اسلام بلاگ معلومات

بچے کہاں سے آتے ہیں؟

بعض دوست سوال کرتے ہیں کہ بعض اوقات چھوٹے بچے عجیب غریب سوال کرتے ہیں، مثلا یہ کہ بچے کہاں سے آتے ہیں، کیسے آتے ہیں وغیرہ وغیرہ، تو ایسے سوالات سے کیسے نپٹا جائے یا ان کا جواب کیسے دیا جائے؟ جواب: بچوں کا نہ تو ہر سوال ایسا ہوتا ہے کہ آپ انہیں شٹ اپ کال دے کر چپ کروا دیں اور نہ ہی ایسا کہ آپ انہیں ضرور ہی جواب دیں اور یہ بچے کی عمر پر منحصر ہے۔ بچے کی عمر کے اعتبار سے کچھ چیزیں اسے سمجھ آ سکتی ہیں اور کچھ نہیں۔ اور اگر وقت سے پہلے اسے سمجھانے کی کوشش کی گئی تو وہ ایجوکیشن کی بجائے کچھ اور ہی ہو جائے گا۔

تو سب سے پہلے بچے کی عمر دیکھیں۔ پھر یہ دیکھیں کہ یہ سوال اس کی عمر سے کتنا بڑا ہے۔ پھر اسے مناسب جواب دے دیں، جو ضروری نہیں کہ پورا جواب ہی ہو۔ مثال کے طور پر یہی سوال اگر پانچ سال کا بچہ کرے کہ بچے کہاں سے آتے ہیں تو اسے یہ کہنے میں حرج نہیں ہے کہ اللہ تعالی کے پاس سے آتے ہیں اور اس میں جھوٹ بھی نہیں ہے۔ بچہ جب سات سال کا ہو جائے تو اسے یہ کہہ دیں کہ اللہ تعالی ہسپتال بھیج دیتے ہیں، وہاں سے آتے ہیں۔ بچہ جب دس سال کا ہو جائے تو اسے یہ کہہ دیں کہ اللہ تعالی ماں کے پیٹ میں بچے کو پیدا کرتے ہیں اور ہسپتال میں آپریشن کے ذریعے ماں کے پیٹ سے بچے کو نکالا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ بچوں کے سوالات کی دو وجوہات ہوتی ہیں؛ ایک یہ کہ اسے اپنی عمر سے بڑے کسی دوست یا کلاس فیلو سے بات چیت کے دوران کوئی سوال پیدا ہوا۔ تو اب وہ اس علم کی تصدیق چاہ رہا ہوتا ہے جو اسے معاشرے یا دوستوں یا کزنز سے ملا ہوتا ہے۔ ایسے میں وہ آپ کے غلط جواب سے مطمئن نہیں ہو گا کیونکہ جواب اس کے پاس پہلے سے موجود ہے اور اس کا مسئلہ صرف تصدیق ہے۔ اس لیے اگر آپ یہ سمجھتے ہوں کہ آپ کا بچہ اس عمر میں ہے کہ اسے اپنے دوستوں یا کزنز یا کلاس فیلوز سے ایسی گفتگو سننے کو ملتی ہو گی تو اس سے خواہ مخواہ باتیں چھپانے کا فائدہ نہیں ہے بلکہ اسے مہذب انداز میں کچھ معلومات دے دیں، چاہے کچھ چھپا بھی لیں تو بھی حرج نہیں۔

اور اگر تو معاملہ ایسا ہے کہ بچہ خود ہی ضرورت سے زیادہ شتونگڑا ہے یا اپنی عمر سے بڑا ہے یا بہت ذہین ہے تو ایسی صورت میں اس کو کبھی کبھار ڈانٹ دینے میں بھی حرج نہیں اگر تو وہ سوال اس کی عمر سے کافی بڑا ہے۔ اور کبھی اس کے سوال کا جواب دے دیا کریں۔ تو بچے کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ اس دنیا میں ہر سوال کا جواب موجود نہیں ہے جیسا کہ بڑوں کے پاس بھی کچھ سوالات کے جوابات نہیں ہیں۔ یہ سکھائے بغیر گزارا نہیں ہے۔ اس لیے بچے کے ہر سوال کا سیدھا جواب دینا بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اب بعض بچے تو ماں باپ سے یہ پوچھنا شروع ہو جاتے ہیں کہ آپ اتنی سردی میں نہاتے کیوں ہیں؟ تو کوشش کریں، بہت سے سوالات بچوں کو پیدا ہی نہ ہوں کہ ان کا پیدا ہونا ہی مناسب نہیں ہے یعنی والدین کی کوتاہی ہے۔

تو چاہے آپ کے پاس بچے کے ہر سوال کا جواب ہو لیکن یہ بہرحال حقیقت ہے کہ آپ کے کچھ سوالات کے جوابات آپ کے پاس بھی نہیں ہیں مثلا بچوں کا یہ سوال کہ اللہ تعالی کیسے ہیں؟ تو بچے کو ہر سوال کا جواب دینا نہ تو لازمی ہے اور نہ ہی ممکن ہے۔ لیکن ہر سوال پر چپ کرا دینا بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ بڑا ہو رہا ہے، یہ ایک حقیقت ہے لہذا اسے سوالات پیدا ہوں گے۔ آپ جواب نہیں دیں گے تو وہ باہر سے ڈھونڈ لے گا۔ تو بہتر ہے کہ آپ جواب دیں کہ آپ اس کے والدین ہیں۔ اور آپ بہتر طور جواب دے سکتے ہیں اور اسے مطمئن بھی کر سکتے ہیں۔

از حافظ محمد زُبیر