اسلام

بابا فرید رح کا ایک قصہ، دل جوئی نے دل جیت لیا

حضرت سیدنا فصیح الدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کئی علوم پر عبور حاصل تھا بلکہ ایک موقع پر تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی علمی صلاحیت کا لوہا دہلی کے علما ء سے بھی منوالیا تھا ۔ اسی لیے پہلے آپ کسی اور عالم کو خود سے برتر نہ سمجھتے تھے ۔ ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیدنا فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا امتحان لینے پاک پتن آئے اور آپ کی بارگا ہ میں آکر مناظرانہ انداز میں سوالات کرنے لگے ۔

حضرت سیدنا فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمناظرانہ انداز پسند نہیں فرماتے تھے لہٰذا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خاموش رہے لیکن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مریدِ کامل حضرت سیدمحمد نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے رَہا نہ گیاانہوں نے تمام سوالات کے نہایت مدلل جوابات دیے جس سے حضرت سیدنا فصیح الدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو سخت شرمندہ ہوکر واپس لوٹنا پڑا ۔ ان کے جانے کے بعد حضرت سیدنا فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی جانب متو جہ ہوئے اور ناراضی سے ارشاد فرمایا : آپ کے یوں جواب دینے سے ان کی دل آزاری ہوئی ہے کیوں کہ مولانا فصیح الدین پِندار ِعلم میں مبتلا تھے اور اس کے ٹوٹنے سے انہیں سخت تکلیف ہوئی ،جائیے اور ان کی دل جوئی کیجیے ۔

حضرت سیدنا نظام الدین اولیا ء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے فوراً حضرت فصیح الدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس تشریف لائے اور معذرت کی ۔ آپ کی معذرت پر حضرت فصیح الدین نے کہا : ”مولانا !آپ معذرت کیوں کررہے ہیں ؟آپ نے تو بالکل درست جوابات دیے تھے ۔ “حضرت سیدنا نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : دراصل حضرت سیدنا فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آپ کی دل جوئی کو میرے جوابات پر ترجیح دیتے تھے اسی لیے میرے جوابات دینے پر ناراض ہوئے اور مجھے معذرت کرنے کا حکم فرمایا ۔یہ سن کر حضرت سیدنا فصیح الدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بہت متأثر ہوئے اور حضرت سیدمحمد نظام الدین اولیا ء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ پاکپتن حاضر ہوئے اور بیعت کی التجا کی ۔ حضرت فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : میں اس شر ط پر مرید کرتا ہوں کہ آپ اپنا پندارِ علمی باہر نکال دیجئے اور آئندہ کسی سے بھی بحث و مناظر ہ نہ کیجیے ، قرآنی حکم کے مطابق تبلیغ ِ حق حکمت سے ہونی چاہیے نہ کہ دباؤ سے ۔ بحث و مناظر ے میں شکست کھانے کے بعد دل میں ضد و نفرت پیدا ہوتی ہے اورحق قبول کرنے کی توفیق جاتی رہتی ہے پھر اس دروازے کو کھولنے میں بڑی دیر لگتی ہے ۔

اس کے بعد حضرت سیدنا فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فارسی اشعار میں جو نصیحت فرمائی اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے : ”مانا کہ آپ رات بھر نمازیں پڑھتے ہیں اور دن کو بیماروں کی تیمارداری کرتے ہیں لیکن یا د رکھیے جب تک آپ اپنے دل کو غصہ و کینہ سے خالی نہیں کریں گے تو یہ سب کچھ کرنا ایسا ہی ہوگا جیسے ایک کانٹے پر سینکڑوں پھولوں کے ٹوکرے نچھاور کردیے جائیں ۔ “یہ سن کر حضرت مولانا فصیح الدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بحث و مناظرہ سے تو بہ کی پھرحضرت سیدنا فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آپ کو مرید فرما لیا ۔
انوار الفرید، ص۲۲۴ بتصرف