بلاگ معلومات

بڑا مسئلہ..!

بعض لوگوں کے مسائل سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے تمام مسائل حل ہو چکے ہیں۔ اب ان کا صرف ایک ہی مسئلہ رہ گیا ہے کہ انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اور یہ واقعی میں اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ اس کا نہ صرف کوئی حل نہیں بلکہ اگلے کو یہ سمجھانا بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بڑا مسئلہ عموما ذہنی ہوتا ہے اور وہاں ہوتا ہے جہاں آسائش زیادہ ہو کہ گھر بہترین ہے، سواری اچھی ہے، ملازمت اور کاروبار چل رہا ہے، آمدن میں کچھ کمی نہیں، شادی ہو چکی، بچے بھی ہیں، لیکن خوشی نہیں ہے۔ انسان کے جینوئن مسائل تو پانچ سات سے زیادہ نہیں، باقی سارے تو اس نے بنا رکھے ہیں، اور کچھ نہیں۔ اور اس کے اصل مسائل یہی ہیں جو اس نے بنا رکھے ہیں۔

آزمائش: ملحد کا کہنا ہے کہ انسانوں کو آزمائش میں دیکھ کر لگتا ہے کہ خدا بڑا ظالم ہے۔ تو آزمائش دو قسم پر ہے؛ ایک وہ کہ جسے انسان، انسان پر مسلط کر رہا ہے اور دوسری وہ جو خدا کی طرف سے ہے۔ خدا نے تو انسانوں کو ایک دوسرے پر ظلم سے روکا ہے لہذا جنگ وجدال میں جب انسان بستیوں کی بستیاں تباہ کر دیتا ہے تو اس ظلم کی نسبت خدا کی طرف کیونکر ہو سکتی ہے! ایک سیریل کلر نے کسی انسان کو بے دردی سے قتل کر دیا تو ظالم تو انسان ہوا نہ کہ خدا۔ اور خدا تو اس کے ظلم پر غضب ناک ہونے والا ہے، اسے سزا دینے والا ہے، جیسا کہ اس نے اس کا وعدہ کر رکھا ہے لہذا یہ خلط مبحث ہے۔ اور یہ بھی کہ خدا کو ظالم ٹھہرانے کے لیے اس کو پہلے موجود ماننا پڑے گا۔ جب خدا ہے ہی نہیں تو ظالم کون ہے!

آزمائش کی دوسری صورت وہ ہے کہ جو خدا کی طرف سے ہے جیسا کہ بیماری اور معذوری وغیرہ۔ اس میں اگر آپ غور کریں تو پیچھے وجہ انسان ہی ہے یعنی اس کے کرتوت جیسا کہ خدا نے کہا ہے کہ بحر وبر میں انسان کے کرتوں کی وجہ سے فساد برپا ہو گیا ہے۔ انسان کی ترقی یعنی انڈسٹریل ایج نے ہمارے صاف پانی کو آلودہ کیا اور ستھری فضا کو جراثیم سے بھر دیا۔ تو پینے کو صاف پانی میسر نہ ہو گا اور سانس لینے کو ستھری فضا نہ ہو گی تو انسان بیمار نہ ہو گا تو کیا ہو گا۔ یہ عجیب وغریب جسمانی بیماریاں غریبوں کو ہی کیوں لگتی ہیں، امیروں سے کیوں دور رہتی ہیں، ظاہری بات ہے کہ ان کا پانی اور فضا دونوں آلودہ ہیں۔ تو خود ہی بیماری اور معذوری کے اسباب پیدا کرو اور اب خدا کو کوسو تو یہ کتنا مناسب ہے!

امتحان: کیا خوب کہا ہے کہ جب تم کسی کو آزمائش میں دیکھتے ہو تو یہ آزمائش اس کی نہیں، تمہاری ہے۔ آزمائش میں وہ نہیں، تم ہو۔ کاش کے ہم سمجھ پائیں۔ اس کی آزمائش تو جو ہے سو ہے کہ بیماری، معذوری یا غربت میں ہے، اللہ عزوجل اس کے بدلے شاید اسے اچھی آخرت دے دیں۔ لیکن ہم جو اس سے اظہار ہمدردی کر رہے ہیں کہ ہائے بیچارہ۔ تو اس اظہار ہمدردی کے اصلا لائق تم ہم خود ہیں۔ اپنے سے یہ ہمدردی کریں کہ اسے آزمائش میں دیکھنے کے بعد ہامارا امتحان ہو چکا۔ اور اگر ہم اس کی مدد کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں اور نہ کی تو ہم اس امتحان میں ناکام ہو چکے۔ اصلا ہمدردی کے لائق تو ہم ہوئے کہ یہ بھی نہیں معلوم کہ امتحان کس کا ہو رہا ہے! قیامت والے دن معلوم ہوگا، او ہو، یہ تو میری آزمائش تھی۔