بلاگ کالمز

بچوں کی پڑھائی، تربیت اور ان پر ظلم

والدین کی اکثریت بچوں پر ایک ایسا ظلم کرتی ہے کہ جو بظاہر ظلم نہیں ہے کہ اس میں جسمانی اذیت نہیں ہوتی لیکن بچوں کے لیے ذہنی اذیت بہت زیادہ موجود ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ اکثر والدین اپنے بچوں کو پڑھائی کے لیے پکڑ کر اپنے سامنے بٹھا تو دیتے ہیں لیکن خود لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ یا اسمارٹ فون پکڑ کر ان کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں کہ جس سے ان کی توجہ بچوں کی بجائے اسکرین پر زیادہ ہوتی ہے۔ بچے کی شکل پڑھائی کے بوجھ سے رونے والی ہوئی ہوئی ہے اور وہ فنی ویڈیو دیکھ دیکھ کر مسکرا رہے ہیں۔

اب اسکرین پر والدین کی یہ ایکٹوٹی کچھ بامقصد بھی نہیں ہوتی کہ عموما ڈرامہ یا ٹاک شوز یا فنی ویڈیوز دیکھنے میں مصروف ہیں یا بے مقصد اسکرولنگ کر رہے ہیں یعنی دوسرے الفاظ میں والدین تفریح طبع کے لیے اس ایکٹوٹی کے ذریعے وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں یا ٹائم پاس کر رہے ہوتے ہیں۔ اور بچہ کہ جس میں شعور کم ہوتا ہے، وہ یہ سوچتا ہے کہ والدین اس کی خوشی اور تفریح کے رستے بند کر کے خود عیاشی کرنے بیٹھ گئے ہیں۔ یہاں سے اس کے ذہن میں والدین کے لیے منفی سوچ (negative thinking) پروان چڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور پڑھائی کے حوالے سے بچے کا ذہن بند (stuck) ہو جاتا ہے کہ اس کا ذہن ایک الجھاؤ (complex) کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس کا حل کیا ہے؟ بہترین حل تو یہی ہے کہ جس کام پر بچوں کو لگایا ہے، والدین خود بھی اسی کام یعنی اس سے ملتے جلتے کام میں لگ جائیں۔ مثلا ان کو حفظ کا سبق یا منزل یاد کرنے پر لگایا ہے تو خود قرآن مجید اپنے ہاتھ میں پکڑ لیں۔ چلیں مکمل وقت گھنٹہ دو گھنٹہ نہ سہی لیکن شروع کے دس پندرہ منٹ ہی پکڑ لیں کہ تم اپنا سبق یاد کرو اور میں اپنا پارہ دہراتا ہوں۔ اس سے بچے میں منفی احساسات پیدا نہیں ہوں گے۔

کامیاب اور بہترین ماں وہ ہے جو بچوں کو پڑھائی پر بٹھانے کے بعد خود ان کے ساتھ بیٹھ کر انہیں مکمل توجہ دے، ان کی بات سنے، ان کے مسائل دیکھے، ان پر غور کرے، انہیں حل کرنے کے لیے بچوں سے بات چیت کرے۔ کچھ والدین بچوں پر اس طرح سختی کرتے ہیں کہ اب یہ سبق دے دیا تو تمہیں ابھی یاد کر کے سنانا ہے۔ والدین کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آپ کا بچہ کچھ سیکھ جائے، اس کے لیے صرف اس کا باصلاحیت ہونا کافی نہیں ہے بلکہ آپ کا حکیم (wise) ہونا بھی ضروری ہے۔

والدین یہ سوچ کر بچے پر بوجھ ڈالتے ہیں کہ بچے میں یہ صلاحیت ہے کہ اتنے وقت میں اتنا سبق یاد کر سکتا ہے لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ بچہ اگر آپ کی ہدایات (instructions) کو ذہنی اور دلی طور قبول نہ کرے گا تو اس کا آدھا بھی یاد نہ کر پائے گا کہ جس کی اس میں صلاحیت ہے۔

تو بچے سے آپ بہترین نتیجہ (output) اسی وقت وصول کر سکتے ہیں جب کہ آپ کا ذہن اور اس کا ذہن ہم آہنگ ہو جائے یعنی وہ آپ کی بات سے قائل (convince) ہو جائے۔ اور اس کے لیے آپ کو اس سے بات چیت کرنی ہے، سمجھنے سمجھانے کے دو طرفہ (bilateral) انداز میں نہ کہ جھاڑ پلانے اور ڈانٹ دینے کے یک طرفہ (unilateral) اسلوب میں۔ بچے کو کسی چیز سے روکنے کے لیے ڈانٹے کا اسلوب کامیاب ہے لیکن بچہ کچھ حاصل کر لے تو یہاں قائل کرنے کا اسلوب ہی کام آ سکتا ہے۔ آپ کے چیخنے چلانے سے وہ کسی کام سے رک تو سکتا ہے لیکن کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔