ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

زیادہ عمر کے بچوں کا بستر میں پیشاپ نکلنا اور اس کا علاج

بستر میں پیشاپ نکلنا ایک طبی مسلہ ہے جسے انگریزی میں بیڈ ویٹنگ (Bed Wetting) اور طبی اصطلاح میں ناکٹرنل اینیو ریسس (Nocturnal Enuresis) کہا جاتا ہے۔  چار پانچ سال تک کے بچوں کا بستر میں پیشاپ نکلنا نارمل بات ہے۔ مسلہ اس وقت ہوتا ہے جب زیادہ عمر کے بچوں کو بھی یہی شکایت ہوتی ہے۔ اس مسلے سے نہ صرف بچہ خود، بلکہ اس کے والدین بھی پریشان ہوتے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے والدین اس مسلے کو صحیح طریقے سے ہینڈل نہیں کر پاتے جسکی وجہ سے بچے کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کیفیت کو تفصیل سے سمجھا جائے۔

مثانے اور پیشاپ کی نالی جہاں ایک دوسرے سے جڑتی ہیں، وہاں پیشاپ کے اخراج کو کنٹرول کرنے کے لئے دو طرح کے والو، جن کو سفنکٹر کہا جاتا ہے، موجود ہوتے ہیں۔ ان میں سے پہلا سفنکٹر ہمارے غیر ارادی یا آٹو نومک نروس سسٹم کے تحت جبکہ دوسرا سفنکٹر ہمارے ارادے کے تحت کام کرتا ہے۔ مثانے کے بھر جانے کی صورت میں پہلا سفنکٹر خود بخود کھل جاتا ہے تاکہ پیشاپ کو جسم سے خارج کیا جا سکے۔ جبکہ دوسرا سفنکٹر اس وقت تک نہیں کھلتا جب تک ہمیں پیشاپ کے لئے کوئی مناسب جگہ نہیں مل جاتی اور ہم خود پیشاپ کو جسم سے خارج کرنے کا ارادہ نہ کرلیں۔

اس دوسرے والے کا کنٹرول ہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ماحول اور تربیت سے سیکھتے ہیں۔ چھوٹے بچوں میں اس دوسرے سفنکٹر کا ارادی کنٹرول اتنا موثر نہیں ہوتا، اس لیے وہ کہیں بھی، کبھی بھی پیشاپ کر دیتے ہیں۔ زیادہ عمر کے جن بچوں میں رات کو بستر گیلا کرنے کی شکایت پائی جاتی ہے، اس کی ایک وجہ عمر بڑھنے کے باوجود اس والو کا مکمل کنٹرول نہ کر پانا ہے۔

اس کے علاوہ رات کو گردوں کا فعل کم کرنے اور پیشاپ بننے کے عمل کو روکنے کے لئے ہمارے اینڈو کرائیںن یا ہارمونل سسٹم سے ایک ہارمون نکلتا ہے جسے اینٹی ڈایوریٹک ہارمون یا اے ڈی ایچ کہتے ہیں۔ اس ہارمون کی کمی کی صورت میں بھی بچوں اور بڑوں میں رات کو بستر گیلا کرنے کی شکایت ہو سکتی ہے۔ رات کو پیشاپ آنے کی دیگر وجوہات میں شوگر، پیشاپ کی نالی کی انفیکشن، یا مثانے کے مسلز کی کمزوری شامل ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں میں زیادہ امکان انفیکشن (یو ٹی آئی) کا ہوتا ہے۔

اس کے علاج کے لیے حسبِ ضرورت اینٹی بائیوٹک ادویہ کے علاوہ دو تین طرح کی ادویات دستیاب ہیں جن کا عمومی ذکر یہاں کیا جائے گا، مخصوص دواؤں کی نام نہیں بتلائے جا سکتے۔  ۱- ٹرائی سائیکلک اینٹی ڈپریسنٹ ایسی دوائیاں ہیں جن کے سائیڈ ایفیکٹ کے طور پر پیشاپ کا اخراج کم ہوجاتا ہے۔ ایسے بچوں میں ان ادویات کے اسی سائیڈ ایفیکٹ کو علاج کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کم مقدار والی دوائیاں دی جاتی ہیں۔

۲- اینٹی ڈائیوریٹک ہارمون یا ویزو پریسين پر مبنی ادویات جو رات کے وقت پیشاپ بننے کے عمل کو کم کرتی ہیں، قدرتی اے ڈی ایچ کی طرح۔ ۳- مثانے کے مسلز (Detrusor) کو پرسکون رکھنے والی ادویات، تاکہ مثانہ پوری طرح بھر جانے سے پہلے ہی خالی کیے جانے پر اصرار نہ کرے۔ یہ دوائیاں عموماً بڑوں کے لئے ہوتی ہیں لیکن ڈاکٹر بوقت ضرورت بچوں کو دینے کا بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔

اب جبکہ یہ واضح ہو گیا کہ یہ ایک طبی مسلہ ہے اور اس کا مناسب علاج موجود ہے، والدین کے ایک غیر مناسب رویے کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ اکثر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچے کو اگر دوسروں کے سامنے اس عمل پر شرمندگی یا عار دلائی جائے تو وہ بستر میں پیشاپ کرنے سے باز آجائیں گے، یہ مکمل طور پر غلط ہے۔ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ یہ مسلہ بچوں کے اختیار میں نہیں ہوتا اور وہ اس کی وجہ سے خود بھی پریشانی اور شرمندگی کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر آپ انہیں مزید شرمندہ کریں گے تو ان کی شخصیت تباہ ہو کر رہ جائے گی۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ اس قسم کی تکلیف ہونے کی صورت میں بچے کو یورولوجسٹ ڈاکٹر یا فزیشن کے پاس لے جایا جائے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ بچے کے اعتماد کو تباہ ہونے سے بچایا جائے اور اسے کسی ایسی چیز کا زمہ دار نہ ٹھہرایا جائے جس میں اس کا کوئی قصور یا مرضی شامل نہیں۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...