افسانے بلاگ

بازار حسن کا انسائیکلو پیڈیا حکیم الدین غوری اس چکر میں کیسے پڑا؟

جسم فروشی ون وے نہیں بلکہ ٹو وے ٹریفک ہے۔ عورت اس وقت تک فاحشہ نہیں بن سکتی جب تک اسے خریدار نہ ملے اور مرد اس وقت تک برائی کے گڑھے میں نہیں گر سکتا جب تک عورت کی شکل میں سراب اس کی قسمت کا حصہ نہ بنے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی مرد یہ کہے کہ وہ معصوم تھا اور قصور صرف عورت کا ہے جس کے حسن کا حسن کا اسیر ہو کر وہ برائی کے جنگل میں جا کر بھٹک گیا۔ اسی طرح عورت بھی اپنی غلطی اور کو تاہی کی ذمہ داری مرد پر نہیں ڈال سکتی۔

عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لئے عزت اور رسوائی کا سامان بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے زانی مرد اور زانی عورت دونوں کو کوڑے مارنے کا حکم دیا ہے اور یہ نہیں کہا کہ چونکہ مرد رقم ادا کر کے برائی کا ارتکاب کر رہا تھا اس لئے اسے معاف کر دیا جائے اور عورت کو اس لئے سزا دی جائے کہ وہ جسم کو کمائی کا ذریعہ بنا چکی تھی۔ بلکہ اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو زنا سے بچنے کا حکم دیا ہے اور یہاں تک کہا گیا ہے کہ زانی عورت کا نکاح زانی مرد اور زانی مرد کا نکاح زانی عورت ہی ہو سکتا ہے۔

کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی لڑکی کو جن نے قابو میں کر لیا۔ اس کا کافی علاج کیا گیا لیکن وہ تندرست نہ ہوئی۔ جب بستر مرگ پر پڑی زندگی کی آخری سانسیں گن رہی تھی تو اتفاق سے کوئی اللہ کا بندہ وہاں پہنچ گیا اور اس نے ایک تعویز کو کسی برتن میں ڈال کر اس لڑکی کے عزیز و اقارب اور اہل خانہ کی موجودگی میں کہا: “اب آپ لوگوں میں سے کوئی ایسا شخص اس برتن کو پکڑے جو اپنی زندگی میں زنا مرتکب نہ ہوا ہو۔ “

وہاں موجود درجن بھر مرد حضرات ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے کیونکہ عالم دین کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے دھوکہ دے کر برتن کو پکڑا تو جن اس لڑکی کی جان چھوڑ کر اس کی پکڑ لے گا۔ اس وارننگ کا یہ اثر ہوا کہ پورے خاندان میں سے کسی کو وہ برتن پکڑنے کی ہمت نہ ہوئی۔ لیکن وہاں موجود محلے کے ایک نوجوان نے اس برتن کو اٹھا لیا اور وہ لڑکی کالے جادو کے اثر سے آزاد ہو گئی۔ اس مثال کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ بے راہ روی سوسائٹی جڑین کس حد تک کھوکھلی کر دیں ہیں۔

ایک دفعہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس کی عمر 46 سال تھی شاید ہی کوئی طوائف ایسی ہو جو اس کی صورت یا اس کے نام سے واقف نہ ہو۔ وہ بازار حسن کا انسائیکلو پیڈیا تھا اور میرے قابو بڑی مشکل سے آیا۔ پہلے تو اس نے کئی چکر دیے لیکن بہت اصرار پر اس نے وعدہ لیا کہ میں اس کا اصل نام ظاہر نہ کروں گا تو وہ مجھے اپنی کہا نی سنا دے گا ہم اس کا نام حکیم الدین غوری رکھ لیتے ہیں جو اس کے نام سے کچھ ملتا ہے۔ حکیم الدین غوری پیشے کے اعتبار سے ایک ورکشاپ کا مالک ہے اور شاید ہی لاہور میں کوئی ایسا کوٹھی خانہ ہو جہاں اس قدم نہ رکھا ہو۔

راوی روڈ پر واقع اس کی ورکشاپ سرشام ہی بند ہو جاتی ہے اور رات کے پر سکون لمحات میں وہاں محفلیں جما کرتی ہیں۔ لاہور کے بعض شرابی تھانیداروں کو شراب سپلائی کرنا اس کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ خصوصاً اس کے اپنے علاقے کا تھانیدار تو اکثر اس سے بوتل حاصل کیا کرتا تھا۔ پہلے تو حکیم الدین غوری نے مجھے کئی چکر لگوائے اور ایک دن جب وہ کھل پڑا تو پھر ہمارے درمیان کوئی تکلف نہ رہا۔ میں سوال کرتا گیا اور وہ ان کے جواب دیتا چلا کیا۔

” حکیم صاحب! اب تک کتنی لڑکیاں آپ کی زندگی میں آ چکی ہیں؟ “ میں نے پوچھا۔ “لڑکیوں سے آپ کی کیا مراد ہے؟ آپ کہیں طوائف کے بارے میں تو بات نہیں کر رہے؟ “ میرا اشارہ طوائف ہی کی طرف تھا؟ “ ” میں سینکڑوں عورتوں کو اپنے تجربے سے مستفید کر چکا ہوں۔ “اس نے فخر سے سینہ تا ن کر کہا۔

” کیا مطلب، آپ نے عورتوں کو اپنے تجربے سے مستفید کیا یا عورتوں کے پاس جائے کی وجہ سے آپ کے تجربات میں اضافہ ہوا؟ “ ” میرے معاملے میں یہ صورت حال الٹ ہے۔ “ ” پہلی عورت زندگی میں کب آئی “ ” عورت نہیں لڑکی کہیں۔ وہ میری کزن تھی اور شادی شدہ تھی۔ پہلا تجربہ اس سے حاصل کیا۔ “ ” پھر۔ “ ” پھر چل سو چل۔ “ ” آپ کی کزن کی عمر کیا ہو گی؟ “ ” یہی کوئی 28 سال۔ “ ” یہ سب کیسے ہوا؟ “

” ہوا یہ کہ وہ کئی دن سے ہمارے ہاں ٹھہری ہوئی تھی اور اس کے میاں دبئی میں قیا م پذیر تھے۔ میں اس میں خصوصی دلچسپی لے رہا تھا اور میری آنکھوں میں موجود بھوک کو وہ بھی محسوس کر چکی تھی۔ میری عمر اس وقت 20 سال تھی۔ نوجوا نی کے دن تھے۔ جذبوں پر کنٹرول نہ تھا۔ میری حالت بالکل ایسی ہی تھی جیسی حالت طوفان کی زد میں آنے والی کمزور دیوار ہوتی ہے۔ ایک دن دوپہر کے وقت میں چھت پر پلے بوائے میگزین پڑھ رہا تھا۔

میری نظر تحریر کی بجائے تصویروں پر زیادہ تھی۔ میں خیالوں کی دنیا میں ڈوبا ہوا تھا کہ وہ اچانک میرے سامنے آ کھڑی ہوئی اور اس نظر سیدھی ایک ایسی تصویر پر پڑی جس میں ایک عورت 3 مردوں کے ساتھ داد عیش دے رہی تھی۔ میں گھبرا گیا کیونکہ اس قسم کے رسالوں کو ہم چوری چھپے پڑھا کرتے تھے۔ پہلے تو وہ نروس ہوئی اور پھر بولی : “کیا پڑھ رہے ہو۔ “

میں نے جلدی سے میگزین بند کیا اور اپنے ماتھے پر آنے والے پسینے کو صاف کرتے ہوئے ہکلاتے ہوئے کہا: ”کچھ نہیں، میڈیکل کی ایک کتاب ہے۔ “ وہ بولی ”مگر تم تو میڈیکل کے سٹوڈنٹ نہیں ہو! “میں خاموش رہا۔ اس کی نظر میرے پورے جسم کا جائزہ لے رہی تھی۔ میں مزید کنفیوز ہو گیا۔

” ذرا دکھاؤ تو سہی یہ کیا ہے؟ “ میرے خیال تھا کہ وہ اصرار نہیں کرے گی لیکن میرے تمام انداز غلط ثابت ہوئے اور اس نے دوبار اپنا سوال دہرایا۔ ”دکھاؤ میں کسی سے ذکر نہیں کروں گی۔ “ میں نے میگزین اس کی طرف بڑھا دیا۔ وہ توبہ توبہ کرتی رہی اور ورق پلٹی رہی۔ میگزین ختم ہونے سے پہلے اس کا رویہ بدل چکا تھا۔ ” کب سے ایسی فضول چیزیں پڑھ رہے ہو؟ “

میں خاموش رہا۔ ” آئندہ آیسی چیزیں نہ پڑھنا۔ “ یہ کہہ کر وہ واپس نیچے چلی گئی اور جاتے جاتے میگزین واپس کر دیا مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ میری شکایت نہ کر دے لیکن گھر والوں کے رویے کو دیکھ کر تسلی ہوئی کیونکہ کسی کی نظروں میں میرے لئے کسی قسم کی تبدیلی موجود نہ تھی۔ جس دن اس نے واپس جانا تھا وہ چھت پر اکیلا پا کر میرے پاس چلی آئی۔ میں اس وقت سٹڈی روم میں واقعی پڑھ رہا تھا۔ وہ خاموشی سے کمرے میں داخل ہوئی۔ میں نے احسان مندی سے اس کا شکریہ ادا کیا اور اصرار کیا کہ وہ مزید کچھ دن قیام کرے۔ لیکن وہ بضد تھی کہ وہ واپس سسرال جائے گی کیونکہ اسے یہاں آئے ایک ہفتہ ہو گیا ہے۔

پھر وہ بولی ”اب تو اس طرح کی کتابیں نہیں پڑھتے۔ “ میں شرمندہ ہو کر رہ گیا۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد اس نے میرے کمرے کی مختلف چیزوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ وہ کبھی کسی کتاب کو دیکھتی اور کبھی کسی کتا ب کا جائزہ لے کر واپس اس کو شیلف میں رکھ دیتی۔ وہ باتیں بھی کرتی جا رہی تھی اور ساتھ ساتھ اس کی نظر یں کمرے میں رکھی ہر چیز کا جائزہ لینے میں مصروف تھیں۔ اس روز میں پہلی بار اپنی کزن کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک دیکھی۔

میں اس کی انوی ٹیشن کو سمجھ چکا تھا لیکن ہمت نہ کر پا رہا تھا۔ صورت حال واضح ہونے میں زیادہ دیر نہ لگی اور جو نہی دل میں چھپے ہوئے شیطان نے ذہن پر ایک چوٹ لگائی، وقت اور جذبات دونوں میرے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسل گئے۔ وہ میرے پاس تھی اور دوپہر کے ان لمحوں میں جب ہر کوئی ریسٹ کر رہا تھا وہ مجھے ایک عجیب قسم کے نشے سے سرشار کر رہی تھی۔ یہی نشہ بعد میں اپنے آپ کو خوش قسمت انسان سمجھنے لگا۔ مجھ پر ایک عجیب سا نشہ طاری تھی اور جی چاہتا تھا کہ وہ دوبارہ آئے لیکن وہ دوبارہ نہ آئی۔ سہ پہر کے بعد پتہ چلا کہ وہ جا چکی ہے۔

حکیم الدین غوری نے اپنی زندگی میں آنے والی پہلی عورت کے تجربے پر روشنی ڈالنے کے بعد سگریٹ سلگایا اور بولا یہ 1976۔ 77 ء کی بات ہے کہ ایک دن گڑھی شاہو جانے کے لئے جب میں پل کے اوپر سے گزرا تو وہاں ایک دوشیزہ کھڑی تھی۔ میرے پاس پرانے ماڈل کار تھی۔ اس کے ساتھ ایک بوڑھی عورت تھی۔ لڑکی نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور بولی : ”میری آنٹی سے پیدل نہیں چلا جا رہا، اگر ممکن ہو تو ہمیں پل کراس کر دیں۔ “ میں نے پہلے ہچکچاہٹ کا مظاہر کیا اور پھر دروازہ کھول کر انہیں بٹھا لیا۔ وہ بولی : ”پل اترتے ہی دائیں جانب گلی میں ہمارا گھر ہے۔ میں نے کار کا رخ اس کے بتائے ہوئے گھر کی جانب کر دیا۔ بوڑھی اماں اس دوران دعائیں دیتی رہی اور دو منٹ بعد ہم اس کے بتائے ہوئے گھر کے پاس کھڑے تھے۔ وہ بولی : ”گرمی ہے آپ پانی کا ایک گلاس پی لیں۔ “

” ہاں بیٹا آ جاؤ تمہارا اپنا ہی گھر ہے۔ “ میں نے پہلے تو انکار کیا اور پھر ان کے ہمراہ گھر میں داخل ہو گیا۔ بوڑھی عورت نے سر درد کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ “بیٹا تمہارا شکریہ میں تھوڑی دیر ریسٹ کر لوں۔ تم دونوں گپ شپ لگاؤ۔ “

بوڑھی عورت کے اس رویہ نے میرے دل میں وسوسہ پیدا کیا لیکن میں نے خاموشی ہی اختیار کرنا مناسب سمجھا۔ سمیرا، غالباً یہی نام تھا جو اس نے مجھے بتایا شربت بنا لائی۔ ہم ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے جہاں خاصی گرمی تھی۔ وہ بولی : “آپ ساتھ والے کمرے میں آ جائیں وہ قدر ے ٹھنڈا ہے۔ میں کسی سعادت مند بچے کی طرح اس کے ساتھ چل دیا۔ یہ چھوٹا سا بیڈ روم تھا۔ جس کی دیوار پر ایک بڑی سی پورٹریٹ آویزاں تھی۔ وہ کسی انگریز عورت کی پورٹریٹ تھی جس کے جسم کے خدوخال اس قدر واضح تھے کہ لباس پہنے ہونے کے باوجود لگ رہا تھا جیسے وہ برہنہ ہے۔

اس نے میرے چڑھاؤ کا جائزہ لیا اور ایکسکیوز می کہہ کر باتھ روم چلی گئی۔ یہ باتھ روم کمرے کے ساتھ بنا ہوا تھا۔ اب صور تحال یہ تھی کہ میں کمرے میں اکیلا تھا۔ وہ باتھ روم میں تھی اور کمرے کی دیواروں پر سجی ہوئی پورٹریت مجھے گناہ کے لئے مکمل طور پر تیار کر چکی تھی۔ اس کی واپسی چند منٹ کے اندر ہوئی۔ منہ دھونے کے بعد اس کا چہرہ مزید نکھر گیا تھا اور میک اپ کی نسبت وہ میک اپ کے بغیر زیادہ اچھی لگ رہی تھی۔ اس کے سر سے ڈوپٹہ غائب تھا۔ چہرے پر ایک دل آویز مسکراہٹ لئے اس نے بالوں میں کنگھی کی اور میرے قریب آ بیٹھی۔

” آپ نے شربت نہیں لیا؟ “ ” جی میں۔ جی میں لیتا ہوں۔ “ ” آپ ڈرنک کرتے ہیں؟ “ا س نے اگلا سوال کیا اور جواب سنے بغیر بولی تکلف نہ کیجے میں کبھی کبھار ایک دو پیگ لگا لیتی ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے الماری سے بوتل نکالی۔ میرے انکار پر وہ بولی: ”آپ نہیں پیتے تو ہمیں کیا خاک مزا آئے گا۔ “

” نہیں نہیں، آپ لیں، میں ڈرنک نہیں کرتا۔“ ” آپ کچھ کرتے بھی ہیں۔ “ وہ ہنستے ہوئے بولی۔ میں سمیرا کی بے باکی پر حیران تھا کیونکہ وہ کسی قسم کی ڈیمانڈ کیے بغیر مجھ پر نچھاور ہوئی جارہی تھی۔ ” میں ان تمام عنایتوں کا مطلب نہیں سمجھا۔ “ ” کچھ چیزیں زندگی بھر سمجھ میں نہیں آتیں۔ “ وہ بولی۔

میں نے گاڑی کی چابی اٹھانا چاہی تو اس نے کسی قسم کی مزاحمت نہ کی۔ میں اٹھ کھڑا ہوا ”اجازت ہے؟ “ ” اپنے دل سے ذرا پوچھ لیں یہ اگر اجازت دیتا ہے تو چلے جائیں اور جانے کے بعد یہ کبھی آپ کو ہماری یاد دلائے تو چلے آیئے گا۔ “ میں اس کا جواب سن کر مزید حیرتوں کے سمندر میں ڈوب گیا کیونکہ وہ صوفے پر نیم دراز بیٹھی تھی میں پہلے ٹھٹھکا اور پھر باہر چل دیا۔ وہ مجھے گیٹ تک چھوڑنے نہیں آئی۔ میرے کان اس کے قدموں کی آواز سننے کے لئے بے چین تھے لیکن گھر میں مکمل سناٹا تھا۔ میرے دل چاہتا تھا کہ وہ گیٹ تک آئے لیکن وہ اپنے کمرے سے نہ نکلی۔ میں نے بوجھل قدموں سے چلتے ہوئے کار کا دروازہ کھولا اور کن انکھیوں سے گیٹ کی طرف دیکھتا رہا۔ وہاں کوئی نہ تھا۔

میں نے چابی اگنیشن میں گھمائی لیکن “چر، چر“ کی آواز کے بعد انجن خاموش ہو گیا۔ میں نے دوبار ہ کوشش کی لیکن بے سود آخر بونٹ اٹھا کر دیکھا۔ ہر چیز اپنی جگہ پر موجود تھی۔ تاروں میں کرنٹ آ رہا تھا، پٹرول موجود تھا، فیوز درست حالت میں تھے، بیٹری چارج تھی لیکن انجن سٹارٹ نہیں ہو رہا تھا۔ اسی ادھیڑ بن میں بیس پچّیس منٹ گزر گے۔ اچانک میری نظر ریڈی ایٹر پر پڑی۔ ڈھکن اٹھا کر دیکھا تو ریڈی ایٹر میں پانی نہ تھا۔ میں نے دائیں پائیں دیکھا، کہیں اور دور تک پانی کا نل بہ آیا۔ اب مجبوری تھی اور سمیرا کے گھر سے پانی لینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ میں نے دروازے پر دستک دی۔ حسب توقع سمیرا کا چہرہ نظر آیا۔ وہ معنی خیز انداز میں مسکرائی۔

” آپ کا دل آپ کو واپس لے ہی آیا۔ “ ” نہیں یہ ریڈی ایٹر کا کمال۔ “ میں نے اسے بتایا کہ گاڑی خراب ہو جانے کی وجہ سے مجھے آپ کو زحمت دنیا پڑی۔ وہ زہے نصیب کہہ کر اندر چلی گئی۔ میں نے ریڈی ایٹر میں پانی ڈالا۔ لیکن گاڑی پھر بھی سٹارٹ نہ ہوئی۔ سمیرا بولی : ”میرے ایک جاننے والے گاڑی ٹھیک کرنے کا کام کرتے ہیں انہیں بلا لوں۔ “

میں خاموش رہا، وہ میرا جواب سمجھ چکی تھی۔ ہم دونوں اندر گئے۔ اس نے کسی کو فون کیا اور تھوڑی دیر ہاں ہوں کرنے کے بعد رسیور رکھ دیا۔ اب دل میں چھپی خواہشات نے آنکھوں کا رخ کر لیا اور آنکھوں نے محبت کے تمام مرحلے پلک جھپکنے میں طے کر دیے۔ یوں تو میری زندگی میں سینکڑوں عورتیں آئیں لیکن اس کے ساتھ گزارے لمحات کا نعم البدل کبھی نہ مل سکا۔ وہ ڈانسر تھی۔ دو گھنٹے بعد مکینک بھی آ گیا۔ اس نے جونہی اگنیشن میں گھمائی انجن جاگ اٹھا۔ میں حیران تھا کہ یہ سب کیا ہے۔ مکینک نے گاڑی بند کر دی اور دوبارہ سٹارٹ کی۔ انجن بالکل ٹھیک ٹھاک حالت میں کام کر رہا تھا۔

ہم نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ ہم دوبارہ کمرے میں آئے۔ لائٹ دوبارہ آف ہوئی اور آنکھ کھلی تو اندھیرا چاروں طرف پھیل چکا تھا۔ میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا۔ سمیرا بستر پر موجود نہ تھی۔ میرے کپڑے غائب تھے۔ میں چکرا کر رہ گیا۔ باتھ روم سے کسی کا پاجامہ لیا اور گھر میں اہل خانہ کی تلاش شروع کر دی۔ اس گھر کے 3 کمرے تھے اور کمروں میں فرنیچر نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ صرف ایک ہی کمرہ درست حالت میں تھا۔ بڑی مشکل سے جسم کو ڈھانپا کیونکہ چھت پر مجھے ایک پرانی شرٹ پڑی نظر آ گئی۔

اب میرے جسم پر ایسا لباس تھا کہ جیسے کوئی مکینک ہو۔ باہر نکلا تو گاڑی غائب تھی۔ میں گھبرا گیا کیونکہ گھر کے اندر پڑا سامان میرے نقصان کی تلافی نہیں کر سکتا تھا۔ اس ادھیڑ بن میں مجھے فون کا خیال آیا۔ ریسور اٹھایا تو وہ ڈیڈ تھا۔ غالباً وہ جاتے ٹیلی فون کی تاریں بھی کاٹ گئی تھی۔ میرے پرس میں 12000 روپے تھے جو میں نے کسی کو ادا کرنا تھے۔ سمیرا اور بوڑھی عورت جاتے جاتے مجھے جسم پر موجود کپڑوں سے بھی محروم کر گئی تھیں۔ میں نے واپس کمرے میں آ کر بیڈ کا جائزہ لیا تو احساس ہوا کہ پرانے بیڈ کے اوپر نئی بیڈ شیٹ بچھا کر بڑی خوبصورتی سے اس کے عیب چھپائے گئے تھے۔ صوفے کا جائزہ لیا تو وہ بھی بری حالت میں تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ ان تمام چیزو ں کا میں نے پہلے جائزہ کیوں نہ لیا۔

اب مجھے احساس ہوا کہ میں لٹ چکا ہوں۔ یہ ساری واردات کچھ اس طرح سے ہوئی کہ میں بے بس تھا او کسی کو اس سے اگاہ بھی نہ کر سکتا تھا۔ وہاں بیٹھنا بھی بیکار تھا۔ میں نے کمرے کی الماریوں کا آخری مرتبہ جائزہ لیا۔ وہاں کوئی ایسی چیز نہ تھی جو میرے نقصان کا ازالہ کر سکتی۔ آخر کار وہاں سے چلتا ہوا میں باہر آیا۔ کسی سے لفٹ لینے کی ہمت نہ پڑی۔ دن کی روشنی میں جس سڑک سے میری گاڑی گزری تھی اب وہاں میرے قدموں کے نشان میری بے بسی پر ہنستے جا رہے تھے۔ میں پیدل چلتا بڑی مشکل سے گھر پہنچا۔

میری حالت زار دیکھ کر پورا گھر اکٹھا ہو گیا۔ فوراً میرے ذہن نے ایک کہانی گھڑی۔ میں نے مختصراً گھر والوں کو بتایا کہ گڑھی شاہو پل کے قریب دو افراد زبردستی گاڑی میں سوار گئے اور نہ صرف انہوں نے گاڑی چھینی بلکہ وہ مجھے کسی مکان کے ایک کمرے میں بند کر گئے تاکہ میں وہاں سے باہر نہ نکل سکوں۔ والد صاحب نے پولیس کو اطلاع دی۔ میری نشاندہی پر مذکورہ گھر پر ریڈ کی گئی۔ یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جس کمرے میں تھوڑا سا سامان پڑا تھا وہ کمرہ بھی باقی ماندہ کمروں کی طرح سائیں سائیں کر رہا تھا۔

پرانا بیڈ، صوفہ اور چند کرسیاں بھی اٹھائی جا چکی تھیں۔ تفتیش کرنے پر محلے داروں نے بتایا کہ یہاں دو خواتین ایک ہفتہ قبل آئی تھیں ان کا کسی سے ملنا نہ تھا۔ محلے کے ایک شخص نے مجھے پہچانتے ہوئے کہا۔ : ”آپ ہی تو ان عورتوں کو گاڑی میں بٹھا کر یہاں آئے تھے۔ “ میں گھبرا گیا لیکن میں نے اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے کہا ان کے ساتھ گاڑی میں ایک شخص اسلحہ لئے ہوئے موجود تھا۔ پولیس والوں نے میرے بیان کو تسلیم نہ کیا اور والد صاحب کو ایس ایچ او نے بتایا کہ معاملہ گڑبڑ ہے، آپ کا بچہ جھوٹ بول رہا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ پہلے گھر جا کر تفتیش کریں ورنہ ہم نے تو چار چھتر لگا کر سچ اگلوا ہی لینا ہے۔ میں نے کافی باتوں کا اعتراف کر لیا لیکن کچھ رد و بدل بھی کیا۔ میرا بیان قلمبند ہوا، پرچہ کٹ گیا لیکن نتیجہ صفر۔ حکیم الدین غوری نے اپنی کہانی سنا کر نیا سگریٹ سلگایا۔ “دلچسپ“ میں نے کہا۔

کچھ سوچ کر حکیم الدین نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولا۔ : ”سمیرا تو نہ مل سکی لیکن میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس کا انتقام باقی طوائفوں سے لوں گا۔ انہی دنوں میری دوستی کالج کے ایک لڑکے کے ساتھ ہوئی۔ وہ بھی میری طرح عیاشی تھا۔ چنانچہ ہم نے پہلی مرتبہ مل کر ایک خاتون سے سودا کیا۔ وہ بولی میں سو روپے لوں گی جب کہ ہمارے پاس 80 یا 85 روپے تھے۔ ہم نے اسے 70 روپے دیے۔ وہ عورت اس قدر چالاک تھی کہ اس نے ہم دونوں کو دس منٹ کے اندر فارغ کر دیا۔

پھر میری ملاقات پکی ٹھٹھی سمن آباد کی ایک خاتون نگہت سے ہوئی۔ اس کا شوہر اے جی آفس میں کام کرتا تھا اور بچے اس کے چھوٹے تھے۔ اس کا ایڈریس مجھے ایک کھسرے سے معلوم ہوا تھا۔ پہلی مرتبہ میں اس کے پاس ماہ رمضان میں گیا۔ دوپہر کا وقت تھا۔ وہ گھر پر تھی۔ جو نہی اس نے دروازہ کھولا اور میں نے خلیل نامی کھسرے کا حوالہ دیا۔ اس نے اندر بلا لیا۔ میں اب کافی تجربہ کار ہو چکا تھا اس لئے کسی قسم کی ہچکچاہٹ کے بغیر اس سے سودے بازی شروع کی۔

اس نے 50 روے مانگے میں نے فوراً ادا کر دیے۔ نگہت کی عمر کوئی 45 سال کے قریب ہو گی جب کہ میں 25 سال کا تھا۔ وہ مجھے کمرے میں لے گئی۔ میں نے کہا : ”مجھے کچھ نہیں کرنا، تم صرف اپنی کہانی سنا دو۔ “ پہلے تو وہ مذاق سمجھی اور پھر میری سنجید گی کو دیکھ کر اس نے 50 روپے میری مٹھی میں دبائے اور بولی۔ : “کہانی کسی اور دن سننا“

میں نے کہا : ”میں نے تمہارا وقت خریدا ہے۔ تم میری مرضی کے مطابق گفتگو کرو۔ “ لیکن وہ بولی : “تم نے وقت نہیں جسم خریدا ہے۔ موڈ ہے تو آؤ ورنہ پیسے پکڑو اور چلتے نظر آؤ۔ نگہت سے وہ میری پہلی ملاقات تھی۔ میں نے پیسے واپس لئے اور سیٹرہیاں اتر کر واپس چلا آیا۔ “

” تمہیں اس کی داستان حیات میں کیا دلچسپی تھی؟ “ ” ویسے ہی۔ میں نے سوچا گھریلو عورت ہے بھلا اس کو یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہی تجسّس تھا جس نے مجھے اس کی نجی زندگی میں جھانکنے پر راغب کیا۔ “ ” اس نے کچھ بتایا؟ “
” نہیں، اس نے مجھے گھر سے نکال دیا“ ” پھر؟ “ ” میں واپس آ گیا۔ “ ” دوبارہ کبھی ملاقات ہوئی۔ “

ہاں۔ مجھے یاد ہے ایک دن وہ مجھے اچھرہ میں ملی۔ وہ غالباً شکار کی تلاش میں تھی۔ میں نے موٹرسائیکل روکی۔ اس نے کچھ لمحے تو سوچا لیکن پھر مسکرا کر بیٹھ گئی۔ میں ملتان روڈ کی طرف چل پڑا۔ اس نے اپنے جسم کا دباؤ ڈالا۔ یہ اظہار محبت تھا۔ میں نے بھی جسم کو پیچھے کی جانب سیکٹرا۔ اب ہم دونوں مناسب جگہ کی تلاش میں نکل پڑے۔ وہ بولی : “آج فضول باتیں نہ کرنا۔ “ میں ہنس دیا۔ “

نگہت نے اس روز کہا: ”شراب پلا سکتے ہو؟ “میں نے بے ساختہ کہا: ”پلا نہیں نہلا سکتا ہوں “وہ بولی : ”اب سمن آباد پر نہیں مزنگ کے قریب رہتی ہوں، کیا وہاں چلیں؟ “میں نے اس کا ٹھکانہ دیکھا اور یہ کہہ کر اسے وہاں اتار دیا کہ میں ابھی آتا ہوں۔ اب میرا رخ ***** ہوٹل کی جانب تھا جہاں ہر وقت شراب مل جاتی ہے۔ دو بوتلیں اور کھانے پینے کا سامان لے کر میں نگہت کے گھر پہنچ گیا۔ “

” ایسا کرتے ہوئے تم نے ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا کہ اوپر نگہت کے اہل خانہ بھی ہوں گے۔ “ ” یہ میرا نہیں بلکہ نگہت کا مسئلہ تھا کیونکہ طوائف کبھی گاہک کو وہاں نہیں لے جاتی جہاں اسے مکمل آزادی میسر نہ ہو۔ کیونکہ وہ بھی اچھی طرح جانتی ہے کہ پرائیویسی کے بغیر یہ کھیل کبھی لطف نہیں دیتا اور گاہک تب ہی پیسے دے گا جب وہ مطمئن ہو گا۔ نگہت نے دروازہ کھولا اور مجھے ڈرائنگ روم کی بجائے بیڈ روم میں لے گئی۔ میرے ہاتھ میں کھانے پینے کا سامان دیکھ کر اس نے ایک لڑکی کو آواز دی۔ وہ اس کی بیٹی تھی جس کی عمر 10 سال کے قریب ہو گی: ”بیٹی انکل کو سلام کرو۔ “

بچی نے اسلام کیا میں نے شفقت سے اسے قریب بلایا۔ وہ چوتھی جماعت کی طالبہ تھی، نگہت نے کھانے کا سامان اس کے حوالے کیا۔ بچی 2 منٹ بعد ہی سلیقے سے مرغ روسٹ پلیٹ میں ڈال کر ہمارے پاس لے آئی۔ نگہت نے کہا : ”جاؤ تم بھی کھالو اور بھائی کے ساتھ کھیلو۔ میں نے تمہارے انکل کے ساتھ کچھ کرنا ہے۔ “ بچی چلی گئی۔ اس کے اندار سے لگتا تھا کہ وہ اس قسم کے حالات کی عادی ہے۔ نگہت نے شراب کو بوتل کو للچائی نظروں سے دیکھا۔

وہ مکمل طور پر اپنے حواس میں تھی میں نے پوچھا تمہارے شوہر کے آنے کا کوئی امکان تو نہیں۔ ” آ بھی گیا تو ہمیں ڈسٹرب نہیں کرے گا۔ “ ” کیا مطلب ہے؟ اسے علم ہے کہ تم۔ “ ” حرام زادہ میرے ٹکڑوں پر پلتا ہے، میری ہی کمائی کھاتا ہے۔ “ ” دیکھنا کہیں مروا نا دینا۔ “ ” تم بے فکر رہو، پیو، کہو تو اسے بلا کر کہوں کہ ہمارے لئے کچھ کھانے کا سامان لے آئے۔ “

میں نگہت کے اندر چھپے ہوئے کرب کو دیکھ کر تھوڑا سا دکھی ہوا۔ لیکن خاموش رہا۔ وہ پیتی رہی اور کھاتی رہی۔ دوپہر ڈھل رہی تھی۔ چاروں طرف خاموشی تھی۔ ہم ایک درمیانے درمیانے درجے کے کمرے میں کرسی پر بیٹھے شراب پیتے رہے دوران گفتگو پتہ چلا کہ اس کی یہ دوسری شادی ہے۔ پہلے شوہر سے دو بچے ہیں اور موجودہ شوہر رزاق بوڑھا بھی ہے اور مفلوک الحال بھی۔ ” کیا ضرورت تھی ایسے شخص سے شادی کرنے کی؟ “ ” جب قسمت خراب ہو، کوئی سہارا نہ ہو تو اس معاشرے میں تحفظ حاصل کرنے کے لئے کسی نہ کسی کے ساتھ نکاح پڑھوانا ہی پڑ جاتا ہے۔ “

پھر اس پر دیوانگی طاری ہو گئی۔ میرے لئے ایسی عورت کو دیکھنے کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ بس اللہ کی رحمت تھی کہ مجھ جیسے گناہ گار کو راہ راست نظر آ گئی۔ ہوا یہ کہ ایک دن شاہ عالمی کے نزدیک رات گئے ایک شخص شراب کے نشے میں دھت گندے نالے میں گر گیا اور رات بھر کسی کو اس کا پتہ نہ چل سکا۔ صبح کسی کی نظر پڑی۔ پولیس کو اطلاع دی گئی۔ کوئی اس کو نکالنے کے لئے تیار نہ تھا۔ آخر کار کارپوریشن کے خاکروب نے اس کو باہر نکالا۔

اسی دن میں نے شراب چھوڑ دی۔ رانی میری زندگی میں آنے والی آنے والی آخری عورت تھی۔ ایک رات اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک پولیس نے چھاپہ مارا۔ میں اور رانی چھت پر موجود تھا۔ نیچے کمروں میں 3 عورتیں اور 5 مرد رنگ رلیاں منا رہے تھے۔ وہ سب گرفتار ہوئے۔ دو پولیس والے اوپر بھی آئے میں نے انہیں قریب بلا کر خاموشی سے ا ن کی جیب میں 5 ہزار روپے دیے۔ پہلے تو وہ بڑھکیں لگاتے رہے۔ جب میں نے کہا کہ ضمانت کے لئے 500 روپے بھی کافی ہوں گے تو وہ مان گئے۔

دونوں نے نیچے جا کر رپورٹ دی کہ چھت خالی ہے۔ رانی میری وجہ سے بچ گئی۔ پولیس کے ساتھ اخبار والے بھی تھے۔ اگلے روز اخبارات کے صفحہ اول پر فحاشی کے اڈے پر چھاپے کی خبر شائع ہوئی۔ میں اس روز بہت ڈرا کیونکہ دو دن بعد میری بہن کی شادی تھی۔ میں نے سوچا اگر پکڑا جاتا تو کیا حال بنتا؟ بس ایک خیال نے زندگی بدل ڈالی۔ اب مجھے ہر قسم کی بری عادت سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے کئی سال ہو چکے ہیں۔ میری زندگی خوشیوں سے بھری ہوئی ہے اور میں خدا کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے راہ راست جیسی نعمت سے نواز۔

اتنا عرصہ عیاشی کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر راحت اور سکون مل سکتا ہے تو وہ محبت کرنے والی بیوی کی رفاقت میں مل سکتا ہے ورنہ زندگی میں دھوکوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ وہی طوائفیں ہیں وہی شراب ہے، وہی چکلے ہیں، وہی کھسرے ہیں، وہی شہر ہے اور وہی ہم ہیں لیکن زندگی کی ڈگر وہ نہیں جو کبھی پہلے تھی۔ “ کتاب“ عورت اور بازار “سے اقتباس