بلاگ

باوقار زندگی کے لئے!

مسائل جذبات سے نہیں جذبے سے حل ہوا کرتے ہیں۔ جذبات کے سیل رواں میں سب بہے جاتے ہیں۔ استدلال میں حقانیت کی رمق نہیں۔ اپنے اپنے تجربات کی روشنی میں اپنی اپنی ”میں“ کا اظہار حد سے زیادہ۔ ہر کوئی اپنے ڈنڈے پر اپنی ”میں“ کا جھنڈا لگائے سرگرداں۔ بیشتر قومی معاملات کے حوالے سے کوئی ایک متفقہ بیانیہ مفقود۔ ہاں مگر ایک کشمیر۔ تمام تر باہمی سیاسی گروہی منافرتوں کے باوجود کشمیریوں کے لئے ہمارے دل ایک ہی اکائی سے بندھے ہوئے۔ صدا مشترک۔ آہنگ یکساں۔ گویا سب سنا رہے ہیں۔ سب سن رہے ہیں۔ 70 برسوں میں کشمیر کے حوالے سے پاکستانیوں کا جذبہ ماند نہیں پڑا۔ جذبات مایوسی کی گھاٹی میں نہیں ڈھلے۔ آزادی کے ترانوں میں توانائی نئی۔ شہداء کے لہو کا رنگ یکساں سہی مگر لہو کے ہر قطرے سے جنم لیتی امیدوں کے روپ نئے۔ ہنود و یہود کے عالمی طاغوت کے شکنجے میں کسے ہوئے مظلوم کشمیری حریت کی نئی نئی داستانیں رقم کرتے ہوئے۔

ایک سے بڑھ کر ایک رعنا جواں۔ اپنے ہی لہو میں ڈوبا ہوا گلنار۔ فخر سے دیکھتے ہوئے سروقد چنار۔ یہ سب دیکھتے ہوئے ہم پاکستانی بھی اپنے اپنے حصے کی گواہی دیتے ہوئے۔ لکھنے والے مصلحت آمیز نہیں۔ بولنے والے دھڑلے سے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے۔ یہ بحرحال طے ہے کہ 70 برسوں سے پاکستان اور پاکستانیوں نے کشمیر کا پرچم سربلند رکھا ہوا ہے۔ اسی پرچم کی سرفرازی کے لئے انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ ایڈووکیسی کے ایگزیٹو ڈائریکٹر، سینئر صحافی سلمان عابد اور اس کے دستِ راست تنویر شہزاد نے اگلے روز لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں نشست سجائی۔ موضوع تھا مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ میں رکاوٹیں اور آگے بڑھنے کے امکانات و مستقبل بینی۔ Kashmir Issue: "Challenges and the way forward” سابق وزیر خارجہ میاں خورشید محمود قصوری کی صدارت میں اس سیمینار میں سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری رضوی۔ جنرل (ر) غلام مصطفےٰ۔ مجیب الرحمن شامی۔

معروف قانون دان ہمایوں احسان۔ بیگم مہناز رفیع اور بریگیڈیئر (ر) فاروق حمید شرکاء گفتگو تھے۔ سینئر صحافی سلمان غنی۔ سجاد میر اور میاں سیف الرحمن سمیت سول سوسائٹی کی بہت سے شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ بات کرنے والوں نے اپنے اپنے تجربے کی روشنی میں تیقین سے بات کی اور سننے والوں نے تسکین سے سنی۔ کشمیر کے لئے گویا سبھی جانیں یک قالب تھیں۔ سوال و جواب کے سیشن میں اہم نکات اٹھائے گے۔ پروگرام کی طوالت کے باوجود سبھی حاضرین کی توجہ موضوع پر مرکوز رہی۔ سلمان عابد اور تنویر شہزاد نے بطور آرگنائزر کمال کر دیا۔ یہ مباحثہ لازم بھی تھا اور احسن بھی۔ اس میں جذبات کا تلازمہ بھی تھا اور جذبے کا حسن بھی۔ شرکاء گفتگو نے موجودہ حکومت کے اقدامات کو سراہا بھی اور مزید رہنمائی بھی دی۔

اس کے ساتھ ساتھ ماضی کے چند امور پر تنقید بھی کی گئی۔ اس تمام تر محاسن و قبح کے مجموعے کا مقصود فقط ایک۔ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور مسئلہ کشمیر کا جلد از جلد حل۔ رائے یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کی صورت مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان میں پنہاں ہے۔ غلام، مفلوج اور مقروض پاکستان کی سفارت کاری جس قدر بھی موثر ہو، منطقی اور حتمی تاثیر سے عاری۔ طاقتورکی کج بحثی بھی کلام و بیان کا شہکار۔ کمزور کی صادق بیانی بھی صدائے معدوم۔ یہی نظامِ دنیا ہے۔ مگر یاد رہے کہ یہی نظام لافانی حریت کو جنم دیتا ہے۔ احتجاج کو مہمیز کرتا ہے۔ یعنی تنگ آمد بجنگ آمد۔ عالمی مفاداتی طاقتیں مگر یہ جاننے اور سمجھنے سے معذور۔ بصیرتوں کو زائل کرنے والے طاغوتی مفادات۔ طاغوت کہ موت کا کنواں کھودنے پر مائل۔ شہید کی موت مگر قوم کی حیات۔ چنانچہ پاکستان میں کثرت رائے یہی کہ حریت ہی مسئلہ کشمیر کے حل کا واحد راستہ ہے۔ آزادی کی منزل اسی راہ میں ملے گی۔

مرنے والے جب مارنے پہ اتر آئے تو آگ اور خون کا کھیل ہو گا اور آگ تو ایسی شے ہے کہ جو سب کچھ جلا کے بھسم کر دیتی ہے۔ کشمیریوں کا نا حق خون وحشت کی اس آگ پر گویا بہتا ہوا تیل۔ جنت نظیر کا ایندھن اک روز طاغوت کو جلا کر راکھ کر دے گا۔ یہی یقین سہارا ہے۔ اسی یقین میں قوتِ تسخیر متحرک ہے۔ آزادی کے متوالوں کا تحرک تھمنے والا نہیں۔ مصلحتوں کا دفتر آج نہیں تو کل بند ہو گا۔ جب آوازِ خلق نقارہ خدا بنے گی تو آزادی کی صدائیں فرش تاعرش گونجیں گی۔ اس یقین کی عملی بنیاد مگر مضبوط پاکستان۔ مسائل جذبات سے نہیں جذبے سے حل ہوتے ہیں۔ جذبہ درکار ہے قوم کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کے لئے۔ غربت اور جہالت کے اندھیرے دور کرنے کے لئے، کرپشن ختم کرنے کے لئے، قرضوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے، قانون اور انصاف کے ادارے فعال کرنے کے لئے، یعنی حقیقی جمہورت کے لئے۔ جذبہ درکار ہے باوقار زندگی کے لئے۔ سلمان عابد اور تنویر شہزاد کے ادارے نے ذمہ داری نبھائی ہے۔ عوامِ پاکستان 70 برسوں سے یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ ریاست، حکومت اور عسکری و سول اسٹیبلشمنٹ اپنے حصے کی ذمہ داری کلیتہً نبھائے تو وہ دن دور نہیں کہ کشمیر جنت نظیر طاغوت کے سنگین پنجوں سے آزاد ہو جائے۔