بلاگ کالمز معلومات

معاشرہ بناو کے بجائے بگاڑ کا شکار کیوں؟

اس وقت ملک میں امتحانی موسم اپنے جوبن پر ہے۔ ابتدائی جماعتوں سے لے کر مڈل تک کے امتحانات مارچ اور پھر یکے بعد دیگرے اگلی جماعتوں کے مراحل ہیں۔ امتحان ایسا لفظ یا کام ہے جو شائد زندگی کے کسی دور میں پُرانا محسوس نہیں ہوتا۔ بچپن سے لے کر بڑے ہونے تک زندگی کے کتنے ہی مراحل آجائیں، یہ ہر سال نئی آب و تاب کے ساتھ وارد ہوجاتے ہیں۔ اسکول ہو یا گھر، معمول کی فضاء میں واضح تبدیلیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ اسکول ٹیچرز کو اپنا طے شدہ نصاب بروقت ختم کروا دینے کی دُھن اور بچوں کو اگلا پچھلا سارا کام مکمل کرلینے کی لگن ہوتی ہے تو اَمّیاں ٹپیکل پاکستانی ماؤں کی طرح یہ خواہش کرتی ہیں کہ بس سب سے زیادہ نمبر اُنہی کے بچوں کے آئیں گے، پھر چاہے اُن کے بچوں نے پورے سال پڑھائی کی ہو یا نہیں۔ امتحانات کا یہ موسم بہت ساری تبدیلیاں لاتا ہے۔ اِس موسم میں زیادہ دلجمعی کے ساتھ پڑھائی، دعاؤں کے ساتھ نمازوں کا خصوصی اہتمام اور پڑھائی کے علاوہ دیگر تفریحی معاشرتی

خاندانی سرگرمیوں سے بائیکاٹ کی حد تک کنارہ کشی بہت نمایاں حیثیت رکھتی ہیں، اور پھر پروگریس رپورٹ اور نئی جماعت میں ترقی کے اہداف کے حصول کے ساتھ اس مہم کا اگلے سال تک کے لئے اختتام ہوجاتا ہے۔اگر دیکھا جائے تو سالہا سال کی امتحانی مہمات سر کرنے کے بعد ایک طالب علم کسی قابلیت کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ پھر وہ خود، اُس کے معاون، اساتذہ اور والدین سُکھ کا سانس لیتے ہیں۔ اِس موقع پر اکثر جملے کچھ اِس طرح کے ہوتے ہیں۔آج بچوں کی محنت ٹھکانے لگی اِسی دن کے تو خواب دیکھے تھے آج ہمارے خوابوں کی تعبیر مل گئی ہم نے اپنا فرض بحسن و خوبی ادا کردیا اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے قیمتی انسانی و مالی ملکی وسائل اور والدین کے روحانی مُحبانہ تعاون کے ساتھ معاشرے کا ایک قابل فرد میدانِ عمل میں آتا ہے۔ معاشرے میں ہر سال بیش بہا وسائل لگ کر ہزاروں ڈاکٹرز، انجینیئرز، اساتذہ مختلف علوم و فنون کے ماہرین اور حفاظ وعلماء دین کا اضافہ ہوتا ہے،

مگر نہ ہماری معاشرتی صورتِ حال بہتر ہوتی ہے نہ اخلاقی۔ کہا جاتا ہے افراد سے معاشرہ بنتا ہے۔ مگر یہاں افراد تو قیمتی ترین وسائل کے ساتھ بن رہے ہیں مگر معاشرہ بناؤ کے بجائے بگاڑ ہی کی جانب گامزن ہے۔ جانتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ہم نے لفظ یا عملِ امتحان کو اُس کے مکمل اور مطلوب معنوں میں نہیں لیا ہے۔ خود غرضی کے اِس دور میں امتحان جیسے انقلابی عمل کو بھی ہم نے اپنی اغراض کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ ہم اپنے بچوں کی شرکت صرف اُس امتحان میں پسند کرتے ہیں جس کا فائدہ صرف ہمیں پہنچے۔ بچے کے ابتدائی مرحلے کا کوئی ٹیسٹ امتحان ہو یا آخری مرحلے کا، اُس میں کامیابی کے پیشِِ نظر ملک و قوم کی بہتری کی کوئی رِمق ہمارے دل کے نہاں خانوں میں ہوتی ہے۔

معاشرے کی ابتری کے لئے حکومت اور سیاستدانوں کی کرپشن کا تو خوب رونا رویا جاتا ہے مگر اپنے نفس کی کرپشن کو ہنسی خوشی برداشت کرلیا جاتا ہے۔ہم نے کُندن بنانے والے امتحان جیسے عمل کو اپنی مفاد پرستی کی کرپشن سے کھوٹا کرلیا ہے۔ اشتہار بازی اور میڈیا کے اِس دور میں اسکولوں اور تعلیمی اداروں کو  گلیمرائز کرکے پیش کیا جا رہا ہے۔ والدین اس سِحر سے اتنے مرعوب ہیں کہ وہ تعلیم کے ساتھ تربیت کی ذمہ داری بھی اُن کے سپرد کرکے مطمئن ہیں۔ آثار دکھا رہے ہیں کہ سوائے چند ایک کے اخلاقی تربیت کا بار تعلیمی اداروں کی استعدادِ کار سے باہر ہے۔تعلیم، علم اور امتحان اپنی مختلف جہتوں کے ساتھ تربیت کا ایک مکمل پیکیج ہے۔ علم و امتحان کا اصل مقصد فکر و عمل سے گندگی کو دور کرکے عمدگی سے بھر دینا ہے۔ ہم نے اِس پورے انقلابی عمل کو خواندگی تک محدود کرلیا ہے۔ امتحان کا مقصد ہمارے نزدیک تعلیمی کمزوریوں کو دور کرنا ہے تاکہ امتحانی نتائج اچھے آسکیں۔

افسوس یہ کہ ہمارے لئے اہمیت نمبرز کی ہے تربیت کی نہیں۔کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے یا یونیورسٹی کے پروسپیکٹس کو دیکھ لیں۔ اُن کے ہاں موجود تعلیمی پروگرامات کے سکوپ کی آگہی کیا بتائی جاتی ہے؟ یہی کہ اِس ڈگری کے حصول کے ذریعے کہاں، کیسے اور کتنا کمایا جاسکتا ہے؟ بالفاظِ دیگر ہزاروں لاکھوں کی اِس ڈگری کو کس حد تک ’کیش‘ کروایا جا سکتا ہے۔ وہاں یہ رہنمائی نہیں دی جاتی کہ ہمارے ملک میں کہاں، کتنے اور کیسے ماہرین/ پروفیشنلز کی ضرورت ہے کہ ملک کا وہ حصہ ترقی کرسکے یا وہاں کے عوام کی مشکلات و مسائل دور ہوسکیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں کیرئیر کاؤنسلنگ اعلیٰ تعلیم سے قبل ہوتی ہے جس کی اولین غرض ملکی معاشرتی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ کام تعلیم کے اختتام ہر ہوتا ہے

اور ترجیح فرد کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمارا شاندار ماضی ہمارے لئے نشانِ راہ ہے۔ دو عشروں کے بعد تیئس سال کی مدت میں ایک خطّے میں بکریاں چرانے والے علم کی بدولت پوری دنیا کے امام بن گئے۔ وقت کا کم و بیش اتنا ہی سرمایہ اِس سے کہیں زیادہ قیمتی وسائل کے ساتھ ہمارے نوجوانوں پر بھی لگ رہا ہے، مگر ہماری مضطرب دنیا سکون کی منتظر ہی ہے۔ ہمارا تعلیمی امتحانی نظام صرف معاش کے تقاضوں کو پورا کرنے تاجر بن چکا ہے۔انسان (اَلَستُ بِرَبِکُم) اپنے خالق کی بندگی کے وعدے کے ساتھ اُس کی پہچان لے کر دنیا میں آتا ہے۔ یہاں اِسے قدم قدم پر دولت، شہرت، عزت اور معیشت غرض انواع و اقسام کے معبودوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اصل امتحان بندگی کے اولین وعدے (ایک خدا کی بندگی) پر قائم رہنا ہے۔

ہمارا تعلیمی امتحانی نظام انسان کے اندر کی سچائی کو باہر منکشف کرنے کے بجائے باہر کی آلائشوں، جھوٹ، دھوکے اور فریب سے آلودہ کرنے والا ہے۔ نتیجتاََ سالوں کی پڑھائی لاکھوں کے وسائل کے بعد ڈگری لینے والا نوجوان ایمان و یقین سے دور اور متذبذب ہے۔ زندگی کے کامیاب مقام پر پہنچ کر بھی مثبت و منفی اور بھلائی و برائی کے راستوں میں سے صرف درست کا انتخاب کرنا اور پورے یقین کے ساتھ اُس پر چلنا اُس کے لئے مشکل ہے۔ ہمارے پورے معاشرتی نظام میں موجود کرپشن اُس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔حلال و حرام، صحیح اور غلط اور آخرت کا علم اگر ہمارے امتحانی نظام کا حصہ نہ ہو تو ہمارے بچے اُس امتحان کے خُوگر کیسے ہوسکیں گے جس کے لئے اِس دارالامتحان دنیا میں اُن کو بھیجا گیا؟ پھر آگاہ بھی کردیا گیا کہ دنیا میں انسان کو کیا کچھ دیا گیا،

کم یا زیادہ سب دراصل امتحان ہی کا سامان ہے۔ امتحان یہ ہے کہ انسان اپنی ذات میں موجود بے شمار نعمتوں سے لے کر اِردگرد موجود اَن گنت نعمتوں کو استعمال کرنے میں اپنی قابلیت کا ثبوت دے کر دنیا کی اصلاح اور امن و سکون کو برقرار رکھے یا اُن نعمتوں کے استعمال میں اپنی ناقابلیت کے باعث دنیا میں فساد اور ظلم کا اضافہ کرے۔ اِسی امتحان کے نتیجے پر دنیا کی زندگی کے انجام پر انسان کے اصلی مقام (کامیابی یا ناکامی) کے تعین کا انحصار ہے۔ اپنے بچوں کے امتحان کے لئے پریشانی ہمارے اور اُن کے اصلی امتحان کی فکرمندی سے مربوط ہوجانا ہی وہ بھٹی ہے جس میں ہمارے افراد و معاشرہ کندن بننے کے منتظر ہیں۔