معلومات

برف: تشکیل اور حرکت

برف، برفباری اور متحرک برف کائنات کے یہ تینوں کارندے براہ راست ایک دوسرے سے اس طرح مربوط ہیں کہ کسی کو بھی انفرادی طور پر جدا نہیں کر سکتے کیونکہ برف، برفباری اور متحرک برف ہوا میں نمی کی مختلف اشکال ہوتی ہیں جو کیمیائی ترکیبی کی مناسبت سے ہائیڈروجن کے دو سالمات اورآکسیجن کے ایک سالمہ پر مشتمل ہوتے ہیں ۔اگر حرارت کے ماتحت یہ نمی برف کی ننھی ننھی قلمی اشکال میں تبدیل نہ ہو تو برفباری کا تصور بھی ناممکن ہو جاتا ہے، پھر یہ کہ اگر برفباری کاعمل رک جائے تو کرہ ٔارض پر منجمد برف کے حرکت کرنے کا عمل بھی رک جاتا ہے۔

یہ ’’متحرک برف‘‘ہوتی ہیں جسے سائنسی نقطہ نظر سے ’’گلیشیئر ‘‘ کہا جاتا ہے۔ گلیشیئر دراصل برف کے وہ بڑے بڑے تودے ہوتے ہیں جو پہاڑوں کے ڈھلوان سےنیچے گرتے ہیں اور ٹوٹ پھوٹ کر دریائوں میں بہنے لگتے ہیں۔اگر کوئی گلیشیئر کسی سمندر کے کنارے پگھل رہا ہو تو اس کے بڑے بڑے ٹکڑے ٹوٹ کر سمندر میں آ جاتے ہیں۔ اور انہیں ’’آئس برگ‘‘ کہا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قدرت نے ’’نظم کائنات‘‘ میں ان تینوں کارندوں کی سرگرمیوں کو ہر لمحہ جاری رکھا۔ لیکن سردیوں کے موسم میں ان کی کارکردگی عالمی پیمانے پر شدید ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے بعض منفی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔ آج کل پاکستان کے تمام صوبے شدید سردی، برف باری اور یخ ہوائوں کی زد میں ہیں۔ کسی بھی ملک میں موسم کی یہ کیفیت درجۂ حرارت کی مسلسل کمی کے باعث ہوتی ہیں اور جب درجۂ حرارت میں اس حد تک کمی آ جائے کہ وہ ’’نقطہ انجماد‘‘سے نیچے گر جائے تو ایسے علاقوں میں برفباری کا عمل وقوع پذیر ہوتا ہے ۔ نقطہ انجماد سے مراد درجۂ حرارت کی وہ کیفیت جہاں پانی برف میں تبدیل ہو جائے۔

یہ صورتحال زیروڈگری سینٹی گریڈ یا 32ڈگری فارن ہائٹ ‘‘ کے بالکل نیچے سے شروع ہوتی ہے ا ور جب یہ درجۂ حرارت منفی دس، بیس یا چالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے تو عام حالت میں کسی بھی ذی روح کے زندہ رہنے کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں، کیوںکہ ان علاقوں میں بارش اور ٹھنڈی ہوائوں کے بجائے برفباری اور یخ ہوائوں کے بگولوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا اور مجموعی طور پر ان علاقوں میں بارش کے بجائے برفباری ہی ہوتی رہتی ہے، جس کے نتیجے میں وقت گزرنے کے ساتھ منجمد برف ’’گلیشیئر‘‘ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔نقطہ انجماد کی بنیاد پر دنیا کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا تو عارضی برف والے علاقے ہیں ۔

ان علاقوں میں درجۂ حرارت گرمی کے موسم میں نقطہ انجمادکے اوپر رہتا ہے لیکن سردیوں کے موسم میں ان علاقوں کے اطراف درجۂ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے۔ اور زمین پر موجود پانی برف کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اگر اس لمحے ان علاقوں میں بارش ہونے لگے تو بادلوں سے پانی کے قطروں کے بجائے سفید برف کے نرم روئی کی مانند گالے علاقے کے گرد برسنے لگتے ہیں،جس کی وجہ سے علاقہ شدید سردیوں،یخ بستہ ہوائوں اور اکثر اوقات دھند کے رحم و کرم پر ہوتا ہے جو انسانی زندگی اور املاک کو نقصان بھی پہنچاسکتا ہے۔

دوسرے علاقے وہ ہیں جو عارضی برف والے ہیں۔سندھ اور خصوصاًکراچی کاشمار آب و ہوا ور خصوصی طور پر نقطہ انجمادکی بنیاد پر ایسے علاقوں میں ہوتا ہے جہاں یخ بستہ ہوائیں اور شدید سردی تو پڑ سکتی ہے لیکن درجۂ حرارت ابھی تک نقطہ انجمادسے اوپر ہی رہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق یہاں کا درجۂ حرارت 1934ءمیں کم سے کم ’’زیرو ڈگری سینٹی گریڈ ‘‘ ریکارڈ کیا گیا تھا جو نقطہ انجمادسے قریب ترین درجۂ حرارت ہے ۔ اسی طرح 1986ء میں کم سے کم درجۂ حرارت ایک اعشاریہ (1.3 ) درجہ سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا یہ بھی ’’نقطہ انجماد سے کچھ اوپر تھااور جنوری1991ء میں کراچی کا کم سے کم درجۂ حرارت دو اعشاریہ (2.2) ڈگری سینٹی گریڈ نوٹ کیا گیاتھا ۔

تیسرے وہ علاقے ہیں جہاں مستقل برفباری ہو تی رہتی ہے۔پاکستان میں بھی ایسے علاقے ہیں، جہاں سارا سال درجہ ٔٔحرارت نقطہ انجماد کے نیچے رہتا ہے ،جس کی وجہ سے ان علاقوں میں بارہ مہینے چوبیس گھنٹے برفباری ہوتی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر بلتستان ’’سیاچن گلیشیئر‘‘پر محیط ہے۔ سارا سال بارش اور یخ ہوائوں کے بجائے برفباری اور ’’ژالہ باری ‘‘ کی زد میں رہتا ہے۔ اور درجۂ حرارت منفی چالیس (-40) ڈگری سینٹی گریڈ تک چلاجاتا ہے۔ ایسے علاقے جہاں سارا سال برف باری ہی ہوتی ہے ’’برفانی‘‘ علاقے کہلاتےہیں۔

پانی کائنات کے کسی حصے میں بھی جذب ہو یا ذخیرہ اندوز ہو کر ہر لمحہ سوچ کر حرارت کے زیر اثر ’’عمل تبخیر‘‘ (کسی مائع کا حرارت کے زیر اثر بخارات میں منتقل ہونا )یہ عمل کھلے ’’طاس‘‘ نما ساخت میں بہتر طریقے سے سرگرم ہوتا ہے، کیوں کہ طاس نما ساخت میں پانی کی شمولیت تو ہوتی رہتی ہے۔لیکن پانی کا اخراج بہت کم ہوتا ہے۔ اس طرح ’’طاس‘‘ میں ہر وقت پانی کی ایک مخصوص سطح برقرار رہتی ہے۔ جس پر سورج کی گرمی کے اثرات مرتب ہوتے رہتے ہیں اور بخارات بننے کا عمل جاری رہتا ہے۔ یہی عمل تبخیر ہے، جس کی سرگرمیاں ہر درجۂ حرارت پر ہوتی رہتی ہے۔ البتہ حرارت میں اضافہ کر دیا جائے تو بخارات کے بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ مائع کے ایک ’’مول‘‘ کو بخارات میں تبدیل کرنے کے لیے جتنی حرارت درکار ہوتی ہے اسے بخارات کے بننے کا درجۂ حرارت کہتے ہیں۔

حرارت کی اس توانائی کی ’’کیلوری‘‘ کی اکائیوں سے پیمائش کی جاتی ہے ایک کیلور ی حرارت کی وہ مقدار ہےجو ایک گرم پانی کو ایک ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔اور جب بخارات دوبارہ مائع حالات میں آ تے ہیںتو یہ بخارات کی ’’خفیہ توانائی ‘‘ ہوتی ہے۔ یہ عمل انتہائی بلندی پر ہے، اس طرح سمندر، دریا اور دوسرے ذرائع سے وہ پانی جو آسمان کی طرف بخارات بن کر فرار ہوتے ہیں بلندی میں جا کر عمل تبخیر کی سرگرمیوں کی زد میں ہوتے ہیں اور یہاں پر پانی کے معاملات توانائی کی وہی مقدارخارج ہوتی ہیں جو عمل تبخیر کے دوران جذب ہوتی ہیں۔

توانائی بے قابو موسم کو پیدا کرتی ہیں اور برق رفتاری کے ساتھ حصہ لیتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سطح زمین سے اٹھتی ہوئی ہوا جن میں آبی بخارات موجود ہوتے ہیں۔ بلندی پرجا کر اپنی خفیہ توانائی کو آزاد کر دیتی ہیں، کیوں کہ بلندی پر جاکر حرارت میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ مثلاً 20ہزار فیٹ کی بلندی پر درجۂ حرارت منفی40ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ اور ہوا کا دبائو بھی اپنے علاقوں میں سطح سمندر کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے۔

ٹھنڈی ہوا میں تھوڑے آبی بخارات سماسکتے ہیں، اسی وجہ سے سرد موسم میں ہوا میں نمی کی فی صد مقدار، بہت کم ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس گرم ہوا میں زیادہ آبی بخارات سما سکتے ہیں اس وجہ سے موسم گرما میں ہوا میں موجود نمی کی فی صد مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس طرح درجہ ٔحرارت پر ہوا میں آبی بخارات کی خاص مقدار سما سکتی ہے لیکن جب ہوا میں آبی بخارات کی اتنی مقدار موجود ہو جتنی کہ اس وقت کی درجۂ حرارت کے مطابق اس میں سما سکے تو اس سے مراد ہوا مکمل طور پر آبی بخارات سے ’’سیر شدہ ‘‘ ہے اور جس درجۂ حرارت پر ہوا آبی بخارات سے ’’سیر شدہ‘‘ ہو جائے وہ نقطہ ’’شبنم‘‘ کہلاتا ہے۔ جب ہوا کا درجہ ٔحرارت نقطہ ’’شبنم‘‘ سے گر جاتا ہے یعنی جب ’’سیر شدہ ‘‘ ہوا سرد ہونے لگتی ہے تو اس میں اتنے آبی بخارات سما نہیں سکےتھے جتنے سما سکتے تھے۔ چنانچہ ’’سیر شدہ ‘‘ ہوا کے اوپر اٹھتے ہی درجۂ حرارت میں کمی کے ساتھ آبی بخارات کی وہ مقدار جو اس میں سما نہیں سکتے تھے تو وہ فوراً مائع حالت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

ابتداء میں یہ مائع پانی کے ننھے ننھے قطروں کی شکل اختیار کرتے ہیں جو اتنے ہلکے ہوتے ہیں کہ گر نہیں سکتے اور یہی بوندیں بادل کہلاتی ہیں جسے اوپر اٹھتی ہوا سہارا دیتی ہے لیکن جب بہت سارے قطرے متحد ہو کر بوندوں کی شکل اختیار کرتے ہیں تو وہ بھاری ہو کر مزید ہوا میں معلق نہیں رہ پاتے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پر برف باری کی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں اگر یہ عمل بلند علاقوں میں ہو رہا ہو جہاں کا درجۂ حرارت نقطہ انجماد سے بھی بہت نیچے ہو تو پانی کے قطرے برف کی قلمی اشکال اختیار کر لیتی ہیں جو ’’چھ رخ‘‘ بھی ہو سکتی ہیں۔جب بہت ساری برف کی قلمیں اکٹھی ہو جاتی ہیں تو وہ آپس میں مل کر اتنی بوجھل ہو جاتی ہیں کہ ہوا ان کا بوجھ سہار نہیں سکتی اور اس طرح ’’برف باری ‘‘ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اگر برف کی قلمیں زمین پر گرتے وقت ہوا کے ایسے حصوں سے گزرے جن کا درجہ ٔحرارت نقطہ انجماد سے کم ہو تو یہ قطرے منجمدہو کر ’’اولے ‘‘ کی شعل اختیار کرلیتے ہیں۔

بعض اوقات ہوا کی وہ لہریں ان باریک ’’اولوں‘‘کو ایسے مقام تک پہنچا دیتی ہیں جہاں کی ہوا گرم ہے تو اس طرح ’’اولے‘‘ کے گرد اور نمی جمع ہو جاتی ہے پھر یہ ’’اولے ‘‘ ٹھنڈی ہوا سے گزرتے ہیں تو یہ نمی بھی سردی کے زیر اثر جم جاتی ہیں۔ اگر زمین تک پہنچنے سے پہلے ان ’’اولوں ‘‘کو بار بار ہوا کے گرم اور سرد حصوں سے گزرنا پڑے تو یہ جسامت میں بڑے ہو جاتے ہیں ،جس کی وجہ سے فصلوں اور موسم کی سبزیوں کو زبردست نقصان پہنچتا ہے۔

کبھی کبھی یہ اولے شیشے کی کھڑکیوں میں دراڑڈال دیتے ہیں یا پھر ان کو توڑ دیتے ہیں لیکن برف باری کی یہ سرگرمی ان علاقوں میں نہیں ہوتی جہاں برف کی باریک قلمیں براہ راست نقطہ انجمادسے نیچے والے منطق سے آتے ہیں۔ یہاں ’’برف باری‘‘ نرم و گداز برف کی صورت میں ہوتی ہے اور یہ عمل سارا سال جاری رہتا ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی ماہرین ار ضیات نے اعدادوشمار کی روشنی میں تجزیہ کیا تو یہ معلوم ہوا کہ اگر ’’انٹارٹیکا ‘‘ میں موجود گلیشیئرز ایک مناسب مقدار میں پگھلتے رہے تو یہ ’’میسی یپی ‘‘ دریا کو 50,0000تک ،امریکا کے تمام دریائوں کو 17000 سالوں تک ،آمیزن ‘‘دریا کو 5000 سالوں اور دنیا کے تمام دریائوں کو 750 سالوں تک سیراب کرتا رہے گا اور ساتھ ہی ساتھ گلیشیئرزکے ذخائر بعض غیر دھاتی خام مال مثلا ً ریت ،گرویل اور کوئلے کی دریافت میں ماخذ کاکام انجام بھی سے سکتے ہیں ۔