ظنز و مزاح

بچوں کی بلیک میلنگ

سلیم صاحب صبح صبح گھر آگئے‘ ان کے چہرہ غصے کی وجہ سے لال ہورہا تھا‘ میں گھبرا گیا‘ وجہ پوچھی تو پتا چلا کہ ان کے بیٹے کو پرائیویٹ سکول کی ٹیچر نے ڈانٹا ہے جس کی وجہ سے سلیم صاحب کو سخت ذہنی صدمہ پہنچا ہے۔ میں نے پوچھا میں کیا مدد کر سکتا ہوں؟ کہنے لگے”فوراً میڈیا میں یہ خبر چلواکر ٹیچر کو گرفتار کرواؤ“۔میں بوکھلا گیا……”لیکن سلیم صاحب ٹیچر نے صرف ڈانٹا ہے‘ کوئی جسمانی تشدد تو نہیں کیا“۔ وہ گرجے”جسمانی تشدد کیا ہوتا تو میں اسے قتل کرڈالتا‘ لیکن کیا بچے کو ڈانٹنا کوئی تشدد نہیں‘ بچے کا سارا اعتماد ختم ہوگیا ہے“۔ میں نے گہری سانس لے کر اثبات میں سرہلایا‘ انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور سمجھانے کی کوشش کی کہ اپنے زمانہ طالبعلمی میں ہم نے اپنے استادوں سے کتنی ماریں کھائیں ہیں لیکن ہمارا اعتماد تو ختم نہیں ہوا۔ وہ میری کوئی بات ماننے کو تیار نہیں تھے لہذا ناراضی سے اٹھ کر چلے گئے اور تھانے جاکر سکول ٹیچر کے خلاف درخواست دے دی۔ سنا ہے بعد میں سکول انتظامیہ سمیت ٹیچر نے ان سے گھر آکر معافی مانگی تب کہیں جاکر معاملہ رفع دفع ہوا۔ آج کل ان کا بیٹا بڑے اعتماد سے سکول جاتا ہے اور ٹیچر کی طرف طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرتاہے۔مجھے یاد ہے جب میں سکول میں پڑھتا تھا تو چھوٹی چھوٹی سی بات پر ماسٹر صاحب ڈنڈا اٹھا لیا کرتے تھے‘ تھپڑمارنا تو ان کا معمول تھا‘ لیکن کبھی کوئی بچہ گھر جاکر ماں باپ سے شکایت نہیں کرتا تھا۔ میں نے جب بھی ابا جی سے ماسٹر صاحب کی شکایت کی‘ انہوں نے الٹا دو تھپڑ مزید مجھے جڑ دیے کہ یقینا تم نے کچھ ایسا کیا ہوگا کہ ماسٹر صاحب کو تمہاری پٹائی کرنا پڑی۔

اُس دور میں والدین بچوں کو سرکاری سکول میں داخل کراتے وقت ماسٹر صاحب کو بطور خاص یہ جملہ کہا کرتے تھے”کھال آپ کی اور ہڈیاں ہماری“۔ اس کا سیدھا سیدھا سا مطلب ہوا کرتا تھا کہ ہمارے بچے کو انسان بنا دیں ……اُس وقت کے جو بچے انسان بنے وہ پھر ساری زندگی حیوان نہیں بن سکے۔آج کل پرائیویٹ سکولوں کا دور ہے‘ ماں باپ بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں اسی لیے کوئی بچہ فیل نہیں ہوتا۔ پرائیویٹ سکولوں والوں کو پتا ہے کہ اگر انہوں نے کسی بچے کو فیل کر دیا تو ان کے ہاتھ سے کمائی کا ایک ذریعہ نکل جائے گا۔ ہر ماں باپ کو خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ کلاس میں کوئی پوزیشن حاصل کرے‘ اس کا حل بھی پرائیویٹ سکول والوں نے نکال لیا ہے‘ پہلے پوری کلاس میں کوئی ایک بچہ فرسٹ پوزیشن حاصل کرتا تھا‘ آج کل پوری کلاس کو تین پوزیشنوں میں تقسیم کر دیا جاتاہے یعنی اگر بیس بچوں کی کلاس ہے تو دس بچوں کی فرسٹ پوزیشن‘ پانچ بچوں کی سیکنڈ پوزیشن اور پانچ بچوں کی تھرڈ پوزیشن……والدین بھی خوش اور سکول کی بھی موجیں ……!!!

”مار نہیں پیار“ کی پالیسی سرکاری سکولوں کے لیے تھی لیکن اس کا سب سے بہترین مظاہرہ پرائیویٹ سکول والوں نے کیا اور اب یہ حال ہے کہ چند ہزار تنخواہ پانے والے ٹیچرز بچے کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے۔انہیں سختی سے ہدایت ہے کہ بچہ لاکھ بدتمیزی کرے‘ ہوم ورک نہ کرے‘ سستی کا مظاہرہ کرے……بس آپ نے اسے پیار سے سمجھانا ہے۔ بچوں کو بھی اس قانون کاعلم ہوچکا ہے لہذا وہ بھی استاد سے خوفزدہ نہیں ہوتے بلکہ استاد کی بے بسی پر منہ چڑاتے نظر آتے ہیں۔

میرا دوست ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھاتا ہے اور بتاتا ہے کہ”بچے تو بچے‘ ان کے والدین بھی ہم پر اپنا حکم چلاتے ہیں۔ خود تو بچے کی تعلیم پر دھیان نہیں دیتے‘ ہمیں بھی سختی نہیں کرنے دیتے۔ ہم نے اپنے طور پر انتہائی مضحکہ خیز سزائیں ایجاد کر لی ہیں جنہیں سزائیں کہنا خود سزاؤں کی توہین ہے‘ مثلاً بچہ اگر ہوم ورک نہیں کر کے آیا تو اسے دس سیکنڈ کے لیے اپنی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ہی ہاتھ اوپر کرنے کا کہہ دیتے ہیں لیکن یہ سزا بھی بچوں کو اذیت ناک لگتی ہے اور جس بچے کو بھی یہ سزا دی جاتی ہے وہ اگلے دن اپنے والد صاحب کو ساتھ لے آتا ہے اور والدصاحب چیخ چیخ کر سکول کے درودیوار ہلا دیتے ہیں۔“

استاد کی حیثیت صرف ایک مشین کی رہ گئی ہے جس کا کام بچے کو نصابی کتابیں پڑھانا ہے۔ یہ مشین اگر اپنے جذبات کا اظہار کرے تو فالتو قرار دے دی جاتی ہے۔ آج کے دور میں استاد نہیں طالبعلم اہم ہوگیا ہے۔پرائیویٹ سکول والوں کو اُستاد تو ڈھیروں مل جاتے ہیں طالبعلم بڑی مشکل سے ملتا ہے‘ اسی لیے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ استاد کی بجائے طالبعلم کو اہمیت دی جائے۔یہ طالبعلم بچے اپنے استادوں سے بدتمیزی بھی کریں تو استاد کو اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اس پر کوئی ری ایکٹ کرے۔جو تربیت بچوں کو دینی چاہیے تھی وہ اساتذہ کو دی جارہی ہے اسی لیے بچے بے خوف اور اساتذہ خوف کی فضا میں اپنا کام کررہے ہیں۔مجھے یاد ہے ہمارے وقتوں میں بچوں کے والدین سکول انتظامیہ سے رابطے میں نہیں رہتے تھے‘ شائد اس لیے کہ ہمارے ماں باپ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے اور اساتذہ سے بات کرنے سے گھبراتے تھے۔ آج کل پڑھے لکھے والدین کا دور ہے جو ہر وقت سکول انتظامیہ کے کان کھائے رکھتے ہیں‘ ان کامطالبہ ہوتاہے کہ ان کے بچے میں جو بھی کمی ہے وہ سکول پوری کرے لیکن کچھ اس طرح سے کرے کہ بچے کو محسوس نہ ہو۔آج کا بچہ بھی پوری طرح سے ماں باپ اور ٹیچر کو بلیک میل کرنے کا ہنر سیکھ گیا ہے لہذا اب وہ مزے سے سکول جاتاہے اور بھاری فیس کے بل بوتے پر اپنی حکمرانی کے جھنڈے گاڑ کر گھر آجاتا ہے۔

لکھاری کے بارے میں

گل نوخیز اختر

گل نوخیز اخترایک پاکستانی کالم نگار اور مصنف ہیں انہوں نے مختلف ٹی وی شو کے لئے کام کیا ہے،

Loading...