ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

بنی اسرئیل کے گمشدہ قبیلے

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کا عبرانی لقب اسرائیل تھا۔ لہذاان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ حضرت یعقوب کے بارہ بیٹے تھے۔ اللہ نے ان کی اولاد میں بڑی برکت عطا کی تھی۔ اس لیے ابتدا سے ہی بنی اسرئیل بارہ قبیلوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آبائی وطن عراق تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق سے ہجرت کر کے فلسطین میں آباد ہوگئے۔ سفر ہجرت کے دوران آپ علیہ السلام نے حضرت سارہ سلام اللہ علیہا اور حضرت ہاجرہ سلام اللہ علیہا سے شادیاں کیں۔ آپ کے بڑے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت سارہ کے بطن سے تھے جبکہ چھوٹے بیٹے حضرت اسما عیل علیہ السلام جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد بھی ہیں حضرت ہاجرہ سلام اللہ علیہا کے بطن سے تھے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور انکی والدہ حضرت ہاجرہ کو مکہ میں لا کر آباد کر دیا جبکہ خود حضرت سارہ سلام اللہ علیہا اور بڑے بیٹے اسحاق علیہ السلام کے ساتھ فلسطین میں ہی مقیم رہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے صاحبزادےاسحاق علیہ السلام کے بیٹے کا نام حضرت یعقوب علیہ السلام تھا۔ اپنے والد اور دادا اور چچا کی طرح آپ بھی اللہ کے برگزیدہ نبی ہوئے۔حضرت یعقوب علیہ السلام کے باره بیٹے تھے جن میں سب سے چھوٹے سے اوپر والے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام مصر میں ایک بہت بڑے سرکاری عہدے پر متمکن ہوئے تو بیشمار بنی اسرائیل مصر میں جا کر آباد ہو گئے۔ اس دوران بھی اس قوم کی ہدایت کے لئے کئی نبی آئے جن میں حضرت ایوب علیہ السلام کافی مشہور ہیں۔ بنی اسرئیل ایک طویل مدت کی آسائش اور حکمرانی کے بعد قبطیوں کی غلامی میں جکڑے گئے تو ان کی رہنمائی اور آزادی کے لیے حضرت موسی علیہ السلام تشریف لائے۔

حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو قبطیوں کی غلامی سے آزاد کراکر بحر احمر کے پار واپس فلسطین میں لے آئے۔ یہاں آپ کے بعد آپ کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام پیغمبرہوئے۔ اس کے بعد ایک طویل عرصے تک بنی اسرائیل نے فلسطین پر حکومت کیں۔ اس دوران ان پر اللہ کی طرح طرح کی نعمتیں نازل جیسے من و سلوى وغیره تاہم اس قوم نے انکی قدر نہ کی۔ ان میں سیکڑوں نبی آئے، کئی کا انکار کیا گیا، کئی کی نبوت کو قبول کی گئی مگر ان کی نافرمانی میں ان لوگوں نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔اسی وجہ سے اللہ کی بارگاہ سے دھتکارے ہوئے ہیں۔ حضرت موسی علیہ السلام تک یہ بارہ قبائل موجود تھے۔

اس کے بعد بھی اللہ تعالٰی نے بنی اسرائیل میں دو باپ بیٹوں حضرت داود اور حضرت سليمان علیہم السلام سے اس قوم کو عزت بخشی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نویں صدی ق م میں فلسطین کے مشہور فرمانروا اور پیغمبر تھے۔ ان کی وفات کے بعددس اسرائیلی قبائل نے ان کے جانشین کی مخالفت کی اور اسرائیل کے نام سے شمالی فسلطین میں اپنی بادشاہت قائم کر لی۔537 قبل مسیح میں بابل اور نینوا کے حکمران فلسطین پر چڑھ دوڑے۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو بڑے پیمانے پر قتل کیا اور ہزاروں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ قرآن کریم میں کئی جگہ اسرائیل کا ذکر آتا ہے۔ ایک پوری سورت کا نام ہی سورۃ بنی اسرائیل ہے۔

اسرائیل کی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق پشتون یا پٹھان یہودی النسل ہیں اور ان کا تعلق بنی اسرائیل کے دس گمشدہ قبائل سے ہے۔ کیونکہ اس وقت جتنے بھی یہودی ہیں وہ حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے کے دو قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔جب کہ بقیہ دس اپنا مذہب تبدیل کر چکے ہیں۔ یا ان کا کوئی پتہ معلوم نہیں ہو رہا۔

ان دس قبائل کو اسرائیل کی تباہی کے بعد فاتحین نے جلاوطن کر دیا تھا جس کے بعد رفتہ رفتہ یہ لوگ پہلے ایران پھر افغانستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہو گئے جبکہ جیوش اٹلس میں صوبہ سندھ کی قدیم بندرگاہ دیبل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ بندرگاہ یہودی تاجروں کی بہت بڑا مرکز تھی۔  بنی اسرائیل کے تاجر زمانہ قدیم میں بذریعہ بحری جہاز سندھ اور بلوچستان کی بندرگاہوں پر آتے رہے اس لیئے ان دونوں صوبوں کے بیشتر شہروں اور بندرگاہوں میں یہودیوں کے تجارتی مراکز اور عبادت گاہیں قائم ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے زمانہ قدیم میں پاکستان کے بعض علاقوں میں یہودیت کے ماننے والے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

اسرائیل میں بارہ قبائل آباد تھے جنہیں بنی اسرائیل کے اجتماعی نام سے پکارا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ صرف دو قبائل (آج کے یہودی) توریت پر عمل کرتے ہیں جبکہ باقی اب دس قبائل توریت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ لیکن یہ بھی بنی اسرائیل کا حصہ تھے۔ آج کا شمالی اسرائیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے تقریباً آٹھ سو سال پہلے نینوا کی اشوریہ قوم نے فتح کرلیا تھا جبکہ جوڈا کے نام سے موسوم جنوبی علاقہ پر صدیوں بعد بابل سے آنے والے حملہ آوروں نے قبضہ کیا۔  جب بابل کے فرماں روا بخت نصر نے یروشلم (موجودہ فلسطین) پر قبضہ کر کے اسرائیلی بادشاہت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تو بنی اسرائیل کے بہت سے قبیلے بھاگ کر ایران (فارس) کے قریب غور کے پہاڑوں میں جا بسے اور پھر یہاں سے دیگر خطوں تک پھیل گئے۔

ہزاروں سال سے دنیا میں زمانہ قدیم کے گمشدہ یہودی قبائل کے بارے میں گردش کرنے والی داستانوں کے مطابق ایتھوپیا .میں آباد فلاشا یہودیوں اور افغانستان، مشرقی ایران اور پاکستان کے پشتون قبائل کو ان یہودیوں کی نسل سمجھا جاتا ہے پشتون افغانستان میں سب سے بڑا نسلی گروپ اور پاکستان میں دوسرا بڑا نسلی گروہ ہے۔ خود بعض افغانوں کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ ان کے آبا ؤ اجداد کا تعلق قدیم زمانہ کے یہودیوں سے تھا جبکہ افغانستان کے آخری بادشاہ ظاہر شاہ مرحوم برملا یہ اقرار کرتے رہے کہ ان کا تعلق بنی اسرائیل کے بن یامین قبیلے سے ہے۔

اس طرح پاکستان اور افغانستان کی نصف آبادی یہودی قبیلے کے بچھڑے بہن بھائیوں پر مشتمل ہے۔ آج کل کے یہودی بھی بنی اسرائیل کی ہی نسل میں سے ہیں۔ اسی طرح وادی قلاش کے لوگوں کے متعلق بھی مختلف کتب میں لکھا ہے کہ ان کا تعلق بھی بنی اسرائیل سے ہی ہے۔ لیکن اب ان گمشدہ قبائل کے متعلق حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کہاں گئے۔ اور کس قوم میں تبدیل ہو گئے۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...