کالمز

بجاؤ تالی

زینب کی لاش ملی تو ڈی پی او نے زینب کی بہنوں سے کہا تالی بجاؤ، لاش مل گئی اور زینب کا قاتل پکڑا گیا تو خادم اعلی نے فرمایا ، بجاؤ تالی۔ یہ دونوں مواقع ایسے نہ تھے کہ تالی بجائی جاتی ۔ یہ تالی اصل میں حکمرانوں اورپولیس کی افتاد طبع کی خبر دے رہی ہے ۔ خدا جانے ایک دکھی باپ نے اس لمحے کیا سوچا ہو گا لیکن مجھے ابولکلام آزاد بہت یاد آئے ۔کہا ، سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔ میں سکتے کے عالم میں بیٹھے زینب کے باپ کے پہلو میں دمکتے چہروں پر امڈتی مسکراہٹوں کو دیکھ کر سوچتا رہا ، سیاست کے سینے میں دل تو نہیں ہوتا کیا اب اس کی آنکھ سے مروت اور وضع داری بھی رخصت ہو گئی ؟

اس بدذوقی کا دفاع یہ کہہ کر کیا جا رہا ہے کہ تالیاں اپنے لیے نہیں پولیس کے لیے بجوائی گئیں ۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا پولیس تالیوں کی مستحق ہے؟ یہ ایک کیس تو پولیس نے نبٹا دیا اور بلاشبہ اس سے بہت حوصلہ ہوا ہے۔ پولیس ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے دو چار کلمات کہہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن مقتول بچی کے باپ کو ساتھ بٹھا کر تالیاں پیٹنابد ذوقی کے سوا کچھ نہیں ۔ یہ قصور میں اپنی نوعیت کا پہلا واقع نہیں ہے کہ ادھر جرم ہوا ادھر پولیس نے مجرم پکڑ لیا اور اب اس کی شاندار کارکردگی پر تالیاں بجائی جائیں ۔ اس سے پہلے کتنے ہی بچے اس درندگی کا شکار ہو چکے ، سوال یہ ہے کہ پولیس کی کارکردگی کیا رہی ؟ زینب کے واقعے پر بھی اگر اتنا شدید رد عمل نہ آتا تو پولیس کا رویہ یہی رہنا تھا ۔ مت بھولیے کہ زینب کی لاش ملنے پر پولیس نے تالی بجانے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ دس ہزار روپے انعام بھی طلب فرمایا تھا ۔ سوشل میڈیا پر شور نہ اٹھتا اور سپریم کورٹ نوٹس نہ لیتی تو ڈی پی او صاحب ابھی اپنے منصب پر تشریف فرما ہوتے اور خدا جانے کتنی دفعہ تالیاں بجوا چکے ہوتے اور کتنا انعام وصول فرما چکے ہوتے ۔

ذرا پولیس اور حکومت کے بیانیے کو دیکھیں ۔ کہا جا رہا ہے کہ قصور میں بچوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے تمام واقعات میں یہی شخص مجرم ہے اور اس کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے۔ جس سادگی سے اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے سوالات کا پیدا ہونا فطری بات ہے ۔ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کسی کو بچانا تو مقصود نہ ہو لیکن اس معاملے سے جان چھڑانے کی کوشش کی گئی ہو۔یعنی یہ شخص بھلے بے گناہ نہ ہو مجرم ہی ہو لیکن پولیس اور حکومت نے یہ طے کیا ہو کہ بڑی بد نامی ہو رہی ہے اس لیے قصور میں اب تک ہونے والے سارے واقعات اس ملزم پر ڈال کر اس سارے قصے کو نبٹا دیا جائے . روز روز کی مصیبت سے جان چھوٹے۔

ایک اور اہم سوال کاجواب بھی خادم اعلی اور پولیس کے ذمے ہے ۔ قصور میں بچوں کے ساتھ ظلم کا ایک مجرم پولیس مقابلے میں مارا جا سکا ہے ۔ اب اگر مجرم یہ شخص ہے تو جسے پولیس مقابلے میں مجرم قرار دے کر مارا گیا وہ کون تھا اور اس کا گناہ کیا تھا؟ پولیس صرف اتنا تو بتا دے اس نے تب جھوٹ بولا تھا یا اب جھوٹ بول رہی ہے؟ مجرم پکڑنے پر اگر پولیس کے لیے خادم اعلی خود تالیاں بجوا سکتے ہیں تو کیا پولیس سے یہ سوال پوچھنا بھی ان کا فرض نہیں کہ پولیس مقابلے میں کسے قتل کیا گیا تھا؟ قتل کرنے والے پولیس افسران کون کون تھے ؟ کیا ان افسران کے خلاف قتل کا مقدمہ قائم نہیں ہونا چاہیے؟ کیا یہ طے کر لیا گیا ہے کسی سیریل کلر کے خلاف اس وقت تک کوئی کارروائی نہیں ہو گی جب تک زینب کی لاش پر پورا سماج آہ وبکا نہ کرنے لگے اور کسی پولیس افسر کے خلاف کسی ماورائے عدالت قتل میں اس وقت تک کارروائی نہیں ہو گی جب تک کسی نقیب اللہ کا قتل پورے معاشرے کو سراپا احتجاج نہ بنا دے؟ کیا ہمیں ہر حادثے اور ہر جرم پر اتنا ہی احتجاج کرنا ہو گا جتنا زینب اور نقیب اللہ کے قتل پر ہوا تب جا کر قانون نیند سے بیدار ہو گا ورنہ ورثاء کے سامنے معصوم لاشے رکھ کر کہا جاتا رہے گا : لاش مل گئی، بجاؤ تالی۔

بچوں کے ساتھ ظلم اور درندگی کے درجنوں واقعات صرف ان دنوں میں سامنے آئے ہیں ۔ اس سے پہلے کے کیسز کے اعدادو شمار کو دیکھیں تو آدمی پریشان ہو جاتا ہے۔کم و بیش تمام کیسز میں پولیس کا رویہ ایک جیسا رہا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا پولیس اور حکومت صرف اس کیس کو سنجیدگی سے لیں گے جس پر شور قیامت بر پا ہو جائے اور سپریم کورٹ نوٹس لے لے۔ حکومت کی نیک نامی داؤ پر لگ جائے اور پولیس کے اعلی عہدیداروں کو نوکری کی فکر لاحق ہو جائے؟ پولیس معمول کے انداز میں ان معاملات کو اسی سنجیدگی سے کیوں نہیں لیتی؟ سپریم کورٹ ہر معاملے میں تو سو موٹو نہیں لے سکتی نہ ہی ہر مقدمے میں مظلوم باپ آرمی چیف سے نوٹس لینے کی درخواست کر سکتا ہے اور نہ ہی وہ ہر کیس میں یہ درخواست قبول کر سکتے ہیں ۔ تو ان دیگر مقدمات کا مستقبل کیا ہے؟ تعزیرات پاکستان میں تو یہ لکھا ہے جب کہیں جرم ہو گا پولیس حرکت میں آنے کی پابند ہے، حتی کہ اس کے علم میںآئے کہ کہیں کسی جرم کے سرزد ہونے کا امکان پیدا ہو چکا ہے تب بھی وہ حرکت میں آنے کی پابند ہے لیکن ہمارے ہاں جب تک پہلے خادم اعلی ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نوٹس نہ لیں پولیس مجرم گرفتار ہی نہیں کرتی ۔ ان حالات میں پولیس کے ادارے کو متحرک اور فعال کرنے کے لیے آپ کو فکر مند ہونا چاہیے یا تالیاں بجانی چاہییں؟

حیرت ہوتی ہے ، اسی زینب قتل کیس میں پولیس نے ایک اور شخص، 23 سالہ عمر فاروق کو لاہور سے گرفتار کیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ ساؤتھ کینٹ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او صاحب نے قاتل سے اعتراف جرم کروا لیا ہے اور اس نے جناب ایس ایچ او کو لکھ کر دے دیا ہے کہ زینب کا قتل اس نے کیا ہے۔ اس اعتراف جرم کے دوسرے روز پولیس نے ایک دوسرا قاتل عمران علی متعارف کرادیا اور یہ بھی اعتراف جرم کر رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ساؤتھ کینٹ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او اور اس کے حاصل کردہ اعترافی بیان کے لیے کتنی تالیاں بجائی جائیں؟

عجیب تماشا لگا ہے۔ پنجاب حکومت سے زینب کا سوال کرو تو ن لیگ کی طرف سے طعنہ آتا عاصمہ کا کیا بنا ؟ کے پی کے حکومت سے عاصمہ کا سوال پوچھو تونونہالان انقلاب سے جواب ملتا ہے راؤ انوار کا کیا بنا؟ سندھ حکومت سے راؤ انوار کا سوال پوچھو تو جیالوں کی جانب سے جواب دیا جاتا ہے راؤ انوار تو سب کو یاد ہے کسی کو پنجاب کے ذوالفقار چیمہ یاد نہیں جنہوں نے سترہ اگست 2016کو اپنے کالم میں تفصیل سے لکھا تھا کہ کیسے انہوں نے راولپنڈی سے بندے کو پکڑا اور بھلوال لے جا کر جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا ۔ سوال یہ ہے ایک عام پاکستانی ، جو کسی کے حصے کا بے وقوف نہیں ، کہاں جائے؟

سوالات کا ایک دفتر کھلا ہے اور ان سوالات کو فرمائشی تالیوں کے شور میں دبایا نہیں جا سکتا ۔ افتخار عارف یاد آ گئے:
’’ جواب آئے نہ آئے ، سوال اُ ٹھا تو سہی ۔۔۔۔پھر اس سوال میں پہلو نئے سوال کے رکھ‘‘

تحریر : آصف محمود

 

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment