ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

بچے تو ویسے ہی حرام کے تھے

وہ ہاتھ میں تسبیح گھماتے ہوئے بولا:” بچے تو ویسے ہی حرام کے تھے”، ایسی تحریر جو آپ کو جنجھوڑ کر رکھ دے گی

آج کام سے واپسی پر اسٹیشن پر کھڑی ٹرین کی منتظر تھی. کہ میرے سامنے کھڑا ایک گورا جو مجھے کچھ دیر سے ٹکٹکی باندھ کر یوں دیکھ رہا تھا جیسے پہچاننے کی کوشش میں ہو . پھر قریب آ کر بولا تم نے مجھے پہچانا نہیں میں روجر ہوں .. میں عجیب سی کشمکش میں تھی کہ آواز اور شکل تو کچھ جانی پہچانی تھی مگر حلیہ نہیں . لمبی داڑھی، سفید جبہ سر پر ٹوپی ہاتھ میں تسبیح ….روجر میں نے عقل کا گھوڑا بہت بار ادھر ادھر دوڑایا مگر ناکام رہی . وہ میری پریشانی سمجھتے ہوئے بولا .. تمہیں یاد نہیں کچھ سال پہلے تم سے فلاں فلاں سلسلے میں میری ملاقات ہوئی تھی . .. اوہ یاد آیا ہاں ہاں …روجر تم ؟؟ مگر یہ کیا حلیہ اپنا رکھا ہے تم نے کیا ہوا ؟ میں مسلمان ہو گیا ہوں ایک سال ہوا … اچھا..کیسے ؟ کب ؟ تو وہ بولا بس مالی طور پر بہت پریشان تھا مہینوں کرایہ نہ دے سکا کریڈٹ کارڈز پر قرضہ چڑھ گیا بلوں نے جان کھا لی . اور تو اور کام پر جن دوستوں سے ادھار پکڑا انہوں نے میری شکایات لگا کر نکلوا دیا .میں نے دل برداشتہ ہو کر خود کشی کرنے کی ٹھان لی . چلتی ٹرین کے آگے کودنے لگا تھا کہ ایک صومالی لڑکے نے ہاتھ پکڑ کر بچا لیا اور اپنے ساتھ اپنے گھر لے آیا … ماجرا پوچھا اور پھر ترس کھا کر میری کافی مدد بھی کر دی …

وہ ایک تبلیغی گرو ہ سے تھا دوست بن گیا ا و ر اسی کی تبلیغ سے پھر میں بعد میں اسلام لے آیا . اچھا مگر اب تم کیا کرتے ہو میں نے مزید پوچھا کیا اب بھی وہی چھوٹی موٹی جابز کرتے اور چھوڑتے رہتے ہو یا کوئی ڈھنگ کا کام پکڑا .. تو مسکرا کر بولا نہیں میں اب کوئی کام نہیں کرتا یہاں ایک مسجد کے قریب رہتا ہوں نوجوان لڑکوں کے ساتھ بس مسجد کے کام ہی کرتا ہوں ویلفئیر پر ہوں اور آمدنی بڑھانے کے لئے مسجد والے اپنی خدمت کا لیٹر دے دیتے ہیں جس سے گزارا ہو جاتا ہے .. بس اب کیا کرنا ہے کام کر کے .. مگر تمھارے بچے انکا گزارا کیسے ہوتا ہو گا اس قلیل آمدنی میں ؟؟ میں نے پوچھا .. بچوں کو تو میں نے ایک سال ہوا چھوڑ دیا اس نے تسلی سے جواب دیا .. مگر کیوں مجھ سے بھی رہا نہ گیا .. بس گرل فرینڈ کو کہا تھا اسلام لے آؤ وہ نہیں مانی اور بچے تو ویسے ہی حرام کے تھے ……

وہ تسبیح ہاتھوں میں گھماتا ہوا پلیٹ فارم کی طرف آتی ٹرین کو دیکھتا ہوا بتا رہا تھا .. اور مجھے اپنے ہی کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا . ….کہ ایسے میں ذھن نے کچھ سال پہلے والا روجر یاد دلوا دیا . جو ہر مذہب اور خدا کا انکاری ایک روایتی گورا ضرور تھا . چھوٹی موٹی جابز کرتا تھا تنخواہ آتے ہی پہلے دو ہفتوں میں پینے پلانے عیاشی کرنے میں اڑا دیتا اور پھر اگلے دو ہفتے دوسروں سے مانگتا پھرتا . بہت سی غیر ذمہ دارانہ عادات کے باوجود ایک بات اچھی ضرور تھی اس میں کہ وہ اپنی گرل فرینڈ کو بہت چاہتا تھا جس سے اسکے دو تین بچے بھی تھے جنہیں وہ بہت پیار بھی کرتا تھا …. ہر وقت انکی تصویریں اپنی جیب میں رکھتا تھا اور انہی بچوں کی ضرورتوں کی خاطر وہ کہیں بھی محنت مزدوری کر لیتا تھا . اور آج وہی روجر کہ رہا تھا کہ اسکے اپنے بچے ہی حرام کے تھے ؟؟. میں سوچ رہی تھی یہ انسان کی خدا سے ناطہ جوڑنے کی کیسی چاہ ہے جو اسے اپنے ہی تخم اپنی نسل سے یوں بیگانہ بھی کر دیتی ہے ؟؟

تبصرے
Loading...