہاڑوں کو تراش کر بنائی گئی ہموار صاف ستھری کشادہ شاہراہ قراقرم پر سفر جاری رہا جو جگہ جگہ موڑ کی وجہ سے کسی سانپ کی مانند بل کھاتی لہراتی چلتی رہتی ہے۔ چڑھائی اور نشیب کی وجہ سے کسی رولر کوسٹر کی مانند ہماری گاڑی بھی اوپر نیچے جاتی رہی۔رستے میں جگہ جگہ برف میں لپٹی چوٹیاں آئیں جنہیں دیکھ کر ٹھنڈک اور تراوٹ کا احساس ہوا۔ بعض مقامات پر دریا نے پہاڑوں کو ایسے کاٹا کہ وہ کسی قلعے کے برج اور کنگرے معلوم ہوتے۔

راستے میں ہرے بھرے باغات کو دیکھتے دیکھتے 3 جنکشن ویو پوائنٹ پہنچےجہاں سے دنیا کے 3 پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش آپس میں ملتے دکھائی دیتے ہیں۔ اللہ کی شان ہے کہ تینوں کی رنگت جدا جدا سیاہ، مٹیالی اور سیاہی مائل بھورے رنگ کی ہے۔اللہ تعالی نے قرآن میں بھی پہاڑوں کی الگ الگ رنگت کا ذکر کیا ہے۔ان جگہوں پر جاکر فطری توانائی لوٹ آتی ہے اور ایک خماری کی کیفیت چھا جاتی ہے؛ جیسے بوڑھا پھر جواں ہوجائےاور دل بچے کی مانند ہواؤں میں اڑتا پھرے۔اللہ کی قدرت کے مشاہدے سے انسان کا ایمان بڑھتا ہے کہ کوئی تو خالق ہے جس نے یہ عظیم کائنات بنائی۔خود سے تو کاغذ کا ایک ٹکڑا بھی نہیں بن سکتا کجا کہ یہ عظیم الشان دنیا۔

تو پھر جس نے یہ دنیا بنائی آخر اس کی بات کیوں نہ مانیں اور احکامات پر عمل کیوں نہ کریں۔سفر کے دوران راستے میں پیچ در پیچ پہاڑ آتے رہے، جن کے درمیان الجھے راستے تھے، جیسے کوئی گتھی جسے انسان سلجھاتا چلا جائے لیکن سلجھنے نہ پائے۔ ہر پیچ میں ایک نئی کہانی اور نیا راگ، ایک نئی زندگی بسی ہوئی۔انسان نے دنیا کو کتنا زیادہ مسخر کرلیا ہے لیکن ابھی تک وسیع و عریض دنیا میں ایسی بہت سی جگہیں باقی ہیں جہاں انسانی قدم نہیں پہنچ سکے۔ اور ایسی ہی جگہیں بدصورتی سے محفوظ رہتی ہیں اور اپنا حقیقی حسن برقرار رکھتی ہیں، وگرنہ جہاں جہاں انسانی قدم پہنچے ہیں انہوں نےکوڑا کرکٹ پھیلا کر اور درختوں کو کاٹ کر فطری حسن کو ناقابلِ تلافی اور ناقابلِ معافی نقصان پہنچایا ہے۔

راستے میں جگہ جگہ آبشاریں، جھرنے اور چشمے دریا میں شامل ہوکر یک جاں ہوجاتے ہیں۔ کسی گزرگاہ کی مانند ان کے بھی اپنے راستے ہوتے ہیں جن میں وہ صدیوں سے اپنی دھن میں مگن بہتے رہتے ہیں۔ کوئی شے ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔پھر ایک وقت آتا ہے کہ اپنی عمر پوری کرکے وہ خشک ہوجاتے ہیں۔ یہی قانون فطرت ہے کہ ہر شے کا وقت مقرر ہے کہ جب اسے مٹ جانا ہے۔راکا پوشی کے ویو پوائنٹ پہنچے تو سلسلہ کوہ قراقرم کے اس حسین تاج محل اور گلگت بلتستان کے ماتھے کے جھومر کو دیکھ دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ شور مچاتا آبشار بہتے ہوئے نیچے آرہا تھا۔ دل چاہا کہ ویو پوائنٹ سے ہی پگ ڈنڈی کی راہ لیں اور چلتے چلتے اس کے بیس کیمپ تک پہنچ جائیں۔