بلاگ کالمز معلومات

آدمی کو میسر نہیں انساں ہونا

یہ بظاہر ایک شعر ہے لیکن اپنے اندر ایک بہت بڑا پیغام سموئے ہوئے ہے۔ فی زمانہ آپ کو آدمی تو بہت ملیں گے لیکن انسان نہیں۔ انسانیت وہ اعلیٰ منزل ہے جس کی بنیاد پر آدمی فرشتوں سے بھی افضل قرار پاتا ہے اور اگر کسی میں انسانیت نہیں تو وہ آدمی جانور سے بھی بدتر ہے۔پھر ایک اہم ترین بات یہ ہے کہ انسانیت نامکمل ہے اخلاق کے بغیر، کسی بھی باشعور معاشرے میں اخلاقیات کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ اخلاق کی بلندی سے معاشرے میں شعور کی سطح کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ مذہبی تعلیمات کا ایک بڑا حصہ بھی اخلاقیات پر ہی مشتمل ہے۔ بیشتر اسلامی احکام مثلاً نماز، روزہ، حج و زکواۃ وغیرہ کے مقاصد انسانی کردار و اخلاق کی تربیت بتائے گئے ہیں جن پر کاربند ہوکر انسان فلاح و بہبود پاسکتا ہے۔ بھگوت گیتا میں بھی عمل اور اخلاق پر زور ہے اور مہاتما بدھ کی تعلیمات کا ایک بڑا حصّہ انسانوں اور دیگر عناصر کائنات کے ساتھ حسن سلوک پر مشتمل ہے۔ لیکن یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ آج ہمارے ہاں اخلاقیات و انسانیت کی کوئی اہمیت نظر نہیں آتی۔دوسروں کا حق مارنا،

چھوٹی موٹی چوریاں کرنا، دوسروں کی تحقیر، غیبت اور بہتان تراشی بہت عام چیزیں ہیں۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ جن کی ہاتھ میں ڈگریاں ہیں، وہ بھی بنیادی اخلاقیات سے عاری ہیں۔ یہ طبقہ جامعات، کالجوں میں زیر تعلیم کے باوجود اخلاقیات سے کوسوں دور ہے۔اس معاشرتی مسئلے کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں سرفہرست گھر اور اسکول میں صحیح تربیت کا فقدان ہے۔ ہمارے گھروں میں انسان سازی پر زور نہیں دیا جاتا ہے۔ اچھی تربیت کو فقط اچھے نمبر حاصل کرکے اچھے اسکولوں اور کالجوں میں داخلہ لینے کو ہی سمجھا جاتا ہے۔ نجانے کیوں دیسی لہجے میں انگریزی کے جملے بولنے کو ہی بچے کی تربیت کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔ دوسری طرف اسکولوں کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے۔ اساتذہ کا سارا زور نمبرز کے حصول پر ہے تاکہ اسکول کا نام روشن ہو۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ مادر علمی کا کام انسان سازی اور کردار کی بلندی کا حصول ہے۔

اس کے علاوہ اخلاقیات کے حوالے سے باقاعدہ کسی مضمون کی عدم موجودگی بھی معاشرتی مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ اسلامیات اور دینیات کے نام پر بھی فقط سورتوں اور احادیث کے رٹنے پر زور دیا جاتا ہے اور اس کی اصل روح سے طلباء کو آشنا نہیں کیا جاتا۔اربابِ اختیار کو اس جانب توجہ دینی چاہیئے۔ ہمارے تعلیم یافتہ افراد چاہے کسی جامعہ سے فارغ التحصیل ہوں یا کسی معتبر دینی مدرسے سے، بسا اوقات اس طرح کے غیر علمی افعال کے مرتکب ہوتے ہیں جن کو دیکھ کر صاحب عقل انسان ششدر رہ جائے۔ اپنی علمیت اور قابلیت کے بل بوتے پر دوسروں کو حقیر سمجھنا عام بات ہے۔ کسی کا تمسخر اڑانا اور بات بات پر گالم گلوچ اور بد تہذیبی عادت بن چکی ہے۔

لوگوں میں برداشت کا فقدان ہے اور اسی باعث کسی بھی قسم کےعلمی و نظریاتی اختلاف کو برداشت نہیں کر پاتے۔  بات بات پر دوسروں کو ناپسندیدہ القاب سے مخاطب کرنا عام سی بات ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ذہنی تربیت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک انسانی و عمرانی علوم کی ترقی نہ ہو۔ جب تک معاشرتی و انسانی نظریات کو معاشرے میں رائج نہیں کیا جاتا اس وقت تک معاشرے میں برداشت نہیں بڑھے گی۔ مغرب میں برداشت کی ایک بڑی وجہ وہاں سماجی و انسانی علوم کا رائج ہونا ہے۔ ہمارے ہاں ان علوم کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا، یہ علوم تعلیمی اداروں میں ان افراد کے لئے مختص ہیں جن کو کہیں بھی داخلہ نہیں ملتا، نتیجتاً ان علوم میں نظریاتی و فکری ارتقاء کا فقدان نظر آتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی معاشرے کی ذہنی و فکری بلندی کا اندازہ اس معاشرے میں انسانی علوم کے ماہرین یا اسکالرز کی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے۔ ہمارے نوجوان معاشی فوائد کی وجہ سے چند مخصوص علوم پڑھنے پر توجہ دیتے ہیں

جن میں سرفہرست انجنیئرنگ، کامرس اور میڈیکل ہیں۔ بلاشبہ انسان کی معاشی ضروریات سب سے اہم ہیں، لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو انسانی علوم معاشرے میں فکری بلندی کے ساتھ ساتھ مالی فوائد بھی رکھتے ہیں۔ کم از کم ان علوم کو پڑھنے کے بعد مالی مشکلات کا شکار نہیں ہوسکتے۔ ایک انسان کی وجہ سے متعدد افراد سامنے آتے ہیں جو اچھے اخلاق و کردار سے ہم آہنگ ہوتے ہیں، کیونکہ اچھا انسان اس چراغ  کی مانند ہے جس سے مزید روشنی پھیلائی جاسکتی ہے۔یہ معاشرہ جس میں برداشت ختم ہوچکا ہے اور عدم رواداری کا رواج عام ہے، اخلاقیات و انسانیت کی تعلیم ہی صحیح معنوں میں ایک اکسیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں مایوسی کی ضرورت نہیں کیونکہ چند عشرہ قبل تک یہ وہی معاشرہ تھا جہاں صوفیاء کی تعلیمات چہار سو پھیلی ہوئی تھیں، جس میں ہر انسان سے محبت کا درس دیا جاتا تھا۔ آج بھی ہم محبت، اخوت اور انسانیت کو فروغ دیں، تربیت سازی کی جانب مستقل مزاجی سے توجہ کریں تو یقیناً معاشرہ میں تبدیلی ممکن ہے۔