معلومات

بہو کی 10 معمولی غلطیاں جو ساس کو اُس کی دشمن بنا دیتی ہیں

ساس اور بہو کا رشتہ ساری دُنیا میں ہی بدنام ہے مگر پاکستان میں جہاں جوائنٹ فیملی سسٹم ہے وہاں یہ رشتہ بدنام ترین رشتہ ہے جو گھر میں جنگ پلاسی کو کبھی ختم نہیں ہونے دیتا۔ ماں جو دُنیا کا سب سے انمول رشتہ ہے اُس نے بیٹے کو پرورش کر کے جوان کیا ہوتا ہے، اُس نے قُربانیاں دی ہوتی ہیں اور وہ بیٹے پر اپنا حق سمجھتی ہے اور بلکل جائز سمجھتی ہے اور وہ کبھی گوارا نہیں کرتی کہ اُس کا بیٹا اُس سے زیادہ کسی اور خاتون کو توجہ دے۔دُوسری طرف بہو ہے جس نے اپنا گھر باراپنے ماں باپ سب کُچھ چھوڑ کر شادی کی ہوتی ہے اور وہ چاہتی ہے کے اُسکا شوہر سوائے اُس کے کسی اور طرف متوجہ نہ ہو۔جوائنٹ فیملی سسٹم میں جب دو حوا کی بیٹیاں یعنی ساس اور بہو جب ایک ہی پراپرٹی یعنی مرد پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو دونوں میں انڈیا پاکستان کی طرح ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور اس جنگ میں پُورے خاندان کو نقصان پہنچتا ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم بہو کی 10 ایسی غلطیاں جو وہ بے خیالی میں کرتی ہے اور ساس کی نظروں میں چھبنے لگتی ہے ذکر کر رہے ہیں جس پر اگر نئی شادی شُدہ خواتین تھوڑی سی توجہ دے دیں تو گھر کی ملکہ یعنی ساس سے اُن کے تعلقات انتہائی مضبوط اور بیٹیوں جیسے ہو سکتے ہیں۔

نمبر 1 ساس کی ہاں میں ہاں ملانا : بہو کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ جس گھر میں وہ بہو بن کر گئی ہے اُس گھر کو اُس کی ساس نے گھر بنایا ہے اور اُس گھر کی قانون سازی بھی اُس کی ساس نے کی ہے لہذا ساس چاہے غلط ہو یا ٹھیک ہو بہو کو پہلے 5 سال ساس کی کسی بات سے اختلاف نہیں کرنا چاہیے، ساس کی ہاں میں ہاں ملاؤ، اُس کی پُوری بات سُنو اور بات کو درمیان میں سے مت کاٹو اور ساس کی ہر بات میں ساس کی طرفداری کرو۔عورت عورت کی دوست صرف اُسی صورت میں بنتی ہے جب وہ دوسری عورت کی ہر بات کو سُنے اور اُسے بلکل حق پر قرار دے اور اُس کے ساتھ ہمدردی ظاہر کرے۔اگر آپ اپنی ساس کیساتھ ہمدردی ظاہر کرکے اور اُس کی ہاں میں ہاں ملا کر اور اُس کی ہر بات کو صحیح قرار دیکر اُسے کے دل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں تو سمجھ لیں ساس کے بعد گھر کی ملکہ کا تاج آپ کے سر پر رکھا جائے گا۔

نمبر 2 ڈانٹ پر ہرگز نہیں رونا : گھر کے کسی کام پر ساس اگر بہو کو ڈانٹ دے تو عام طور پر بہو کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اوریہ ایک سنگین غلطی ہے، سوائے بیٹی کے رشتے کے عورت کا دل عورت کے آنسو دیکھ کر کبھی نہیں پگھلتا وہ اُسے ہمیشہ مگرمچھ کے آنسو قرار دے گی اور بہو کا آنسو بہانا ساس کے دل میں شک ڈال دیتا ہے کہ اب یہ میرے بیٹے کو میرے خلاف بھڑکائے گی۔اس لیے ساس اگر ڈانٹے تو ماتھے پر بل ڈالے بغیرمعصوم مُنہ بنا لینا ہے اور اپنی غلطی کا فوراً اعتراف کر کے جیسا ساس کہہ رہی ہو ویسا کرنا ہے، اور اگر آپ ایسا کریں گی تو کُچھ عرصے بعد ساس کا رویہ نرم ہوتا چلا جائے گا اور وہ آپ کے کام میں کیڑے نکالنا بند کر دے گی۔

نمبر 3 ماں اور بیٹے کی مُلاقات : شوہر جب کام سے گھر آئے اور ماں کے پاس بیٹھا ہو تو اُسے ہرگز ہرگز کوئی کام مت بولیں وگرنہ یہ بات ساس کو پسند نہیں آئے گی اور وہ سمجھے گی کہ بہو اُس کے بیٹے کو بلاوجہ کسی کام پر لگانا چاہ رہی ہے تاکہ وہ ماں کے پاس نہ بیٹھے اور ماں کی بات نہ سُنے۔

نمبر 4 ساس کی اجازت : شادی کے پہلے 2 سال بہو کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ فوجی ٹرینینگ پر ہے اور فوجی ٹرینینگ کے دوران چھٹی لیکر گھر کی سیر کو نہیں جاتے اسی لیے بہو کو چاہیے کہ اپنے ماں باپ کے گھر شروع کے دو سال میں کم سے کم جائے اور ساس سے اجازت لیکر جائے اور بہتر ہو گا کہ ساس کو اپنے ساتھ لیکر جائے تاکہ ساس کے دل میں یہ بات جڑ نہ پکڑے کے بہو اپنے گھر جاکر ہمارے گھر کے متعلق کوئی بھی چغلی کرتی ہے۔ایسا بہو کو زیادہ عرصہ نہیں کرنا پڑے گا اور اس سے ساس کا اعتماد بہو پر بڑھتا چلا جائے گا۔

نمبر 5 شوہر سے محبت : بہو کو چاہیے کہ اپنی محبت کا اظہار اپنے شوہر سے سوائے اپنے بند کمرے کے گھر کی کسی اور جگہ پر نہ کرے اور اگر شوہر چھیڑا خانی کرنے کی کوشش کرے تو اُسے مناسب الفاظ کے ساتھ منع کرکے اپنے کام پر توجہ دے۔بہو کے ایسا کرنے سے ساس کا دل بہو کی طرف بڑھتا چلا جائے گا اور وہ گھر کے کاموں میں اُس پر اعتماد کرنے لگے گی۔

نمبر 6 بناؤ سنگہار : بیٹے کے گھر لوٹنے سے پہلے ساس کی نظر بہو پر ہوتی ہے اور بہو کو چاہیے کے شوہر کے گھر آنے سے پہلے کام ختم کر لے اور بناؤ سنگہار کرے، اس سے جہاں شوہر خُوش ہوگا وہاں ساس بھی خُوش ہوگی کے لڑکی میرے بیٹے کا خیال رکھتی ہے۔

نمبر 7 ساس کی سہیلیاں : ساس کے رشتہ دار یا سہیلیاں جب ساس سے گفتگو کر رہی ہوں تو جب تک ساس خُود بہو کو پاس بیٹھنے کا نہ کہے بہو ہرگز ہرگز ساس کے پاس مت بیٹھے وگرنہ ساس کے دل میں شک جائے گا کہ یہ ہماری باتیں سُننے کے چکر میں ادھر اُدھر منڈلا رہی ہے اور اگر ساس آپ کی چغلی بھی کر رہی ہو تو بلکل نارمل رہیں اور ساس پر ظاہر نہ ہونے دیں کے آپ نے سُنا ہے۔

نمبر 8 سُسر سے تعلقات : بہو کے تعلقات عام طور پر اپنے سُسر کے ساتھ بہت اچھے ہوتے ہیں مگر بہو کو چاہیے کہ ان تعلقات میں اگر ساس اور سُسر کا آپس میں کوئی مسئلہ چل رہا ہو تو کبھی بھی سُسر کا ساتھ نہ دے اور ہمیشہ ساس کی ہاں میں ہاں ملائے اور ساس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرے، ایسا کرتے ہُوئے اگر سُسر سے تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو بے شک سُسر کو بعد میں اکیلے میں معذرت کر لے وہ سمجھ جائے گا، مگر یاد رکھیں ایسی کوئی بات ساس نہیں سمجھے گی۔

نمبر 9 ساس کی باتیں اور شوہر : اپنی ساس کا کوئی راز اپنے شوہر بلکے کسی سے بھی شیئر مت کریں وگرنہ رازداری کی رسم ٹوٹ جائے گی اور ساس کو پتہ چلنے کے بعد اُس کا آپ پر سے اعتبار جاتا رہے گا۔

نمبر 10 ساس کی خُوبصورتی کی تعریف : ہر سمجھدار بہو یہ بات جانتی ہے کہ ساس کی خُوبصورتی کی تعریف کرنا کتنا ضروری ہے چاہے ساس خوبصورت نہ بھی لگ رہی ہو، اپنی ساس کی خُوبصورتی کی تعریف کریں اور اُسے بتائیں کے آپ کے سُسر اب بھی اُسے کن اکھیوں سے دیکھتے ہیں اور ہرگز ہرگز ساس کی پسند کی ہوئی کسی بھی چیز کو بُرا مت کہیں۔

نوٹ: بڑے اور طاقتور خاندان صبر سے بنتے ہیں اور بادشاہ بننے کے لیے بھی صبر سے اپنے وقت کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور صبر کا پھل ایک دن ضرور ملتا ہے۔