معلومات

بچوں کا نام کیسے رکھا جائے؟

"نام”…. جو شرمندہ کر دیں”” یاد رکھئے نام انسان کی پہچان ہوتا ہے ، اسے رکھتے ہوئے غور و فکر کیجئے۔ بیشتر خواتین بچوں کے نام منتخب کرنے میں بھی وہی رویہ اختیار کرتی ہیں جیسا کہ لباس پسند کرتے وقت مثلاً جدید طرز کا ہو دوسروں سے منفرد ہو ، بھلا لگے اور خصوصاً ہمسائی کے بچوں سے بہتر ہو اور خاندان بھر سے الگ ۔خواتین لباس اور نومولود کو ایک ہی نظر سے دیکھتی ہیں۔ ایک صاحبہ نے فون پر بتایا اللہ نے آپ کی دعا سے بیٹا عطا فرمایا ہے ۔ ہم نے ایک نام تجویز کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ایّان ” آپ کی کیا رائے ہے ؟

ہم نے کہا : ۔۔۔۔۔ بھئ یہ کیا نام ہوا ؟ہمارے پڑوس میں بچی ہوئی تھی اس کا نام ایمان رکھا گیا ہے ہم نے سوچا ایان رکھ لیتے ہیں خاص بات یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کا لفظ ہے انھوں نے جواب دیا۔ ہم نے کہا بے شک قرآن مجید کا لفظ ہے, مگر ایمان بھی بطور نام باعث تعجب ہے, محترمہ بات کاٹ کر بولیں ” زیبا بختیار نے بھی تو اپنے بیٹے کا نام اذان رکھا ہے تو ایمان پر کیا تعجب ؟ ”عرض کیا ” بیٹی ایمان اور اذان کے بعد اگر نماز کو بھی نام بنا لیا جائے تو بیشک ترقی کی دلیل ہوگا ۔ مگر انفرادیت کے شوق میں معنویت کا بھی کچھ خیال رکھنا چاہئے ۔”پوچھا ” ایّان کے کیا معٰنی ہیں ؟ ” بتایا : ” کس وقت ” کب ” اب آپ سوچئیے کہ یہ نام کیسا رہے گا ؟ شکر ہے بات ان کی سمجھ میں آگئ ۔

ایک د ن کسی عزیز کے ہاں بیٹی کی پیدائش پر پھر وہی نام کا مسئلہ درپیش ہوا ۔۔۔۔ میاں بیوی کو دو نام کافی اچھے لگے اور اس پر متفق ہوئے ۔۔۔اولئیکَ اور تنزیلہ ”۔۔ نام کا مطلب پوچھا ؟ ۔۔۔تو ان کو بتایا ، یہ تو کوئی نام ہی نہیں ”اولیئک” کے معٰنی ہیں ”وہی لوگ” تو یہ نام کیسے ہو سکتا ہے ؟۔۔۔ تو ملائکہ ؟ یہ نام بھی قرآن پاک میں موجود ہے اب آپ کہیں گے یہ نام بھی نہ رکھو ”
عرض کیا : ملائکہ نام ہو سکتا ہے مگر تین بچیوں کا ۔۔۔۔ سب کا مشترکہ نام رکھ دیا جائے ۔۔۔۔۔ ملائکہ یٰعنی فرشتے تو موزوں رہے گا ، اب رہا تنزیلہ ۔۔۔۔ تو تنزیل مصدر ہے اور مذکر اور موئنث دونوں کے لئے استعمال ہو سکتا ہے ۔اس کی مزید تانیث ”تنزیلہ” نہیں بن سکتی۔ خواتین عام طور پر نام پہلے منتخب کر کے مٰعنی بعد میں دریافت کرتی ہیں۔

ایک صاحب نے کہا بیگم نے بچی کا نام ” لبنٰی پسند کیا ہے ۔عرض کیا ! لبنٰی ہے یا لبنہ ؟تو انھوں نے پوچھا دونوں میں کیا فرق ہے ؟۔۔۔ ان کو بتایا کہ لبنہ کا مطلب ہے کچی اینٹ اور لبنٰی کا مطلب دودھ سے بھری ہوئ ”۔ موصوف لاحول ولاقوۃ پڑھتے ہوئے رخصت ہوگئے۔ ناموں کا غلط انتخاب کبھی کبھی شرمندہ کر دیتا ہے۔یاد رکھئیے۔۔۔ نام رکھتے وقت بچوں کو بچہ نہیں بن جانا چاہیئے ۔نام انسان کی پہچان ہوتا ہے اور ساری زندگی اس کے ساتھ رہتا ہے چنانچہ اس چناؤ میں غورو فکر ضرور کیجئے۔ اگر ہم اپنے پاس پڑوس اور خاندان کے بعض ناموں میں معنویت کا کھوج لگائیں تو بمشکل ہنسی روک سکیں گے آئیے کچھ زنانہ ناموں پر نظر ڈالتے ہیں۔

شبانہ : خواتین میں مقبول نام ہے ۔ یہ فارسی لفظ ہے اور اس سے مراد ہے ہر وہ شئے جس کا تعلق رات سے ہو ، چاہے وہ پینے کی چیز ہو یا کھانے کی یا کچھ اور ۔۔۔۔ کیا یہ نام رکھنے میں بچی کی توہین کا پہلو نہیں نکلتا ؟ نوشین : بھی ایسا ہی نام ہے اس فارسی لفظ کے معٰنی ہیں ” خوش ذائقہ ” شیریں ” میٹھا ” ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ عموماً پینے کی چیز کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔صنم رومانوی نام ہے اس کے معٰنی ہیں ” بُت ” اب بتائیے ایک مسلمان بچی کا نام بت رکھنے میں کیا مصلحت ہے ؟

شمائلہ : یہ بھی بے معٰنی نام ہے عربی لفظ شمل واحد ہے جس کے معٰنی ہیں ” عادت ، خصلت ” شمائل جمع ہوا یعٰنی عادات خصائل ۔ اب اس کی موئنث کی ایجاد بندہ قسم کی غلطی ہے ۔شمسہ : ایک اور بے معٰنی نام۔۔ شمس مطلب سورج ۔۔۔ کیا سورج کی بھی موئنث ہو سکتی ہے ؟ ثاقبہ : ایک اور عجیب نام۔۔۔ ثاقب عربی لفظ ہے ۔سورہ طارق میں اس کی ترکیب آئی ہے ” النجم الثاقب ” ۔۔۔۔۔ نجم موئنث ہے تو معلوم ہوا کہ ثاقب بھی موئنث ہے پھر اس کی مزید موئنث بنانا کون سا قائدہ ہے ؟ ثاقب کے معٰنی ہیں چمکدار ۔

زبیدہ : اس کے معٰنی ہیں مدھانی ۔ تعلیم یافتہ خواتین کا فرض ہے کہ اپنے خاندان میں با معٰنی اور اچھے ناموں کو رواج دیں۔۔۔ اور خاص طور پر (پاکستانی ڈرامے دیکھ کر) الٹا سیدھا نام رکھنے سے ندامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔