ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

بچّوں کے حق میں تعمیرِ کردار کیا ہے؟ کیسے کریں؟

تعمیرِ کردار بیشتر اپنا ہے۔ نہ کہ بچّے کا۔ یاد رہے، قرآن پڑھانا تعمیرِ کردار نہیں ہے۔ پھر دوہرا دوں۔ قرآن پڑھانا تعمیرِ کردار نہیں ہے۔ اسلامک لٹریچر پڑھانا تعمیرِ کردار نہیں ہے۔ وہ تو بس ریڈنگ ہے، جو بہ جبر میرے بچّے بھی کر رہے ہیں، آپ کے بھی، اور ہر مسلمان گھرانے کے بچّے۔ پھر تعمیرِ کردار کیا ہے؟

بچّے کو ہوم ورک کرانے بیٹھا، اُسےدس بار ایک ہی بات بتانے والا والد یا والدہ اگر اپنی ٹون سخت نہ ہونے دے، محبّت کی حدّت برقرار رکھے، اور پھر بھی نکتہ سمجھ نہ آنے پر ٹمپر لُوز نہ کرے، بلکہ زیرِ لب تبسّم کیساتھ بچّے کو اپنے حال پر چھوڑ دے یہ کہہ کر کہ چلو کچھ دیر بعد یا کل پھر ٹرائی کریں گے، نو پرابلم بیٹا! ـــ تو یہ تعمیرِ کردار ہے۔ چونکہ بچّے نے آپ کو ہمیشہ سچ بولتے دیکھا، آپ نے کبھی جھوٹ بولا ہی نہیں، نتیجتاً وہ سچ ہی بولے گا۔ بچّہ سخت ترین صورتحال میں بھی سچ بول کر اُس کے "نقصانات” کی برکتیں اپنی آنکھوں دیکھ پڑھ لے تو یہ تعمیرِ کردار ہے ۔

رات سونے سے قبل آپ دانت برش کریں، تب آپ کے کہنے پر آپ کی پیروی میں آپ کا بچہ بھی، تو یہ تعمیرِ کردار ہے۔ آپ اپنی چند ایک رُوٹینز بلا ناغہ نبھا رہے ہوں، بچّے کے دل و دماغ میں یہ امیج ٹھونس ٹھونس کر جما رہے ہوں تو یہ تعمیرِ کردار ہے۔

آپ ہر روز کوئی کتاب اُٹھائے ریڈنگ کرتے نظر آئیں۔ سالہا سال آپ کا بچّہ دیکھے جائے کہ آپ کتاب کیساتھ چمٹ کر اُسے دس یا پندرہ روز میں ختم کر ڈالتے ہیں، تعمیرِ کردار ہے۔ آپ وقت کے پابند نظر آتے ہیں تو یہ بچے میں تعمیرِ کردار ہے۔ یہ ایک قدر، ایک انمول value ہے جو آپ نے اُس اندر بھی اسی درجہ انجیکٹ کر دی۔ آپ مشکل میں گھبرا جانے کی بجائے صبر و عزیمت کا نمونہ بنے نظر آیا کرتے ہیں، تعمیرِ کردار ہے۔ پ خلافِ مزاج بات پر چنگھاڑتے نہیں، آپ کے بچّے نے آپ کو شاذ ہی کبھی shout کرتے دیکھا، آپ غصہ پی جانے والوں میں سے ہیں تو یہ تعمیرِ کردار ہے۔بچہ کبھی آپ کی زبان سے گالی نہ سُنے ، تعمیرِ کردار ہے۔ بچّے نے آپ کی زبان اور آپ کے اندازواطوار میں طعن و تشنیع، تضحیک، دھمکی، ناشکری ، عجلت پسندی، بدگوئی اور فضول گوئی و فضول کاری نہیں دیکھی۔ یہ بچّے کے حق میں تعمیرِ کردار ہے۔

بچّے نے آپ کو ریگولر واک کرتے پایا، تعمیرِ کردار ہے۔ آپ بچے سے کوئی وعدہ کر کے پورا کردیں، یا کم از کم سرتوڑ مخلصانہ کوشش کرتے نظ آئیں، تعمیرِ کردار ہے۔ (ویسے یاد رہے، ایک دانشمند شخص کبھی وعدہ نہیں کرتا۔ مسلمان کبھی وعدہ نہیں کرتا ۔ اُسے معلوم ہے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کونسا کام کب، کیوں پورا ہوگا، یا نہیں ہو گا۔ اس لئے وہ انشاللہ کہہ کر کوشش کرنے کی بات کرتا ہے۔)

آپ کے بچّے نے کبھی نہ دیکھا آپ راہ چلتے تُھوکا کرتے ہیں، تعمیرِ کردار ہے۔ آپ کبھی کوئی ریپر وغیرہ ڈسٹ بِن/ٹریش کین سے باہر نہیں پھینکتے، کبھی نہیں! ــــــ بچّے کے حق میں تعمیرِ کردار ہے۔ گھر میں آپ ایک دوعدد کام ہمیشہ خود کیا کرتے ہیں، جیسے کپڑے استری کرنا، تعمیرِ کردار ہے۔

آپ ہر جمعہ والے روز، ہر بارہ ربیع الاوّل پر100 مرتبہ درود شریف پڑھا کرتے ہیں، بچّے نے ساری زندگی آپ کو یہ کرتے دیکھا ہے، اُس کے حق میں تعمیرِ کردار ہے۔ آپ ہر پیر، جمعرات اور جمعہ کو ایک رکوع تلاوت کلامِ پاک اپنے والدین کو ایصال ثواب کیا کرتے ہیں، اِس میں کبھی ناغہ نہ کیا، تعمیرِ کردار ہے۔

آپ ہر ہفتے دوعدد معلوماتی ویڈیوزدیکھا کرتے ہیں۔ اِس مقصد کے لئے آپ نے دو تین عدد یوٹیوب چینلز سبسکرائب کر رکھے ہیں۔ اسی طرح ایک دو عدد ویب سائٹس پر سے معلوماتی آرٹیکلز کی ریڈنگ کا اہتمام کیا کرتے ہیں بچوں کیساتھ مل کر، اور اُن پر اُن سے بات کیا کرتے ہیں، تعمیرِ کردار ہے۔ اسی طرح، آپ ریگولر کچھ سلسلوں سے جڑے رہتے ہیں، بچّے کے حق میں تعمیرِ کردار ہے۔ تعمیرِ کردار خود آپ کا اپنا لائف سٹائل ہے۔ اگر اُس میں قَد اَفلَحَ مَن زَکّٰھا کا تڑکا لگا ہے تو پھر کوئی فکر نہیں۔ اگر نہیں، تو نہیں!

آپ اور آپ کی اہلیہ بچوں کی پڑھائی میں جوش و خروش بھرنے کو جتن کیا کرتے ہیں، تعمیرِ کردار ہے ـــ کہ اس عمل میں صبر، پیار، اخلاق سے پیش آنا، ٹمپر لُوز نہ کرنا اُس کے حق میں تربیت ہے۔ اسی سے تقویت پا کر بچہ ایک حوصلہ مند اور با اخلاق انسان کے بطور ابھرے گا۔ اس کا یہ حوصلہ، صبر، اخلاق اگلی نسل تک منتقل ہو گا — پھر نسل در نسل چلے گا۔ جب اس کے اپنے بچپنے کے خمیر میں والدین کی ایسی توجہ اور محبت کا رَس پڑ جائے گا، تو خاطر جمع رکھیں کہ اس کے بچوں کا بچپنا بھی ایسی ہی خوشگوار فضا میں تعمیر ہوگا۔ ایسے بچے ہی والدین سے شدید محبت رکھنے والے، اُن کا احترام کرنے والے، اُن کے حق میں دُعا کرنے والے، اُن کے حق میں صدقہِ جاریہ ہوا کرتے ہیں۔ انہیں ان کے بچپنے سے جوانی تک ماں باپ کی توجہ اور محبت کی حِدّت میسر رہی ہوتی ہے۔۔۔۔ ڈھیروں دعائیں!

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...